طاقت کا تناظراورسعید شارق کی غزل / ڈاکٹر رفیق سندیلوی
طاقت کا تناظراورسعید شارق کی غزل / ڈاکٹر رفیق سندیلوی
سعید شارق کو اپنی عمر کے معاصرین میں اس لئے بھی جگہ مل رہی ہے کہ انہوں نے غزل کے جدید رویے پر ہی مکمل انحصار نہیں کیا، مابعدجدید تناظر کو بھی اپنی غزل کا حصہ بنایا ہے۔ سعید شارق کی غزل کا بنیادی حوالہ اُس انسان سے جڑا ہے جو وجودی سطح پر اپنی شکست، اجنبیت اور معنوی بے یقینی کے درمیان زندہ رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے ہاں وجودی انحراف، داخلی شکست، معنی کی غیر یقینی، خود آگاہی اور داخلی و خارجی تضادات کا تصادم جھلکتا ہے۔ شاعر کا "میں” کسی خارجی حقیقت سے ہم آہنگ نہیں بلکہ خود اپنی ہی تشکیل اور تحلیل کے عمل میں مصروف ہے۔ یہی مابعد جدید رویہ ہے جہاں زندگی کی شکست، تخلیق کا لازمی وسیلہ بن جاتی ہے۔ یہ وہی لہجہ ہے جو وقت، خواب، بدن اور شعور کے درمیان رشتے کو غیر مستحکم کر کے ایک نئی معنوی کائنات خلق کرتا ہے۔ نیند اور بیداری، سکوت اور صدا، اندر اور باہر، خواب اور حقیقت، سب اپنی سرحدیں بدل لیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شارق کا شعور محض احساس نہیں بلکہ شعورِ شکست بن جاتا ہے جو معنی کے مکمل ہونے سے انکار کرتا ہے مگر اسی انکار سے تخلیق کی آگ بھڑکتی ہے۔ مثلاً ان کے یہ اشعار ملاحظہ کیجئے:
وہ صفحۂ خالی ہوں جو اندر سے بھرا ہے
جو لفظ بھی مٹتا ہے، لکھا رہتا ہے مجھ میں
نیند پھرتی ہے مرے ساتھ مرے کمرے میں
اور بے خوابی سرہانے سے لگی ہنستی ہے
اب کوئی منظر نہیں بنتا کسی آواز سے
تیری خاموشی نے تو کانوں کو اندھا کر دیا
میرے کوزوں میں در آتا ہے مرا زخمِ دروں
یعنی جو بنتا ہے اب ٹوٹا ہوا بنتا ہے
خیال چھوڑ دیا ہے فرار ہونے کا
جو اینٹیں گر چکیں واپس لگاتا رہتا ہوں
گندھی پڑی ہے مرے پاس خواب کی مٹّی
سو جب بھی وقت ملے، کچھ بناتا رہتا ہوں
صبح اٹھتے ہوئے ڈر لگتا ہے
آج کا دن بھی اگر کل نکلا؟
وہ مجھ پر چلتے چلتے کھو گیا تو؟
میں اپنے پیچ و خم سے ڈر رہا ہوں
ایسا تنہا تھا کہ دو پل کی رفاقت کے لیے
اپنی تنہائی کے بھی پاؤں پکڑتا رہا میں
دیکھ لے! ہنسنے لگے ہیں مرے بازو مجھ پر
آ کے سینے سے لگائے گا بھی یا جاؤں میں؟
مجھ کو اندر سے جکڑتا رہا اک دروازہ
اور دروازے کو باہر سے جکڑتا رہا میں
تعمیرِ خرابہ ہو کہ مسماریِ دنیا
کوئی نہ کوئی کام لگا رہتا ہے مجھ میں
میں کہ خود دشت ہوا جاتا ہوں اور یہ صحرا
چاہتا ہے کہ ذرا خاک اڑا جاؤں میں
یہ کیسا موڑ آ پہنچا ہے تیری رہگزر میں
میں تھک کر گر پڑا ہوں میرا سایہ چل رہا ہے
بہت ملال ہے اک سانحہ گزرنے پر
اور اس پہ دوسرا دکھ یہ کہ بچ گیا ہوں میں
