اُردو ادبافسانہ

یادوں کا بوجھ /مہر النساء مولوی

شہر کے مضافات میں وہ بوڑھا جوڑا زندگی کی شام کا سورج غروب ہوتے دیکھ رہا تھا۔ سورج کی آخری کرن جیسے ان کی زندگی کی آخری امید کی جھلک ہو۔ کھڑکی کے پاس بیٹھا ہوا آدم، عمر کی کتاب کے صفحات پلٹتے پلٹتے اپنے ماضی کے گم گشتہ رنگوں میں کھو چکا تھا۔ آنکھوں میں ایک چمک تھی، جیسے صدیوں کی تھکن کے بعد کسی نے خوابوں کو پھر سے آنکھوں میں جگہ دی ہو۔ مگر اردگرد کا سناٹا اس کے دل کے شور سے بےخبر تھا۔

یہ شام صرف وقت کا گذر نہیں تھی، یہ ایک عمر کا خلاصہ تھی۔ وہ لمحے جب دوستی بےنام ہنسی میں ڈھلتی تھی، جب ہر راہ پر خواب دستک دیتے تھے، جب پہلا پیار ایک بارش کی بوند کی طرح دل پر گرا اور ہمیشہ کے لیے نقش چھوڑ گیا۔ اس کی بیوی، آئنہ خاتون، زندگی کی مصروف گزرگاہ سے تھکی تھکی ایک سایہ بن چکی تھی۔ وہ جو کبھی روشنیوں کا مرکز تھی، اب خود اندھیروں سے الجھنے لگی تھی۔

عشق، خواب، جدوجہد اور صبر، یہ سب آدم کی زندگی کے ہمسفر رہے۔ اس نے خوابوں کو حقیقت کے رنگ دینے کی کوشش کی، مگر وقت کی سچائی نے کئی خواب ادھورے چھوڑ دیے۔ جب وہ اپنی اولاد کی قلقاریاں سننے کو کان لگاتا، تو دل میں ایک عجیب سا سناٹا گونجتا۔ وہ کہانیاں جو کبھی سنائی جانی تھیں، اب صرف اس کے دل میں قید تھیں۔ وہ بولنا چاہتا تھا، مگر وہ صرف ایک خاموش سامع بن کر رہ گیا تھا۔

بڑھاپے کی اس سنسان گلی میں، اس کے قدم سست روی سے چلتے، اور یادیں پرچھائیوں کی طرح پیچھا کرتیں۔ حسرتوں کا بوجھ دل پر پہاڑ کی طرح تھا، لیکن وہ جانتا تھا کہ یہی یادیں اس کی اصل میراث ہیں۔ وہ سوچتا تھا، شاید خوشیوں کا وہ زمانہ ہی اس کے آج کی تنہا شاموں کا سہارا ہے۔ آئنہ خاتون نے تمام عمر اس کے دکھ درد کو اپنے وجود پر سہا، اور اب وہ تھکن کی آخری دہلیز پر تھی۔

یادوں کا یہ بوجھ کبھی کبھی آنکھوں سے چھلکنے لگتا۔ مگر آدم کے دل میں ہر وقت شکرانہ رہتا تھا، ان یادوں کے لیے جو اس کا ساتھ نہیں چھوڑتیں۔ وہ لمحے جو ماضی میں بکھرے، آج اس کے تنہائی بھرے حال کا سہارا تھے۔ وہ جان چکا تھا، سارے ادھورے خواب ایک سبق تھے ، ہر چھوٹا لمحہ ایک پرانی اور بھولی کہانی کا حصہ تھا ۔

وقت نے آج ایک اور فیصلہ سنایا تھا ۔ بچے، جو اب خود ماں باپ تھے، انہیں اپنے پاس لے جانا چاہتے تھے۔ ان کے پاس ٹھہرنے کے لیے نہیں، بلکہ بقیہ عمر کے لمحوں کو محفوظ کرنے کے لیے۔ آئنہ کی نظریں اب بھی اپنے گھر کی دہلیز پر جمی تھیں۔ آدم کا باغ، جو اس نے اپنے ہاتھوں سے سینچا تھا، اب محض ایک منظر بن کر رہ گیا تھا۔ ایک منظر جو یادوں کی دیواروں پر نقش ہو چکا تھا۔

آدم نے پلٹ کر چوکھٹ کو دیکھا۔ وہی چوکھٹ جہاں سے زندگی نے کئی بار نئے سفر کا آغاز کیا تھا۔
بیٹے کی آواز آئی ۔ "چلئے ابا ،
اب وہ چوکھٹ بوسیدہ ہو چکی ہے ، سیلاب نے اسے بھی اپنے ساتھ بہا دیا ہے ” بیٹے کی آواز پر پلٹ کر دیکھا تو گزرے وقت کے نقوش نظر آئے ۔آئیڈیل ہوم” کی تختی ٹوٹ چکی تھی، مگر اس پر لکھا ہر حرف اب بھی اس کے دل پر نقش تھا۔

بیٹے کی آواز نے پھر اس کی سوچ کا سلسلہ توڑا:
"ابا، آپ اماں کو لے کر گاڑی میں بیٹھ جائیے۔ مکان گر چکا ہے۔ چوکھٹ سے لگے رہنے سے کیا ہوگا؟ وہ بھی اب بوسیدہ ہے۔ چلئے، اب ہم نیا گھر بنائیں گے۔”

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x