ڈولی اور بھولو کی کہانی باڑھ آئی ہے/ ربیعہ سلیم مرزا

"کاش ہم اُس دن بارش کو پہچان لیتے…” ڈولی نے اپنے پر سمیٹتے ہوئے کہا۔
بھولو نے بھی آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے سر جھکا لیا۔
اب دونوں۔۔ایک پیپل کے درخت پہ پناہ لیئے بیٹھے تھے۔۔۔
یہ وہی دن تھا جس نے سب کچھ بدل دیا تھا۔ صبح جب وہ دونوں بستے لٹکائے خوش خوش اسکول کے لیے نکلے تھے تو ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ ہوا ٹھنڈی تھی، آسمان پر ہلکی سفیدی، اور دور کہیں بادلوں کی گرج کی مدھم آواز۔ مگر ان کے دل کھیلنے اور پڑھنے کی خوشی میں اتنے مگن تھے کہ کسی آفت کا خیال تک نہ آیا۔
جونہی وہ جنگل اسکول پہنچے، آسمان پر اچانک کالی کالی بدلیاں چھا گئیں۔ ہیڈماسٹر دیالو رام ۔۔جو کہ ایک نہایت دانا اُلو تھے۔۔۔نے گھبراتے ہوئے اعلان کیا۔۔
"بچو! سب جلدی اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ۔ موسلا دھار بارش آنے والی ہے۔ دور دراز سے آنے والوں کو پہنچنے میں وقت لگے گا، اس لیے ابھی نکل جاؤ۔”
پرندوں کے بچے خوشی خوشی اڑ گئے، مگر قسمت کچھ اور چاہتی تھی۔
دیالو رام کی دور اندیشی اُس دن کام نہ آئی، کیونکہ وہ بارش عام بارش نہ تھی… وہ تو ایسی موسلا دھار اور مسلسل بارش تھی جس نے سب کچھ بدل ڈالا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ڈولی اور بھولو جنگل کے بیچ ایک بڑے پیپل کے درخت پر پناہ لیے بیٹھے تھے۔ دن ڈھل رہا تھا یا شاید بادلوں کا اندھیرا بڑھ رہا تھا، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ نیچے زمین پر پانی جمع ہو کر چھوٹے درختوں کو آدھا پونا۔۔ ڈبو چکا تھا۔
وہ دونوں آنکھیں پھاڑے بارش کی طغیانی دیکھ رہے تھے، جیسے پورا جنگل بہہ جائے گا۔
سردی سے بچنے کے لیے اوٹ ضروری تھی۔ اچانک پیپل کی ایک شاخ سے پانی کا موٹا قطرہ ٹپکا اور بھولو کے سر پر جا گرا۔ وہ چونک اُٹھا… ۔۔۔
اُسے اپنی بوڑھی دادی یاد آئیں، جو اکثر سمجھاتی تھیں۔۔
"برسات آنے سے پہلے گھونسلہ تیار کر لینا چاہیے۔ پیپل کے چوڑے پتے بارش سے بچاؤ کے لیے سب سے بہترین چھتری ہیں۔”
بھولو نے گھبرا کر کہا۔۔
"ڈولی! ہمیں کیسے بھی ایک پتہ توڑنا ہوگا۔ ورنہ یہ بارش ہمیں بیمار کر دے گی!”
ڈولی کے چھوٹے پر سردی سے کانپ رہے تھے، قطرے اس کے پروں پر کانچ کی طرح چمک رہے تھے۔ وہ ڈرتے ڈرتے بولی۔۔
"لیکن بھولو… ہم اتنے ننھے ہیں، پتہ کیسے توڑیں گے؟”
"پرندے چھوٹے ضرور ہوتے ہیں، مگر اگر دلیر ہوں اور ساتھ رہیں تو بڑے سے بڑا طوفان بھی ہرا نہیں سکتا۔”
!دادی ۔۔یہاں بھی ساتھ تھیں۔۔
یہ سوچ آتے ہی بھولو نے ڈولی کا پروں سے ہاتھ تھاما اور بولا۔۔
"آؤ! ہم دونوں مل کر کوشش کرتے ہیں۔ یہ پتہ ہماری چھتری بنے گا!”