یہ اشعار اس عہد کے انسان کے وجودی تجربات کے ترجمان ہیں جو بیک وقت اپنے اندر اور اپنے زمانے سے نبرد آزما ہے۔ یہاں شکست بقا کی علامت بن جاتی ہے، تنہائی تخلیق کی شرط اور خاموشی اظہار کا متبادل۔ سعید شارق کی شاعری اس شعور سے نکلتی ہے کہ طاقت، وقت اور وجود سب ایک دوسرے کے اندر تحلیل ہو چکے ہیں۔ یہی داخلی شکست اور وجودی اذیت جب خارجی دنیا کے جبر سے گتھم گتھا ہوتی ہے تو سعید شارق کی غزل اپنے بنیادی محور یعنی "طاقت کے تناظر” میں داخل ہوتی ہے۔ مثلاً یہ غزل:
سینے میں پنجے گاڑ کے، گردن دبوچ کے
کھانے لگا ہے وقت مجھے نوچ نوچ کے
تِتلی نہیں ہے تُو! کہ تُجھے زِندہ چھوڑ دیں
چل! چل! حقوق ہوتے نہیں کاکروچ کے!
یکدم کسی کی یاد نے تھاما ہے میرا ہاتھ
اب کیسے کیسے فائدے ہوتے ہیں موچ کے!
جس کی بریک فیل ہے، ٹائر گھِسے پِٹے
ہم سب مسافران ہیں اِک ایسی کوچ کے
اِک شب جھپٹ پڑی تھی اچانک، فسردگی
اب تک نشان ہیں مِرے دل پر کھروچ کے
رانجھا ہو چاہے پنّوں ہو، سانجھا ہے سب کا درد
پنجابی کے بھی دُکھ ہیں، جو دُکھ ہیں بلوچ کے
جی چاہتا ہے بھاگتا جاؤں کسی بھی سمت
کب تک قدم اُٹھائے کوئی، سوچ سوچ کے!
پکّی سڑک سے دُور، کسی کچّے گھر کے پاس
اِک رِکشہ خواب دیکھتا ہے کارپوچ کے
یہ غزل مابعد جدید عہد کے انسان کا داخلی مرثیہ ہے جو زمانے کی رفتار، نظام کے جبر اور شعور کی شکست کے بیچ پسا ہوا ہے۔ سعید شارق کے یہاں “وقت”، “مشین”، “انسان” اور “احساس” ایک دوسرے میں تحلیل ہو کر ایک مضطرب، بے رحم اور غیر یقینی فضا پیدا کرتے ہیں۔ یہی فضا مطلع میں اپنی شدت کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ یہاں “وقت” ایک درندہ بن جاتا ہے۔ شاعر نے مابعد جدید تجربے کو کسی فلسفیانہ علامت کے بجائے تشدد آمیز تصویر میں ڈھال دیا ہے۔ وقت اب کوئی ماورائی یا صوفیانہ قوت نہیں رہا؛ وہ سینے میں پنجے گاڑتا ہے، گردن دبوچتا ہے اور جسم سے لُقمے نوچ نوچ کے کھاتا ہے۔ یہ وہی "وجودی دہشت” ہے جو جدید انسان کے احساسِ لامعنویت کو بیان کرتی ہے۔ یہ نوچنے والا "وقت” دراصل تہذیب کے معکوس مکینزم کی علامت بھی ہے۔۔۔ جس میں زندگی وجود کو گوشت پوست دینے کے بجائے اسے کھاتی چلی جا رہی ہے۔ سینے میں پنجے گاڑنے کا عمل صرف جسمانی اذیت ہی نہیں، اندرونِ ذات میں وقت کی روحانی دراندازی کا استعارہ ہے یعنی اب انسان کی نجی دنیا بھی محفوظ نہیں، وقت اس کے اندر گھس آیا ہے۔
