کتابوں کا الاؤ / شاعر:برٹولٹ بریخت | مترجم: اعجازالحق
کتابوں کا الاؤ
جب حکم صادر ہوا کہ کتابیں
وہ سب نامراد سچائیاں
آگ کے سپرد کی جائیں
گدھے اور بیلوں کی طرح کے آدمی
ٹھٹھ کے ٹھٹھ لکڑی کے رتھ بھر کے
لے آئے خزانے علم کے
اور شعلوں کے حضور نذر کیے
جلاوطنی کا ایک شاعر
صداقت کا سفیر
فکر کی آنکھ کا چراغ
جب فہرستِ محرومیت پر جھکا
اور اپنے نام کا نادیدہ سایہ نہ پایا
تو آگ بگولا ہوا
یہ کیسا مذاق ہے؟
میرے بغیر یہ محفلِ توہین کیسے مکمل ہوئی؟
وہ لپکا
اپنے کاغذوں کی سلطنت کی طرف
قلم کی نوک کو
خون کی طرح دہکاتے ہوئے لکھا
مجھے بھی جلاؤ!
میں نے بھی سچ کہا ہے
وقت کی ہر دریدہ دیوار پہ
میں نے اپنی تحریر کندہ کی ہے
اور تم اے احمقو!
اب مجھے جھوٹا ٹھہراتے ہو؟
مجھے بھی جلاؤ!
کہ یہ آگ میری گواہی کے بغیر
ادھوری ہے
The Burning Of The Books
By: Brrtolt Brecht
When the Regime
commanded the unlawful books to be burned,
teams of dull oxen hauled huge cartloads to the bonfires.
Then a banished writer, one of the best,
scanning the list of excommunicated texts,
became enraged: he’d been excluded!
He rushed to his desk, full of contemptuous wrath,
to write fierce letters to the morons in power —
Burn me! he wrote with his blazing pen —
Haven’t I always reported the truth?
Now here you are, treating me like a liar!
Burn me!
Translated by Michael R. Burch




