اُردو ادبافسانہ

تنہائی/ رانا سرفراز احمد

‎شہر کی بے روح محفلوں سے دور پہاڑ کی ایک صاف چوٹی پر ایزل رکھا ہوا تھا۔ شہر کا اکیلا مصوّر ایک ہاتھ میں برش اور دوسرے ہاتھ میں پینٹ تھامے کھڑا تھا۔ اس پہاڑ کے پیچھے سمندر پر لہریں خاموش اور تنہا اپنی اپنی منزل کی جانب رواں تھیں گویا ان کے دل زندگی سے بھر چکے ہوں۔ اوپر آسمان پر سورج پورے دن کی تنہائی سہنے کے بعد افق کی طرف جھکتا نظر آ رہا تھا۔

‎شہر میں اعلان ہوا کہ مصور ایک تصویر بناۓ گا۔ لوگوں نے سن لیا اور ایک ایک کر کے سر جھکاۓ رخصت ہو گئے۔ "کیا زندگی میں کوئی خوشی باقی بھی ہے ؟” سب چہرے گویا ایک سوال بن کر ایک دوسرے کی آنکھوں میں اتر گئے۔

‎اگلے دن شہر میں اعلان ہوا کہ مصور نے ایک تصویر بنائی ہے۔ کینوس پر ایک شہر کا بازار ہے جس میں ایک لڑکی چوڑیوں کی دکان میں اداس کھڑی ہے اور پاؤں میں ٹوٹی چوڑیاں بکھری ہوئی ہیں۔ "ان چوڑیوں کا رنگ اس قدر پھیکا کیوں ہے ؟” ایک زرد رنگ تمام شہر کے چہروں پر پھیل گیا اور شہر کی ساری زمین اور تمام دیواریں زرد ہو گئیں۔ پاس ہی ایک بچہ کھلونے زمین پر پھینک کر آسمان کی جانب اداسی سے دیکھ رہا ہے، کیا یہ کھلونے بھی پہلے ہم جیسے انسان ہی تھے؟” ایک پھیکا پڑتا مرجھاتا گلابی رنگ مزید مرجھا گیا۔ جبکہ ماں باپ ہاتھ میں پیسے پکڑے الگ تھلگ اور ایک دوسرے سے لاتعلق کھڑے ہیں، "کیا ہم یہاں ابدی تنہائی کے کینوس میں محض ایک اضافہ ہیں ؟ لوگ تصویر دیکھنے گئے لیکن تصویر دیکھ کر کسی نے کسی سے کچھ نہ کہا اور چلے گئے۔

‎اس سے اگلے دن لوگوں نے اعلان سنا کہ مصور ایک اور تصویر بنا رہا ہے شہر کے لوگوں نے دیکھا کہ کینوس پر ایک مسجد، ایک مندر اور ایک کلیسا کی تصویر ہے جس میں لوگ سر جھکاۓ پریشان، تنہا اور مختلف سمتوں میں کھڑے ہیں لیکن دعائیں نہیں مانگ رہے۔
‎” کیا اوپر آسمانوں پر پھیلا ہوا اندھیرا بولتا ہے یا بس لکھتا ہی رہتا ہے ؟” ایک مندر کے باہر پھٹے پرانے لباس میں ملبوس سیاہ چہرہ اچانک پورے کا پورا زبان میں بدل گیا۔
‎”کیا وہ چھ دن لگا کر کچھ غلط بنا بیٹھا ہے یا یہاں کچھ بنا ہی نہیں اور ہم اپنے سروں ہر پھیلے ہوۓ اندھیرے کا ضمیر ہیں ؟”
‎”وہ آۓ گا وہ نہیں آۓ گا، وہ نہیں آۓ گا وہ آۓ گا۔۔۔وہ تو ہے ہی نہیں وہ تو مار ڈالا گیا وہ اب نہیں ہے اب صرف کچھ بوسیدہ ہڈیاں بچی ہوئی ہیں.” بہت سے بدن اور صرف ایک چہرہ اور دو آنکھیں اوپر کو اٹھی ہوئی تھیں۔
‎”ہم صبح سے یہاں ہیں اور شام تک یہیں رہیں گے پھر ہم کہیں نہیں ہوں گے.” ایک جگہ کھلے میدان میں بیشمار چہرے جن کے نیچے کوئی جسم نہ تھا، اچانک الفاظ بن گئے لیکن کسی کو بھی کوئی جواب نہ ملا تھا۔ اوپر آسمان کی جگہ گہرے سیاہ رنگ کا اندھیرا تھا۔ ان کی آنکھوں میں اداسی سائے پھیلاۓ ہوۓ نظر آ رہی ہے۔ لوگوں نے تصویر دیکھی اور کچھ کہے بغیر چلے گئے۔