غور کیجئے تو مطلع مابعد جدید عہد کی اس بنیادی کیفیت کو گرفت میں لیتا ہے جسے “انسان کا انہدام” کہا جا سکتا ہے۔ یہاں شاعر کسی صبر یا نجات کی بات نہیں کرتا؛ اس کا لہجہ احتجاجی نہیں، دستاویزی اور تجرباتی ہے۔ وہ محض یہ بتاتا ہے کہ وقت اب اتنا قریب ہے کہ اس کے پنجے محسوس ہوتے ہیں۔ یوں یہ شعر پورے بیانیے کے لیے ایک فکری محور فراہم کرتا ہے۔ یہی “نوچنے والا وقت” بعد کے اشعار میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے۔ کبھی سماج کے طاقتور طبقات کے روپ میں (تِتلی نہیں ہے تُو، کہ تُجھے زندہ چھوڑ دیں)، کبھی ایک بے قابو نظام کی صورت میں (جس کی بریک فیل ہے، ٹائر گھِسے پِٹے) اور کبھی خواب و خواہش کے استعارے میں (اِک رِکشہ خواب دیکھتا ہے کارپوچ کے)۔ اس طرح مطلع محض آغاز ہی نہیں، پورے متن کی مرکزی کائناتی صورت ہے جہاں وقت کا درندہ، کوچ کا سفر اور رکشے کا خواب، سب ایک ہی مابعد جدید ڈھانچے کے مختلف چہرے بن جاتے ہیں
تتلی اور کاکروچ والا شعر بھی اپنی ساخت میں روزمرہ زبان سے قریب ہے مگر معنوی طور پر یہ ایک پیچیدہ تہذیبی اور اخلاقی بیانیہ قائم کرتا ہے۔ بظاہر یہ ایک طنزیہ معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندر طاقت، طبقے اور جنس کی درجہ بندی پر گہرا تبصرہ پوشیدہ ہے۔ شاعر نے تتلی اور کاکروچ کی علامتوں کے ذریعے اس سماج کو بے نقاب کیا ہے جو زندگی کی قدر کو اس کے جمال اور افادیت سے مشروط کر دیتا ہے۔ تتلی اس لیے محفوظ ہے کہ وہ دیکھنے والے کے حظ کا ذریعہ ہے؛ وہ زندہ رہ سکتی ہے کیونکہ اس کا وجود خوشنما ہے۔ یہ رعایت رحم نہیں، طاقتور طبقے کی جمالیاتی خودغرضی کا نتیجہ ہے۔ اس کے برعکس کاکروچ ایک ایسا وجود ہے جو لطافت، افادیت اور توجہ سے محروم ہے لہٰذا وہ سماج کے حاشیے پر پھینک دیا جاتا ہے۔
یہاں شاعر نے طنز کے اندر وہ اخلاقی المیہ سمو دیا ہے جو انسانی تہذیب کے ڈھانچے میں جڑا ہوا ہے۔ وہ دنیا جہاں بقا کا حق صرف ان کے پاس ہے جو کسی نہ کسی سطح پر طاقتور یا پُرکشش ہیں۔ کاکروچ کے حقوق کی نفی میں ایک شدید سیاسی شعور کارفرما ہے جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حق ہمیشہ طاقت کے تابع رہا ہے اور کمزور وجودوں کے لیے اخلاقی یا قانونی بنیاد پر کوئی جگہ نہیں۔ تتلی اور کاکروچ کا یہ تقابل حُسن و قبح کی تمثیل نہیں، اصلاً یہ انسانی رویوں کا عکس ہے۔ شاعر نے معاشرتی نفسیات میں جینڈر اور طبقے کے فرق کو بھی غیر محسوس انداز میں شعری لہجے میں شامل کر لیا ہے۔ تتلی بطورِ علامت عورت، حُسن یا دلکشی کی نمائندہ ہے جس کی قدر، نرم روی اور زیبائی ظاہری وجود سے وابستہ ہے۔ کاکروچ اس کے برعکس بدنما، غیر کارآمد اور بوجھ بنے ہوئے افراد یا طبقوں کا استعارہ ہے۔ اس طرح یہ شعر طاقت اور جنس کے درمیان جاری کشمکش کو نہایت چابکدستی سے پیش کرتا ہے۔
