غزل
غزل / میثاقِ محبت سے مکرنا تو نہیں تھا / ثمینہ ناز طاہر

غزل
ثمینہ ناز طاہر
میثاقِ محبت سے مکرنا تو نہیں تھا
اے زود فراموش ابھی مرنا تو نہیں تھا
اس جسم کے ہر گھاؤ کو بھرنا تو نہیں تھا
اس درد کے آسیب سے ڈرنا تو نہیں تھا
آنا تھا مگر درد کے رستے سے نہ آتے
جانا تھا مگر جاں سے گزرنا تو نہیں تھا
اس درد کی تنہائی کو جینا تو نہیں تھا
اس دشت کے سینے میں اترنا تو نہیں تھا
کہتے تھے کہ اک روز بچھڑ جاؤ گے ہم سے
کہنا تھا مری جان یہ کرنا تو نہیں تھا




