اُردو ادباُردو نثرتبصرہ کتب

انمول داستان حیات/ تبصرہ : کنول بہزاد

کتاب : انمول داستان حیات
مصنف : رانا محمد کفیل احمد

تبصرہ : کنول بہزاد

فیس بک کے پلیٹ فارم نے دنیا بھر میں موجود اردو کے ادبا سے رابطے میں اہم کردار ادا کیا ۔۔۔دنیا واقعی اب گلوبل ولیج بن گئی ہے ۔۔۔ان میں جاوید اختر چودھری صاحب بھی ہیں جن کا تعلق جہلم کی تحصیل سوہاوہ سے ہے اور عرصہ دراز سے انگلینڈ میں مقیم ہیں۔۔۔آپ ایک نامور ادیب ہیں ۔۔۔

انہی کے توسط سے رانا محمد کفیل احمد صاحب سے تعارف ہوا ۔۔۔آپ آئرلینڈ میں مقیم ہیں ۔۔۔آپ نے اپنی یہ کتاب ہمیں تحفتاً بھیجی۔۔۔جو ان کی زندگی کی جدو جہد سے عبارت ہے ۔۔۔

ایک طرح سے یہ ایک دستاویز ہے جو انہوں نے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر دی ہے۔۔۔ کیونکہ ان کے خیال میں نئی پود اپنے آباؤ اجداد اور پاکستان سے اتنی واقف نہیں ۔۔۔اس لیے یہ آپ بیتی لکھنا ضروری ٹھہرا ۔۔۔
آپ کا خاندان ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آیا اور جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں سکونت اختیار کی۔۔۔ گھر کا ماحول بڑا پاکیزہ تھا ۔۔۔وضع داری ، قناعت پسندی خاندان کا خاصہ تھی ۔۔۔بچوں کو دینداری کے ساتھ ساتھ اچھے اخلاق اور انسانیت سے محبت کی تربیت دی جاتی تھی ۔۔۔والدہ کی سادگی اور دینداری کا یہ عالم تھا کہ ٹی وی پر حضرات کو دیکھ کر پردے کا اہتمام کرتی تھیں ۔۔۔مہمان نوازی ان کی گھٹی میں شامل تھی۔۔۔

بھائیوں نے مل کر سوہاوہ میں متعدد کاروبار کیے مگر کم ہی پنب پائے ۔۔۔تب رانا محمد کفیل احمد نے یورپ جا کرقسمت آزمانے کا فیصلہ کیا ۔۔۔مگر وسائل کی کمی کے باعث بہت مشکلات جھیلیں ۔۔۔لیکن ذرا بھی نہ گھبرائے کیونکہ آپ تقدیر کے ساتھ ، عزم و ہمت اور تدبیر پر بھی یقین رکھتے ہیں ۔۔۔

مجھے ان کی اس داستان حیات نے واقعی متاثر کیا ۔۔۔ایک عام انسان جب قلم اٹھاتا ہے اور اپنی زندگی کی کہانی لکھتا ہے تو وہ بڑی بے ساختہ اور سچی ہوتی ہے ۔۔۔اس میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے ۔۔۔

آپ کی یہ داستان دلچسپ بھی ہے اور سنسنی خیز بھی ۔۔۔سنسنی خیز اس لیے کہ آپ نے اپنی زندگی داؤ پر لگا کر یورپ کے کئی ممالک کے سفر کیے ۔۔۔اور ایک نہیں کئی بار ڈی پورٹ بھی کیے گئے ۔۔۔مگر ہمت نہ ہاری ۔۔۔ان ممالک میں ملائیشیا ، اٹلی ، سپین ،تھائی لینڈ ،فرانس ، دبئی ، جارجیا اور آئرلینڈ شامل ہیں ۔۔۔اس حوالے سے یہ کتاب متنوع معلومات کا خزانہ ہے ۔۔۔آپ کا مشاہدہ اور یاداشت کمال کی ہے۔۔۔آپ مختلف ممالک کے لوگوں کے رویے ، ان کی تہذیب ،ان کے رسم و رواج کا ذکر تفصیل سے کرتے ہیں ۔۔۔منظر کشی بھی خوب کی گئی ہے ۔۔۔جو ان کی حس لطیف کا پتہ دیتی ہے ۔۔۔

اسلامی تاریخ سے روایات اور واقعات کا تذکرہ بھی بار بار ملتا ہے ۔۔۔جو ان کا اپنے مذہب سے لگاؤ کا اظہار ہے۔۔۔

کتاب میں برمحل اشعار کا استعمال بھی خوب ہے جو ان کے ادبی ذوق کا عکاس ہے ۔۔۔

آپ نے زندگی کی کٹھنائیوں کے آگے ہار نہیں مانی اور بالآخر سپین میں سکھ کا سانس لینے کا موقع ملا ۔۔۔یہاں آپ کئی برس مقیم رہے ۔۔۔کمایا ، دوستیاں بنائیں ، محنت اور دیانتداری سے مقام بنایا پھر آئرلینڈ چلے گئے ۔۔۔کیونکہ ان ماہ وسال کے دوران ان کے باقی بھائی بھی وہاں آبسے تھے ۔۔۔سوچا کہ سب ایک ساتھ رہیں ۔۔۔اور تاحال وہیں مقیم ہیں ۔۔۔آپ کا پورا خاندان اس لحاظ سے بھی خوش نصیب ہے کہ اس دیار غیر میں اسلامی تعلیمات کے فروغ اور پرچار کے لیے کوشاں ہے ۔۔۔

اس داستان حیات کا خلاصہ یہی ہے کہ اگر انسان پوری دلجمعی سے کسی مقصد کے حصول کے لیے ڈٹ جائے تو منزل پر ضرور پہنچتا ہے ۔۔۔

ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو
کمال کس کو میسر ہوا ہے بےتگ ودو

Author

4 4 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

1 Comment
Inline Feedbacks
View all comments
رانا سجاد انور
رانا سجاد انور
2 months ago

ماشاءاللہ۔۔۔۔اللہ کریم رانا لفیل صاحب کو اور بھی زیادہ . زور قلم عطا کرے۔ آمین

Related Articles

Back to top button
1
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x