اُردو ادباُردو شاعریغزل

غزل / تھی آزمائشوں کی بھی اک حد ہزار شکر / انفال رفیق

غزل

تھی آزمائشوں کی بھی اک حد ہزار شکر
ہم پر کوئی نہ فرق پڑا، صد ہزار شکر
آدھا تو سایا جائے گا ہمسائے کی طرف
اپنے شجر کا اتنا تو ہے قد ہزار شکر
آنکھوں سے ایک خواب کی رخصت ہزار حیف
ڈھلتے پہر میں شعر کی آمد ہزار شکر
ہم بھی کسی سے اُس کے سِوا مانگتے نہیں
ہوتی نہیں ہے اپنی دعا رد ہزار شکر
ہم خاک بخت ہیں تو یہی ہے ہمارا تخت
ہم کو نہیں ہے خواہشِ مسند ہزار شکر
کیا کیا گرہیں نہ کھول دیں اُس کی نگاہ نے
میں کیا ہوں اور کیا مرا مقصد ! ہزار شکر !
ہر شب چراغ ِ یاد کا ہوتا ہے اہتمام
ویراں نہیں ہے دل کا یہ معبد ہزار شکر
مقبول ہو گئے مرے اشک ِ شب ِ فراق
آنے لگی ہے شعر کی ابجد ہزار شکر

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x