دونوں نے ہلکی پھسلن والی شاخ کو مضبوطی سے تھاما۔ بارش کے قطروں کی بوندیں ان کے پروں پر یوں گر رہی تھیں جیسے ننھے ڈھول بج رہے ہوں۔ بھولو نے چونچ سے دباؤ ڈالا اور ڈولی نے کنارے کو پکڑ کر اپنی پوری طاقت پتے کو نیچے جُھکانے پہ لگا دی۔
پتہ لچک کر مُڑنےلگا۔ بوندوں کی جھڑی اور تیز ہوا نے انہیں کئی بار ہلایا، مگر وہ ڈٹے رہے۔
آخرکار ایک "کڑاک!” کی آواز کے ساتھ پتہ ٹوٹ گیا۔ لمحہ بھر کے لیے دونوں پر پانی کا دھارا برس پڑا، ڈولی پُھر پُھرائی۔۔۔
مگر اگلے ہی پل وہ دونوں اس بڑے سبز پتے کے نیچے دبک گئے۔
بارش کے قطرے اب ان پر براہِ راست نہ گر رہے تھے۔ سبز چھتری نما پتہ پانی کو پِھسلا دیتا، اور ننھے پرندے پہلی بار سکون اور حرارت محسوس کرنے لگے۔۔۔
بھوک کی کسک ڈولی کے ننھے سے وجود میں بار بار چُبھ رہی تھی۔ بارش کے شور اور ٹھنڈی ہوا نے جیسے جسم سے ساری طاقت نچوڑ لی ہو۔ وہ آہستہ آہستہ پیپل کے موٹے تنے کی جڑ کی طرف سِرکی۔ وہاں بارش کے پانی میں بھیگے ہوئے چند بیج پڑے تھے، شاید کسی اور پرندے نے جلدی میں چھوڑ دیے ہوں۔

ڈولی نے لرزتی چونچ آگے بڑھائی اور ایک بیج اٹھا لیا۔ اُس کی ٹھونگ۔۔ سے جب کچا گودا پھوٹا تو بارش کی نمی میں گھل کر ایک اور مہک اُبھری۔ ۔۔
ایک دن بابا دور جنگل سے کچھ پھلوں کے بیج لائے تھے۔ اُس دن بھی آسمان یوں ہی برس رہا تھا، اور وہ سب اکٹھے ہو کر۔۔بارش سے بچنے کے لیے دادی کے مضبوط، آبائی گھونسلے میں۔۔ دبکے بیٹھے تھے۔ بارش کے شور کے بیچ بابا کی آواز بھاری اور سنجیدہ گونجی تھی۔۔
"یاد رکھو بچو… انسان اپنی ہی کی ہوئی غلطیوں میں پھنسا رہتا ہے۔ وہ درخت کاٹتا ہے، زمین ننگی کر دیتا ہے۔ پھر جب بارش آتی ہے تو وہی زمین پانی کے طوفان کو روک نہیں پاتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ باڑھ آتی ہے اور سب کچھ بہا لے جاتی ہے۔”
بابا نے اس دن ایک بیج چونچ سے توڑتے ہوئے کہا تھا
"یہ چھوٹے چھوٹے بیج ہی کل کو بڑے درخت بنتے ہیں۔ یہی درخت سایہ دیتے ہیں، بارش کو تھامتے ہیں اور زمین کو سہارا دیتے ہیں۔ جو انسان یہ بات بھول جاتا ہے، وہ خود اپنی جڑ کاٹ دیتا ہے۔”
ڈولی نے بیج کا چھوٹا سا ٹکڑا نگلا۔ ذائقہ معمولی تھا، مگر بابا کی باتوں نے اسے بھرپور کر دیا۔ اُس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ بادل گرج رہے تھے، بارش اب بھی بے رحم تھی، مگر دل کے اندر ایک چراغ جل اٹھا تھا۔
بھولو اُس کے قریب آ بیٹھا۔ اُس نے ڈولی کی آنکھوں میں نمی دیکھی تو چونک گیا۔۔
"کیا ہوا ڈولی؟ رو کیوں رہی ہو؟”
ڈولی نے ننھی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔۔
"یہ آنسو نہیں، بھولو… یہ تو بابا کی یاد ہے۔ دیکھو نا، اگر یہ پیپل نہ ہوتا تو آج ہم کہاں ہوتے؟ یہ پتہ، یہ بیج… یہ سب ہمارے لیے تحفہ ہیں۔ بابا ٹھیک کہتے تھے، درخت ہی اصل سہارا ہیں۔”
بھولو نے سر ہلایا۔ وہ دونوں خاموش ہو کر پیپل کے تنے سے لگ گئے۔ بارش کے قطرے نیچے پانی کے دریا میں چھوٹے چھوٹے دائرے بنا رہے تھے ۔۔۔
اگر جنگل میں رُکنے والا پانی جلد نہ نکلا تو یہ دلدل بن جائے گا، جانے انسانی آبادی کا کیا حال ہو۔۔۔
بھولو۔۔۔نے اچانک ہلکی سی اڑان۔بھری اور چند تنے پھلانگ کر درخت کےاونچے سِرے۔۔پہ جا بیٹھا۔۔۔
