
الماری میں پڑا ڈھانچہ
( کہانیوں کا مجموعہ)
مصنفہ : lilija Berzinsika
مترجم : سلمان باسط
ناشر : یاسر پبلیکیشنز لاہور
تبصرہ : کنول بہزاد
اگر میں کہوں کہ جاتے برس کے اس پسندیدہ مہینے نومبر میں سب سے خوبصورت تحفہ جو مجھے ملا وہ یہ کتاب ہے ۔۔۔” الماری میں پڑا ڈھانچہ” اور اس کے لیے پیاری سی دوست فاطمہ شیروانی کی ازحد شکر گزار ہوں ۔۔۔
یہ چھوٹی سی پیاری سی کہانیوں کی کتاب میرے ہاتھ میں کیا آئی میرے شب و روز حسین تر ہو گئے۔۔۔میں نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا ۔۔۔لطف کشید کرنے کے لیے چاہا کہ یہ لمحات طویل تر ہو جائیں ۔۔۔مگر ایک سو گیارہ صفحات پر مبنی یہ کتاب بالآخر پڑھ لی۔۔۔ لیکن خوش ہوں کہ میں اسے بار بار پڑھ سکتی ہوں ۔۔۔جی۔۔۔یہ ایسی ہی کتاب ہے ۔۔۔
اس کتاب کی مصنفہ لیلیابرز نسکا ہیں اور یہ کتاب ” لٹوین لٹریچر آف دی ایئر” کا ایوارڈ حاصل کر چکی ہے ۔۔۔
یہاں پاکستان میں فاطمہ شیروانی کے ادارے یاسر پبلیکیشنز نے اسے شائع کیا ہے اور ترجمہ کیا ہے محترم سلمان باسط صاحب نے ۔۔۔جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔۔۔اس کی پروف ریڈنگ دعا عظیمی نے کی ہے ۔۔۔
بظاہر یہ کہانیاں جنگل اور ساحل کے قریب بسنے والے ننھے منے جانوروں اور پراسرار مخلوقات کے بارے میں ہیں مگر اس میں ہم انسانوں کے لیے کیسے کیسے نکتے ، دلچسپیاں ، اسرار اور اسباق پوشیدہ ہیں یہ آپ اس کتاب کو پڑھ کر ہی جان پائیں گے ۔۔۔
یہ کل تیرہ کہانیاں ہیں ، ایک دوجے جڑی ہوئی مگر منفرد اور الگ۔۔۔
بہت سے پیراگراف اور جملے آپ کو تحیر ، سرشاری اور لطف کے لازوال لمحات سے آشنا کرتے ہیں ۔۔۔
ذرا دیکھیے ۔۔۔
"بھیڑیے نے خرگوش کی آنکھوں میں جھانکا وہ آنکھیں جن میں خوف بھی تھا اور بے یقینی بھی ۔۔۔جیسے خرگوش نہ جانتا ہو کہ اس وقت اسے رونا ہے یا مسکرانا ہے مگر وہ خاموش رہا پھر اس نے اپنا بھاری سر خرگوش کے کندھے پر رکھ دیا ۔۔۔خرگوش کے دل میں انجانا خوف بھی تھا اور کچھ حوصلہ بھی ۔۔۔مگر جو شے سب احساسات پر غالب تھی اس کا نام محبت تھا۔۔۔
( سمندری بھیڑیا اور خرگوش )
ہر کہانی اتنی پیاری ہے کہ آپ کرداروں سے خود کو relate کر سکتے ہیں ۔۔۔آپ خود کو سمندری بھیڑیا بھی سمجھتے ہیں جو محبت کی رسی سے بندھا ہے اور خرگوش بھی ۔۔۔جو تنہائی اور خوف کا شکار ہے۔۔۔
کہانی ” دنیا کا خاتمہ” پڑھ کر آپ کو وہ دن ضرور یاد آئیں گے جب ہم سب کرونا وبا کے زیر اثر تھے ۔۔۔بے یقینی اور بےبسی کی وہ کیفیت آپ بھی اپنے دل پر ضرور محسوس کریں گے جس کا شکار جنگل کی ننھی مخلوق آپ کو نظر آئے گی ۔۔
” فضول خرچی ” میں بھی ہم سب اپنا عکس دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔یاد رہے یہ فضول خرچی محض پیسے کی نہیں ۔۔۔یہ ان انمول لمحوں کی بھی ہوتی ہے جو قدرت ہمیں عطا کرتی ہے ۔۔۔
کہانی ” ایک طویل دن ” کا خوبصورت اختتام بھی ذرا پڑھیے:
"کافی دیر تک آسمان شام کے دل کش گہرے نیلے اور ہلکے سبز رنگوں میں رنگا رہا جب آخر کار تینوں تھکے ہارے دوست خلیج میں واپس پہنچے تو رات اپنے ستاروں بھرے پر پھیلا چکی تھی۔۔۔ جیسے اعلان کر رہی ہو کہ دن اب تمام ہوا۔۔۔ ابھی کسی کو نہیں معلوم تھا کہ کل کیا لائے گا وہ تو ابھی دور تھا ۔۔۔انجانا اور ان چھوا مگر ایک بات طے تھی اس آنے والے کل میں خوشیوں کے نئے خزانے ، حیرت انگیز تجربے اور بے شمار امکانات چھپے ہوں گے ”
سیمی لموسا۔۔۔ایک ننھی مخلوق کی ادھورے پن کی پریشانی آپ کو مکمل ہونے کے احساس سے روشناس کرائے گی۔۔۔
غرض اس کتاب پر لکھنے کو بہت کچھ ہے ۔۔۔مگر میں چاہتی ہوں کہ آپ اس کو خود پڑھیں ۔۔۔یہ کتاب ہر ایک پر اپنا آپ ، اپنے انداز میں منکشف کرے گی۔۔۔
فاطمہ شیروانی اور سلمان باسط صاحب کا شکریہ کہ بین الاقوامی ادب کی ایک قیمتی کتاب ہم تک پہنچائی ۔۔۔اور مجھ جیسے قارئین کے ذوق کی تسکین کا سامان کیا ۔