زبان کی سطح پر اس شعر میں ایک تضحیک کا پہلو تو فوری طور پر نظر آ جاتا ہے۔ “چل! چل!” کے دوہرے استعمال سے ایک مخصوص تحکمانہ لہجہ پیدا ہوتا ہے جو استبداد کی داخلی لَے بن جاتا ہے۔ یہ بیانیہ محض کسی کو جھڑکنا نہیں بلکہ اس سماجی رویے کی نقالی ہے جس میں طاقتور کمزور کو غیر ضروری قرار دے کر راستے سے ہٹا دیتا ہے۔ یہی مقام ہے جہاں شاعر کی زبان محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں رہتی، خود طاقت کے اظہار کا منظر بن جاتی ہے۔ یہ شعر اپنی ساخت اور علامت میں معاشرتی ناانصافی پر طنز ہی نہیں، اس تہذیبی ذہن کی نشاندہی بھی ہے جو حُسن اور افادیت کے درمیان زندگی کے حق کا فیصلہ کرتا ہے۔ شاعر نے روزمرہ کے مظاہر میں وہ نظامِ ظلم تلاش کیا ہے جو عام نگاہ سے اوجھل ہے اور یہی اس شعر کی اصل نکتہ خیزی ہے کہ ایک عام سے اظہار میں تہذیب کے پورے اخلاقی بحران کو سمیٹ لیا ہے۔
کارپوچ والا شعر اپنی سادہ منظرنگاری کے باوجود ایک گہری سماجی اور وجودی تہہ رکھتا ہے۔ شاعر نے اس میں مادی دنیا کی طبقاتی ساخت اور خواہش کی درجہ بندی کو نئے مگر کاری استعارے میں پیش کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی منظر ہے۔۔۔ رِکشہ، کچّا گھر اور خواب مگر ان تینوں عناصر کے بیچ جو فاصلہ ہے، وہ دراصل ہماری تہذیب کے طاقتور اور کمزور طبقات کے درمیان کا فاصلہ ہے۔ "پکّی سڑک” اور “کچّا گھر” جغرافیائی امتیاز کے نہیں، تمدنی تفریق کے استعارے ہیں۔ پکّی سڑک طاقت، ترقی اور استحکام کی ایک صورت ہے یعنی وہ طبقہ جو مستحکم زمین پر چلتا ہے اور اپنی رفتار اور منزل کا فیصلہ خود کرتا ہے۔ اس کے برعکس “کچّا گھر” عارضیت، ناپائیداری اور محرومی کا استعارہ ہے یعنی وہ زندگی جو کسی بھی لمحے مسمار ہو سکتی ہے۔ ان دونوں کے درمیان “رِکشہ” کھڑا ہے جو خود حرکت کا نشان ہے مگر اس کی حرکت معیاری نہیں۔ رکاوٹیں اور پابندیاں اس سے جُڑی ہیں۔
“رِکشہ” جدید دنیا کے اس انسان کی علامت ہے جو نہ مکمل رک سکتا ہے، نہ کہیں پہنچ سکتا ہے۔ وہ اپنے طبقے اور وسائل کی قید میں اپنے خواب کو دیکھنے کی اجازت پاتا ہے مگر خواب بھی محدود ہیں۔ “کارپوچ” یہاں محض ایک گاڑی کا کور نہیں بلکہ خواہش کے تحفظ اور امتیاز کا استعارہ بھی ہے۔ وہ اس طبقے کا نمائندہ ہے جس کے خواب بھی محفوظ اور مستحکم ہیں جبکہ رِکشہ جو بارش اور دھوپ میں خود کو ڈھانپ نہیں سکتا، اسی تحفظ کو خواب کی طرح دیکھتا ہے۔ یہ خواب دراصل طاقت کے نظام کا مرئی عکس ہے۔ شاعر نے رِکشے کو خواب دیکھنے کے عمل سے وابستہ کر کے ہے شعر میں شعوری بیداری کی چمک پیدا کر دی ہے۔ یہ مابعد جدید شاعری کی وہ تکنیک ہے جس میں غیر جاندار شے انسان کے احساس کی نمائندہ بن جاتی ہے۔
