غزل
غزل / ایسے کٹھن سفر کا دیا حکم آپ نے / زوہیر عباس
غزل
ایسے کٹھن سفر کا دیا حکم آپ نے
پہلے قدم پہ لگ گئے ہم لوگ ہانپنے
کھُلتا نہیں ہے جن پہ ترے جسم کا حصار
نکلے ہیں وہ بھی وسعتِ عالم کو ماپنے
ہر چیز کائنات کی دِکھتی ہے شاندار
دیکھا ہے کس نگاہ سے دنیا کو آپ نے۔۔؟
اب جاگتے ہوئے بھی تجھے دیکھتا ہوں دوست
سپنے لگے ہیں نیند کی دیوار ٹاپنے
پہنچی ہے مجھ تلک تری نسبت کی دھوم دھام
نوحے کا کام کر دیا ڈھولک کی تھاپ نے
بازو کو کاٹ کر بھی میں حیران ہوں کھڑا
چھوڑی نہ آستین کسی ایک سانپ نے
ہر اس جگہ جہاں پہ ہے لوگوں کا واسطہ
چن چن کے بد تمیز بٹھائے ہیں آپ نے
اس احتیاط کیش سے جب کچھ نہ بن سکا
عریانیوں سے لگ گیا عیبوں کو ڈھانپنے
پاس آ گئے تو عیب نمایاں ہوئے زوہیر
ہم کو جدا کیا ہے ہمارے ملاپ نے…




