تم کیسی برہن ہو / خمار میرزادہ
تم کیسی برہن ہو
تم جھوٹی ہو
اور تمہاری جھوٹی دنیا جھوٹی ہے
دل اور دنیا کے سنگم پر
دریا اور دریچوں والے
اک سنجوگ کی ندیا جھوٹی
اس بے نام سے رشتے کی یہ سائے سی دیوار بھی جھوٹی
جھوٹ ہے رسموں والی سمرن
جس کو جپتے جپتے ہم نے عمریں خواب اور خاک میں ڈھالی تھیں
تم جھوٹی ہو اور تمہاری ساری دشائیں جھوٹی ہیں
ساری دشائیں جن میں سانجھ سویرے چنتے آئے ہیں ہم
پھول روپہلے وعدوں جیسے
جھوٹی ہے سب ہنسی تمہاری
اور تمھارے آنسو جھوٹے
رس بھریوں سے ہونٹ تمہارے جھوٹے ہیں
جھوٹی ہیں، یہ ریشم جیسی بانہیں جھوٹی
اور تمہاری بے ترتیب سی سانسیں جھوٹی
میں نے ازل کی مانگ میں سچ کی افشاں چھڑکی
مجھ میں زندگی چاہت بن کر
وادی وادی پربت پربت
دریا دریا دھڑکی
برہا کے ان گیتوں کو بھی سن کر چپ ہو
سانوری ! تم کیسی برہن ہو
رنگ تمہارا جھوٹا ہے اور روپ سروپ کے ایوانوں میں
جھوٹ کا نرتک جھوٹا ہے
کب تک اس جھوٹی دنیا کے ہاتھوں سے مجبور رہو گی
سانوری! کب تک دور رہو گی۔۔۔۔




