کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی گھر تیرا خلد میں گر یاد آیا/ عطرت بتول

مرزا غالب نے کہا تھا
کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی
گھر تیرا خلد میں گر یاد آی
واقعی جس گھر میں خلوص ومحبت ، مروت کے پھول کھلتے ہوں دوستوں کے لبوں پر مسکراہٹیں ہوں ، دکھ سکھ سانجھے ہوں ، کتابوں کا ذکر ہو وہ گھر بہشت بریں کی ہی مثال ہے اور پھر جس محفل میں سلمہ اعوان جیسے تخلیقی ذہن ہوں یاسمین بخاری، ماہ پارہ صفدر جیسی تاریخی شخصیات موجود ہوں مسرت کلانچوی بھی شریک محفل ہوں تو محفل کا رنگ کیا ہوگا
کل ایسی ہی خوبصورت محفل شاہین اشرف علی نے اپنے آرٹسٹک گھر میں سجائی ، ماہ پارہ صفدر لندن سے اپنے وطن آئیں تو دوستوں نے خوب محبتیں نچھاور کیں یہ نشست بھی ان کے اعزاز میں تھی جس میں وہ اپنی بہنوں ڈاکٹر پروفیسر زریں اور طلعت صاحبہ کے ساتھ تشریف لائیں انہیں پھول پیش کیے گئے
شاہین اشرف علی نے اپنے مخصوص عربی بگل زرغوتہ سے استقبال کیا سب ان سے مل کر خوش تھے ان سے بہت اچھی گفتگو رہی شاہین اشرف علی کی میزبانی شاندار تھی بہت لذیذ کھانے سے تواضع کی
شرکاء میں سلمہ اعوان، مسرت کلانچوی، یاسمین بخاری، بلقیس ریاض، سعدیہ قریشی، شاہین زیدی اور ان کی بھانجی ، تسنیم جعفری شامل تھیں، مدتوں یاد رہنے والی خوبصورت محفل تھی شاہین اشرف صاحب آپ کا بہت شکریہ، آپ کے خوبصورت گھر کی رونقیں یونہی قائم رہیں ،اللہ تعالٰی آپ کو سلامت رکھے آمین ثم آمین