‎اس سے اگلے دن شہر میں پھر اعلان ہوا کہ مصور نے ایک اور تصویر بنائی ہے۔ لوگوں نے دیکھا کہ کینوس پر ایک تصویر بنی ہے جس میں ایک نوجوان جوڑا بیٹھا ہے لڑکے نے ہلکا براؤن میلا سا لباس پہن رکھا ہے جبکہ لڑکی نے سیاہ لباس پہن رکھا ہے۔ دونوں مخالف سمتوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے ہیں۔ لیکن ان کا ایک ایک ہاتھ آپس میں ملا ہوا ہے۔ دونوں کے درمیان نظر آنے والا سمندر کا منظر متلاطم نظر آ رہا ہے جبکہ اردگرد باقی سارا سمندر پر سکون ہے۔ اس میں کوئی لہر نہیں اٹھ رہی۔ شہر کے لوگوں نے کوئی بات نہیں کی اور خاموشی سے چلے گئے۔

‎اس سے اگلے دن پھر اعلان ہوا کہ مصور ایک اور تصویر بنا رہا ہے۔ کینوس پر ایک خاندان کی تصویر تھی جس پر ایک خوبصورت جوان لڑکی تھی پاس ہی ایک زندگی سے بھرپور نوجوان تھا فرش پر دو خوبصورت بچے بیٹھے تھے اردگرد کھلونے بھی تھے لیکن وہ ان سے کھیلتے نہیں تھے۔ اور دونوں میاں بیوی صوفے پر سر جھکاۓ  دور دور بیٹھے تھے۔ کوئی کسی سے بات نہیں کر رہا تھا۔ کمرے کے دروازے دیواریں بن چکے ہیں، چھتوں پر آنکھیں چپکی ہوئی ہیں۔ ” یہ شبیہیں ہم سے پہلے بھی دیواروں پر موجود تھیں، ہم بھی آہستہ آہستہ ان شبیہوں نزدیک کھسکتے جا رہے ہیں” جوان لڑکی نے کہا۔ شہر کے لوگوں نے دیکھا اور بے دلی سے زیرِ لب ہنس دئیے لیکن کچھ کہے بغیر چلے گئے۔

‎اس سے اگلے دن پھر اعلان ہوا کہ مصور نے ایک آخری شاہکار بنا رہا ہے۔ جس میں ایک شہر ہے جو صرف ایک عمارت اور ایک سڑک پر مشتمل ہے۔ اور شہر کے دروازے پر لکھا ہے، "ہم نے اندر کی تنہائی سے بھاگ کر شہر بسایا لیکن ہمارے اندر کی تنہائی شہر کو نگل گئی۔” لیکن کوئی اسے دیکھنے پہاڑ پر نہ آیا۔۔۔
‎اس سے اگلے دن بھی کوئی پہاڑ پر مصور کا شاہکار دیکھنے نہ آیا۔۔۔
‎حتیٰ کہ اس سے بھی اگلے دن لوگوں نے پہاڑ کی بلندی پر ایک چیخ سنی لیکن وہ پھر بھی اس طرف نہ آۓ۔ چوتھے اور پانچویں دن بھی کوئی ادھر نہ آیا چھٹے دن جب لوگ آۓ تو انہیں پتہ چلا کہ مصور نے ایزل اور کینوس چھوڑ دیا ہے اور سمندر میں اتر گیا ہے۔

‎اگلے دن لوگوں نے دیکھا کہ کینوس خالی تھا اس پر کوئی تصویر نہ تھی اور اس پر لکھا تھا کہ "معاشرے کی موت یہ بھی ہے کہ ایک فنکار فن کے سمندر میں بھی ڈوب جاۓ لیکن وہ تنہا ہو اور اسے سمجھنے والا کوئی نہ ہو۔۔۔”

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x