آپ بیتیاُردو ادب

سیل سیل سیل / ملک اسلم ہمشیرا

24اکتوبر کو بھئی فیاض کی عیادت کے سلسلے میں بہاول وکٹوریہ ہسپتال جانا ہوا، شام تک ہسپتال کے گھٹن ذدہ ماحول سے اکتا کر تھوڑی دیر چہل قدمی کی نیت سے باہر نکل آیا۔۔۔۔۔۔۔
مین روڈ پہ آ کر پیدل ہی فرید گیٹ کی جانب چل پڑا ،راستے میں کئ مرتبہ رکشے والوں نے ایسے آوازیں کسیں جیسے اکیلی دوشیزہ کو دیکھ کر اوباش جملے کستے ہیں۔۔۔۔۔۔گھدی جلوں؟
چاتی جلوں؟
چڑھائی ونجاں؟
اغیرہ وغیرہ ۔۔۔
مگر میں نے کمال بے نیازی سے اپنی شال کا پلو کسی ٹھاکر کی طرح لہرا کر اپنے دوسرے کندھے پہ ڈالا اور ھاتھ کے اشارے سے اسے کہا ونج ونج کم کر۔۔۔۔(جاؤ بھئ اپنا کام کرو)تاکہ انہیں پتہ چلے کہ عالم پناہ آج پیادہ پا سیر کا شوق فرما رھے ہیں مگر وچلی گل یہ تھی کہ پیسے۔۔۔۔۔۔آگے آپ خود سمجھدار ہیں۔۔۔۔
راستے میں آنے والی چند لنڈے کی ریڑھیوں کو اتھل پتھل کیا ،پھر تین چار پٹھانوں کو زچ کرنے کا فریضہ انجام دینے کے بعد آخر کار فرید گیٹ جا پہنچا۔۔وہاں سے اندر بازار کی طرف چکن تکے،مچھلی فرائی۔۔اور انواع اقسام کے کھانوں کی اشتہا انگیزیاں چیتا رلا رہی تھیں میں نے مچھلی فرائی ،چکن کڑھائی ،چکن تکے کا ریٹ پوچھ کر ایک شامی لی اور وہیں بنچ پر براجمان ہو گیا۔۔۔شامی سے نبردآزمائی کے دوران تین چار گداگروں سے معافی کا خواستگار ہوا۔۔۔ایک پالش والا تو گلے پڑ گیا خیر بیس روپے میں بات طے ھو گئی۔۔۔،
بیس کی پالش تیس کی شامی پورے پچاس کی بلی چڑھا کر فرید گیٹ سے نکلا تو سامنے روشنیوں میں نہائی ہوئی باٹا سروس کی دکان تھی۔۔۔۔جس پر موسم سرما کی آمد کے بابرکت دنوں میں سفید پوش طبقے کے لیے جوتوں سے استقبال کے نام پر ۔۔۔۔۔۔جوتوں پر 50 تا 70فیصد بچت کی سیل لگی ہوئی تھی۔۔۔۔
۔
چنانچہ سیل دیکھتے ہی میں انڈیا کے جہاز کی طرح وہیں زمین بوس ہو گیا دکان کے اندر قریب قریب تین طرح کی درجہ بندیاں کی گئ تھیں جہاں اؤل گوشے میں پوری قیمت دوئم گوشہ میں 50فیصد جبکہ آخری گوشہ پر موجود جوتوں پر 70فیصد بچت کی آفر لگی تھی۔۔۔
ویسے تو دکان والوں کا معروف طریقہ واردات یہی ھوتا ھے کہ 2500والے جوتے کا ریٹ 4000لکھ دیا اور 50فیصد رعایت فرما کر قیمت اسی اوقات پہ لے آتے ہیں۔۔۔۔بہرحال ۔۔۔۔۔۔۔۔
سمجھ کے ہر اک راز کو
مگر فریب کھائے جا ۔۔۔۔۔
کے مصداق کسی مناسب جوتے کی دریافت شروع ہو گئ۔۔۔۔
دیکھتے دیکھتے 50فیصد والی سیل میں پڑی اچانک ایک براؤن رنگ کی جوتی کی ذلف تسمئہ تار کا اسیر ہو گیا۔۔ چنانچہ فوراً خود ساختہ لکھی گئ قیمت دیکھی۔۔۔ تو ناصرف ھاتھوں کے طوطے اڑ گئے بلکہ کاں لالیاں اور شکرے بھی اڑ گئے۔۔۔قیمت پورے 3999روپے۔۔۔۔
چنانچہ اس نایاب جوتے کو گھیر گھار کر 50فیصد والی سرحد پار کروا کر 70فیصد والی پاک سرزمین پر لے آیا۔۔۔۔۔چنانچہ سیاسی طور پر مختلف جوتے دیکھنے کی اداکاری فرمائی اور آخر کار جس طرح گھاگ مداری بین بجاتے بجاتے سانپ کو دبوچ لیتا ھے اسی طرح دوسرے جوتوں پر سرسری ھاتھ پھیرتے پھیرتے اسی بدقماش جوتے کو دبوچ لیا ۔۔۔ دکاندار جو کہ تجاھل عارفانہ کی تصویر بنا یہ سب دیکھ رھا تھا میری پاپوش شناسی پر عش عش کر اٹھا۔۔۔۔۔ عرض کیا حضور کس دانے پہ ھاتھ رکھا یہی جوتا ٹھیک ایک ماہ بعد 4000کا سیل ھو نا ھے ۔۔۔۔میں نے بھی داد طلب نگاھوں سے دکاندار کو دیکھا ۔۔۔۔اس نے 70 فیصدی تناسب سے مجھ سے رقم مبلغ 1200صد روپے سکہ رائج الوقت جس کا نصف 6صد روپے ہوتے ہیں وصول پائی اور نایاب جوتے تھمائے تاکہ وقت سردی کام آویں۔۔۔۔
اپنی قسمت میں لکھا جوتا لے کر شال کے پلو کو ایک مرتبہ پھر لہرا کر بائیں کندھے پر ڈالا اور نوابی چال چلتا ھوا بڑے فاخرانہ انداز میں ویگن پہ بیٹھا اور گھر چم پت ھو گیا ۔۔۔۔۔
اگلے دن جرابیں زیب تن کیں اور چار ہزاری جوتوں سے لیس ہو کر ڈیوٹی پر پہنچا ،دفتر کے باہر ہی مٹی جھاڑنے کے بہانے پیر پٹخے تاکہ احباب کو بجانب من پاپوش متوجہ کیا جا سکے ،سعی با حاصل رہی سبھی نے جوتے کی بابت معصوم سوالوں کی بوچھاڑ کردی کہ کتنے دا ماری؟کتھوں دب آئیں؟ مسیت وچوں تاں نی چھک آیا؟ مل گھنڑ آلا تاں کائنوی؟

