Blogs

میر کی غزل نے کیسے جان لے لی؟ مکمل شرح اور معنی جانیں

میر کی غزل نے کیسے جان لے لی؟ مکمل شرح اور معنی جانیں

غالب نے اردو غزل میں زندگی کے ہر رنگ کو سمو دیا۔ ان کی شاعری میں عشق و محبت کے ساتھ ساتھ سوالات اور ظرافت بھی ملتی ہے۔ غالب کے کلام میں ڈوب کر فکر و نظر کی نئی دنیا دریافت کریں۔

غالب نے اردو غزل میں محبت اور خوبصورتی کے ساتھ زندگی کے تمام پہلوؤں کو شامل کیا۔ ان کی وجہ سے اردو غزل کا کینوس بہت وسیع ہو گیا۔

غالب فارسی میں بہت مشغول تھے، اس لیے اپنے ابتدائی اشعار میں وہ مشکل الفاظ استعمال کرتے تھے اور ان کی تخیل کی پرواز ایسی تھی کہ…”یا تو تم (غالب) سمجھو یا خدا سمجھے”۔ بعد میں، انہوں نے اپنی شاعری کو آسان کر دیا اور اس طرح شاعری کے شائقین کے لیے اسے سمجھنا بہت آسان ہو گیا۔

غالب فلسفی نہیں تھے لیکن انہوں نے اپنے اردگرد کی چیزوں پر سوال اٹھائے۔ "جب تیرے سوا کوئی نہیں ہے تو اے خدا یہ ہنگامہ کیا ہے؟”

جبکہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے

ان کی تحریروں میں شوخی بھی پائی جاتی ہے، وہ ہر چیز اور ہر کسی کا مذاق اڑاتے ہیں، بشمول اپنے آپ کے۔ "جب عورتیں لاکھوں سال پرانی ہیں تو میں اس جنت کا کیا کروں گا!”

غالب کے اشعار نہ صرف دل پر فوری اثر کرتے ہیں بلکہ آپ کو سوچنے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

3 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
@SulemanKhan-c3c
2 months ago

استاد جی اپ کی قدر کا لوگوں کو پتا نہیں ہے اپ بہت زیادہ قدر دان ہو اللہ اپ کو ہمیشہ خوش رکھے

@SulemanKhan-c3c
2 months ago

استاد جی اپ کا سمجھنا بہت اچھا لگتا ہے اور ہر بات سمجھ میں أ جاتی ہے

@ajeetsingh8683
2 months ago

Afreen

Related Articles

Back to top button
3
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x