دور بہت دور۔۔کچھ انسانی آبادی کے ہیولے نظر آئے۔۔لیکن وہ بھی پانی میں دھنسے ہوئے نظر آرہے تھے، چہار سو پانی ہی پانی تھا کہ رستے تک گم ہو چکے تھے۔۔بھولو نے گھبرا کراپنے گھر کی سمت ڈھونڈھنے کی کوشش کی۔۔لیکن بے سود۔۔۔
ہر طرف پانی،بارش اور درختوں کی مہک تھی۔۔بھولو نے تھک کر ایک گہری سانس لی۔۔
بابا۔۔۔گھونسلے کی وسیع صحن میں بچوں کو سمجھا رہے تھے۔۔۔،دیکھو۔بچو۔۔۔اگر کبھی راستہ نہ ملے، یا تم بھول جاؤ۔۔تو زہن میں ان درختوں کی خوشبو کو یاد کرو۔۔جو تمہارے گھر کے رستے میں آتے ہیں، یہ مہک تمہیں ۔۔۔راستہ دکھائے گی۔۔۔
بھولو نے ایک گہری، روح تک اترنے والی سانس بھری۔۔۔
اچانک یادوں کا دریچہ کھل گیا۔ جیسے کل ہی کی بات ہو۔۔بابا گھونسلے کی دیلیز۔۔۔پہ بیٹھے بچوں کو سمجھا رہے تھے۔۔
"دیکھو بچو! یہ جو سامنے کچنار کا درخت ہے، اس کے پھول بہار میں بڑے بڑے گلابی اور سفید کھلتے ہیں، شہد کی مکھیاں اور پرندے انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔ اگر کبھی راستہ بھول جاؤ تو ان پھولوں کی میٹھی خوشبو کو پہچان لینا۔”
بھولو نے پھر ایک اور سانس لی، اس بار فضا میں نیم کے درخت کی تلخ مگر مانوس خوشبو گھل رہی تھی۔ بابا کی آواز گونجنے لگی۔۔۔
"اور یہ نیم کا درخت! اس کے پتوں کی کڑوی خوشبو دور سے بھی پہچانی جاتی ہے۔ یہ صرف درخت نہیں، ایک دوا ہے، جس کی چھاؤں ٹھنڈک دیتی ہے اور جس کی خوشبو تمہیں گھر کی دہلیز کا پتا دیتی ہے۔”
بھولو کا دل زور زور سے دھڑکا۔۔یہ دونوں خوشبوئیں تو وہی تھیں جو ان کے صحن کے آس پاس بسیرا کرتی تھیں۔ اس نے پر پھڑپھڑائے اور واہس۔۔۔نیچے ڈولی کے پاس آن بیٹھا۔۔۔
ہم گھر سے دور نہیں ڈولی۔۔آو چلیں۔۔
شام۔۔رات سے ہاتھ ملا رہی تھی۔۔۔
ایک دھندلا سا چاند ابھرا اور اس کی روشنی میں ۔۔قطرے موتیوں کی طرح چمکنے لگے۔ ۔۔۔
ڈولی نے پر پھیلائے اور دونوں خوشبو کے اس سنہری دھاگے کے ساتھ آگے بڑھنے لگے۔ کچنار کے پھول بارش میں بھی جگنوؤں کی طرح چمک رہے تھے، نیم کے پتوں سے اٹھتی کڑوی خوشبو ہوا میں جادو کی لکیریں کھینچ رہی تھی، اور صحن کے قریب لپٹی بیل کی نمی جیسے راستہ بُنتی جا رہی تھی۔ ہر خوشبو اب چراغ کی طرح جل رہی تھی، ہر درخت ان کا رہنما بن گیا تھا۔
اور پھر۔۔۔گھونسلے کی جھلک دکھائی دی۔ بارش کی بوندوں کے درمیان وہ جگمگاتا سا لگ رہا تھا، جیسے جنگل کے دل میں کوئی جادوئی قلعہ ہو۔ صحن میں بابا کھڑے تھے، پروں کو پھیلائے، اور بچوں کی چہکار خوشبو کے ساتھ مل کر ایک نغمہ۔۔۔ بنا رہی تھی۔
"ڈولی آ گئی! بھولو آ گیا!”
بھولو اور ڈولی سیدھے بابا کی بانہوں میں سما گئے۔ ان کے دل کی دھڑکن اب پرسکون تھی۔ باہر بارش گاتی رہی، ہوا نغمے سناتی رہی، مگر گھر کے اندر سب کچھ روشنی اور حرارت ۔۔میں ڈوبا ہوا تھا۔
بابا نے محبت سے کہا۔۔۔
"یاد رکھو، بچو… گھر صرف لکڑی اور گھاس کا نہیں ہوتا۔ گھر وہ جگہ ہے جہاں خوشبو، یاد اور دل ایک ساتھ رہتے ہیں۔ اور یہ خوشبو کبھی کھو نہیں سکتی۔”
بھولو اور ڈولی نے آنکھیں موند لیں۔ ان کے گرد بارش اور درختوں کی خوشبو ایک خواب بُن رہی تھی ۔ایک ایسا خواب جس میں گھر ہمیشہ مل جاتا ہے۔ ۔۔




