ہماری گلی / افتخار بخاری

ہماری گلی
گلی اب بھی زندہ ہے
سانس لیتی ہے
مگر یہ ہوا
کوئی اور ہے
اُس آسمان پر گرد اڑتی ہے
جہاں کبھی میری پتنگیں اُڑتی تھیں
دیواریں اندر کی طرف
جھکی ہوئی ہیں
جیسے سننا چاہتی ہیں
اُن آوازوں کو
جو لوٹ کر نہیں آئیں
میں آہستہ آہستہ چلتا ہوں
ہر قدم
ایک وہم کو جگاتا ہے
یہیں کبھی ہم دوڑتے تھے
ننگے پاؤں
بچوں کی ہنسی
ایک چمکتا ہوا جنگلی پرندہ تھی
اب صرف خاموشی
ان کے نام جانتی ہے
چائے کی دکان غائب ہے
جہاں سے میرے باپ
بالائی والی چائے منگواتے تھے
جب مجھے بخار ہوتا
پرانا برگد
اب بھی کھڑا ہے
تنہا، متین
جیسے اپنی قوم کا بھولا ہوا نبی
میں اینٹوں کو چھوتا ہوں
وہ مجھے نہیں پہچانتیں
کہاں ہو تم،
کرکٹ اور بارش کے ساتھیو؟
کیا تم زندگی کے دھوئیں میں تحلیل ہو چکے
یا اُس ہوا میں اُڑ گئے
جس میں دالوں اور لکڑیوں کی خوشبو ہوتی تھی
میں چہرے ڈھونڈنے آیا تھا
مجھے صرف وقت ملا
اور وقت
کسی کو نہیں جانتا
میں چپ چاپ لوٹ آیا ہوں
اپنے سینے میں لیے ہوئے
ایک ویران گلی کی محبت
معصوم،
چھوٹی سی،
لامتناہی،
جیسے ایک بچے کا اُداس دِل
ایک بوڑھے آدمی کے دُکھ بھرے سینے میں




