اُردو ادباُردو شاعرینظم
ہر بات میری جان بتائی نہیں جاتی / دلشاد نسیم

ہر بات مری جان بتائی نہیں جاتی
کہنے کو چھپائی پہ چھپائی نہیں جاتی
اک نیند کی گولی نے مجھے خواب دکھایا
یہ آنکھ وگرنہ تو لگائی نہیں جاتی
اس واسطے آواز غریبوں کی ہوئی بند
شاہوں کے محل تک تو رسائی نہیں جاتی
بچنے کے لئے بھیڑ سے تھامی تھی کلائی
ہاتھوں سے ماں اب تک وہ چھڑائی نہیں جاتی
عجلت میں بھلا دل کی کوئی بات بھی کیا ہو
سرسوں تو ہتھیلی پہ جمائی نہیں جاتی
Author
URL Copied