یوں شاعر نے مشین کو انسان اور انسان کو مشین کے درمیان معلق کر دیا ہے اور یہ وہی کیفیت ہے جو موجودہ دور کی انسانی زندگی کا بنیادی المیہ بھی ہے۔ خواب اور حقیقت کے درمیان، طبقے اور محرومی کے درمیان، خواہش اور رسائی کے درمیان یہ شعر محض غربت یا حسرت کا بیان نہیں بلکہ تہذیبی خواہش اور طبقاتی خواب کی جمالیاتی تصویر ہے۔ شاعر نے انتہائی سادہ زبان میں وہ گہرا فکری منظر خلق کیا ہے جہاں امید خود ایک طنز بن جاتی ہے۔ رِکشے کا خواب دیکھنا اپنی کم مائیگی کا اعلان بھی ہے اور انسانی بقا کی ضد بھی۔ وہ خواہش جو فنا کے باوجود زندہ رہتی ہے، یہی اس شعر کی اصل نکتہ وری ہے اور وہ یہ کہ خواب اور حقیقت کے درمیان ایک باریک لکیر ہوتی ہے جو مٹتی نہیں بلکہ تہذیب کی ہر صبح کے ساتھ اور گہری ہو جاتی ہے۔
اب کوچ والا شعر دیکھئے جو بظاہر زندگی کے سفر کی ایک سادہ سی تصویر بناتا ہے مگر اس کے اندر ایک گہرا، تہہ در تہہ کرب پوشیدہ ہے۔ ایسا کرب جو سماجی یا معاشی ہی نہیں، وجودی اور الوہی سطح پر بھی انسان کی بےبسی کا بیان ہے۔ “کوچ” یہاں صرف ایک گاڑی نہیں بلکہ انسانی تمدن، سماجی نظام اور بالآخر پوری کائنات کا استعارہ بن جاتی ہے۔ بریک کے فیل ہونے میں حادثے کا خدشہ بھی پوشیدہ ہے اور ایک گہرا معنوی اشارہ بھی کہ انسان اب اس گاڑی یعنی زمانے یا نظامِ حیات پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ وہ سفر تو کر رہا ہے مگر سمت اور رفتار کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ یہ خالصتاً جدید اور مابعد جدید انسان کا المیہ ہے یعنی حرکت اس کی ہے، کنٹرول کسی اور کا۔ اسی طرح “گھِسے پِٹے ٹائر” وہ تھکن، فرسودگی اور زوال کا نشان ہیں جو اس اجتماعی کوچ کے مستقل چلنے کا نتیجہ ہیں۔ اس کوچ کے مسافر یعنی ہم سب، اس نظام کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں جو خود اپنی موت کی طرف دوڑ رہا ہے۔ یہاں شاعر نہ کوئی نجات تجویز کرتا ہے نہ کوئی گلہ۔ وہ صرف اس شعور کو زندہ کرتا ہے کہ ہم سب ایک ایسے سفر میں ہیں جس کی منزل تباہی ہے۔ اگر اس منظر کو سماجی اور معاشی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کوچ سرمایہ دارانہ دنیا کی علامت بن جاتی ہے۔ ایک ایسا نظام جو بظاہر ترقی کی سمت دوڑ رہا ہے مگر اندر سے بوسیدہ، غیر محفوظ اور بے قابو ہے۔ اس کی بریکیں فیل ہو چکی ہیں، یعنی اخلاقی اور انسانی کنٹرول ختم ہو گیا ہے۔ مطلب یہ کہ انسان اس سفر کا شریک بھی ہے اور اس کا شکار بھی۔
