اُردو ادباُردو شاعرینظم
راز / افتخار بخاری

راز
دل پر
کوئی سایہ نہیں
اندھیرا نہیں
زخم نہیں
ٹوٹا ہوا شیشہ نہیں
میں دیکھتا ہوں
جھیل کی لہریں
خاموش پرندے
لمحوں کی دھڑکن
جو کچھ جلتا ہے
لازم نہیں
راکھ بنے
کچھ رہ جاتا
ایک خاموش خوشبو جیسا
میری امیدیں
چھوٹی نہیں
میرے بھی خواب
بڑے ہیں
مگر میں کچھ چیزیں
فراموشی کی ہوا
کے سپرد کرتا ہوں
شاید
محبت
میرے لیے
زمین کا سب سے خوبصورت
راز ہے
Author
URL Copied




