اُردو ادباُردو شاعریغزل
غزل / ایک دو بار سہی مجھ پہ کرم ہو جائے / ماہ نور
غزل
ایک دو بار سہی مجھ پہ کرم ہو جائے
میری بنیاد میں شامل ترا غم ہو جائے
ختم ہو جائے گی چھ سالہ اذیت میری
مجھ پہ اک بار ترا نظرِکرم ہو جائے
تو اگر میری طرف ایک نظر بھی دیکھے
منتشر خواب مرا جھٹ سے بہم ہو جائے
تجھ کو اللہ سے مانگوں میں بہت روتے ہوئے
اور اشکوں سے یہ دامن مرا نم ہو جائے
آج تک اس نے کسی کو نہیں چاہا لیکن
میری خواہش ہے کہ تاریخ رقم ہو جائے