اس شعر کی معنوی رسائی یہاں رُکتی نہیں۔ جب اسے ایک وسیع تر روحانی سطح پر پڑھا جائے تو “بریک فیل” اور “ٹائر گھِسے پِٹے” تقدیر اور الوہی جبریت کے استعارے بن جاتے ہیں۔ یہ وہ کائناتی کوچ ہے جو خدا کے نظام کے تابع ہے ۔ ایک ایسی حرکت جس میں کوئی توقف ممکن نہیں اور جس کا حادثہ یا انجام اس کی فطرت میں مضمر ہے۔ شاعر کا کوچ کی سواریوں کو مسافر کہنا اسی تسلیم شدہ حقیقت کا اقرار ہے تاہم ہم سب اس خدائی نظام کے اندر اسیر ہیں اور بچنا ممکن نہیں۔ یوں یہ شعر ایک ساتھ تین سطحوں پر بولتا ہے: سماجی سطح پر یہ نظامِ دنیا کی بگڑتی مشینری کی عکاسی کرتا ہے، سیاسی سطح پر یہ طاقت کے غیر منصفانہ ڈھانچے پر طنز ہے اور روحانی سطح پر یہ انسان کی تقدیر کے سامنے بےبسی اور فنا کا اعتراف ہے۔ یہی شعر کی اصل نکتہخیزی ہے کہ ایک روزمرہ سی مکینکل تمثیل (“بریک”، “ٹائر”، “کوچ”) کے اندر شاعر نے پوری انسانی تاریخ، معیشت اور مابعد الطبیعیات کا درد سمیٹ دیا ہے۔ یہ وہی کوچ ہے جس میں انسان مسلسل سفر کر رہا ہے، جانتا ہے کہ حادثہ ناگزیر ہے اور رکنے کا اختیار بھی اس کے پاس نہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں شاعر کا لہجہ مایوسی کے بجائے شعورِ جبر کا لہجہ بن جاتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کوچ ٹکرائے گی مگر یہ جاننا ہی انسانی بیداری کا وہ آخری نقطہ ہے جو انسان کو اپنے انجام سے پہلے ادراکِ وجود عطا کرتا ہے۔ المختصر، یہ تمام تعبیرات شعر کو پہلودار بناتی ہیں لیکن یہ بتانا ضروری ہے کہ شعر کے دوسرے مصرعے میں “مسافران” کا استعمال بطورِ مسافر اردو میں نہ رائج ہے اور نہ ہی یہاں جچ رہا ہے
اب تک جن اشعار پر بات کی گئی، ان میں مجموعی طور پر فکری اور استعاراتی رچاؤ کہیں بھی مجروح نہیں ہوتا، حتّیٰ کہ انگریزی قوافی و الفاظ بھی اردو بول چال کا حصہ ہونے کے باعث نامناسب نہیں لگتے مگر باقی اشعار میں یہ رچاؤ مدھم پڑ جاتا ہے۔ سوچ کے قافیے والے شعر میں داخلی تھکن اور ذہنی جمود کا اظہار تو کیا گیا ہے مگر اس میں وہ معنوی جدت یا تصویری شدت نہیں جو ابتدائی اشعار کا خاصہ ہے۔ یہ شعر نسبتاً روایتی احساسِ فرار کو دہراتا ہے۔ اسی طرح “کھروچ” اور “موچ” والے اشعار میں وہ تخلیقی عمق نہیں جو مابعد جدید لہجے کے تقاضوں کو نبھا سکے۔ بلوچ والے شعر میں شاعر بظاہر سبالٹرن یا حاشیہزدہ طبقات کی یکجہتی کی طرف جاتا ہے مگر یہ خیال عمومی اخلاقی اظہار تک محدود رہتا ہے۔ اگر شاعر اسے طبقاتی، قومی یا شناختی جبر کے کسی مخصوص منظرنامے سے منسلک کرتا تو یہ شعر غزل کے فکری مرکز سے جُڑ سکتا تھا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ غزل کے آدھے اشعار غزل کے بنیادی تجربے سے الگ ہو جاتے ہیں جبکہ آدھے اشعار اپنی معنوی شدت، استعاراتی تہہداری اور داخلی ہمآہنگی کے سبب طاقت کے تناظر کو عمدگی کے ساتھ ابھارتے ہیں۔