میں نے لاکھ بتایا کہ چار ہزار کا لیا ھے ۔۔تین سال گارنٹی ھے۔۔۔مگر مچھ کی کھال کا ھے۔۔۔امپورٹڈ ھے، برانڈڈ ھے مگر ظالموں نے یقین نا کیا۔۔۔۔۔مگر مجھے کیا میں نے تو ناصرف دکاندار کو الو بنایا تھا بلکہ تمام مدرسین پر اپنے پاپوش فہمی کی دھاک بھی بٹھا دی تھی۔۔۔۔
سکول سے واپسی پر گھر بیٹھتے ہی اس برانڈڈ جوتی کے تسمے کھولے ،جوتی کی ایڑی سے پکڑ پاؤں باہر نکالا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے چودہ پندرہ سولہ طبق بجھ گئے۔۔۔۔۔ جوتی سرکار کی نچلی منزل میرے ھاتھ میں تھی ۔۔۔اوپر والی منزل میرے پاؤں پہ لپٹی ھوئی تھی جیسے کہہ رہی ھو۔۔۔دل آھدا ھے تیرے پیر چماں۔۔۔۔
فوراً جوتی کے دوسرے پیر کا معائنہ کیا تو توقع کے عین مطابق بائیں طرف سے باچھیں کھول کر مجھ پہ مسکرا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x