منتخب کالم

اک دیا جل رہا تھا حوالات میں/ میاں حبیب



شاعری بھی جادو ہے۔ یہ اللہ کی عطا ہے۔ لوگ اپنی بات بتانے میں سالوں گزار دیتے ہیں لیکن وہ دل کی بات زبان تک نہیں لا پاتے اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اظہار کرنے کے لیے پوری کتاب لکھ مارتے ہیں لیکن بات پھر نہیں کر پاتے۔ شاعر لوگ وہی بات ایک مصرعہ میں کہہ دیتے ہیں بلکہ بعض شعر تو ایسے ہوتے ہیں جن کی تشریح پر کتابیں لکھی جاتی ہیں۔ ایک فقرہ اکثر بولا جاتا ہے، کوزے میں دریا بند کرنا۔ اس فقرے کی عملی شکل دیکھنی ہوتو وہ شعروں میں دیکھی جا سکتی ہے اور پھر چونکہ شاعری ربط ڈسپلن وزن اور جوڑ کا نام ہے اس لیے شعر فوری دل پر اثر کرتے ہیں۔ دنیا میں عشق کی آبیاری میں شعراء  کا بڑا ہاتھ ہے۔ شاعری کے ذریعے دل ودماغ پر ایسی چوٹ لگاتے ہیں، ایسا اثر چھوڑتے ہیں کہ اتنا تو کوئی تعویذ بھی کارگر ثابت نہیں ہوتا جو کام ایک شعر کر جاتا ہے۔  شاعری خیالات اور اظہار کے مجموعے کا نام ہے۔ جس طرح کوئی اپنے محبوب سے دل کی برملا بات نہیں کر سکتا وہ شاعری میں سب کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کر رہا ہوتا ہے اور لوگ اس کے اظہار پر برا منانے کی بجائے اسے داد دینے پر مجبور ہوتے ہیں حالانکہ وہی بات کوئی عام لفظوں میں کہہ دے تو معاشرہ اس کا جینا دوبھر کر دیتا ہے بلکہ آجکل تو سی سی ڈی کا اتنا خوف ہے کہ کوئی پتہ نہیں اظہار کرنے والے کے نیفے میں کس وقت پستول چل جائے۔ یہ ایڈوانٹیج صرف عشق فرمانے والوں کے لیے ہی نہیں، بعض اوقات حالات ایسے بن جاتے ہیں کہ بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔  آپ اپنا مافی الضمیر بھی بیان نہیں کر پاتے تو اس نازک وقت میں بھی آپ شاعری کے ذریعے آسانی سے اظہار کر لیتے ہیں لیکن ہم نے کئی شاعروں کو بھی  شعر کہنے کی پاداش میں جیل جاتے دیکھا ہے کیونکہ حکمرانوں کو ڈر ہوتا ہے کہ کہیں  شاعری آگ نہ لگا دے۔ بنیادی طور پر شاعری سوچ ہوتی ہے۔ جس طرح سنار سونے کی ایک ڈلی کو اپنے ہنر سے خوبصورت زیور میں بدل دیتا ہے اسی طرح ایک شاعر لفظوں کے جوڑ سے شاہکار تخلیق کرتا ہے۔ شاعری اظہار رائے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ اس ساری تمہید کا موجب وہ کتاب تھی جو اوریا  مقبول جان کا دوسرا شعری مجموعہ تھا جسے قلم فاونڈیشن کے علامہ عبدالستار عاصم نے مرتب کیا ہے۔ اس کتاب کا کچھ حصہ اوریا  مقبول نے اپنی اسیری میں لکھا جس طرح کہ کتاب کے ٹائٹل سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ شاعر حوالات میں ہے اور گہری چوٹ کھائے ہوئے ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی صحافی کے لیے اس سے بڑی اور کوئی سزا نہیں ہو سکتی کہ وہ اظہار نہ کرسکے۔ کتنے لوگ ایسے تھے جن کی گفتگو سنے بغیر لوگوں کا دن مکمل نہیں ہوتا، کتنے کالم ایسے تھے جن کو پڑھے بغیر گزارا نہیں تھا۔ آج وہ منظرنامے سے غائب ہیں لیکن کوئی ان سے پوچھے ان پر کیا بیت رہی ہے۔ ان کی خاموشی قید بامشقت سے بڑی سزا ہے۔ 
ایسے پرخوف، پر آشوب حالات میں 
اک دیا جل رہا تھا حوالات میں
تمہیں تو مل گئی شہرت قلم کو بیچ کر اپنے 
وصول اپنی بھی ہم قیمت اگر کرتے تو جی لیتے
 اک دیا جل رہا تھا حوالات میں کے شاعر نے شام کو قیدیوں کو حوالات میں بند کرنے کی منظر کشی کرتے ہوئے کہا ہے۔                                 
زمین وآسماں کی وسعتوں میں
 جھومتے گاتے پرندے
  اپنی آزادی سے
مرضی سے
 درختوں پر بسائے گھونسلوں کو
  لوٹ جاتے ہیں
مگر زنداں مقدر قید کے پنچھی
جنھیں ڈربوں کی صورت
بیرکوں اور چکیوں میں
ہانک کر 
لے جایا جاتا ہے
 سلاخوں سے بنے وہ آہنی در
آنے والے کل کے سورج کے نکلنے تک
مقفل ہوتے جاتے ہیں ویسے تو پوری کتاب کا ایک ایک لفظ غور طلب ہے لیکن چند شعر آپ کی نذر۔ 
جو کل تک آنکھ میں تھے خوشنما سے
وہ منظر اب بدلتے جا رہے ہیں 
ایسا پہلے کبھی ہوتا تھا، یہ سوچا تم نے
شہر یوں پھوٹ کے روتا تھا یہ سوچا تم نے 
اب دست دعا اٹھتا ہے مگر مطلوب نہیں مقصود نہیں 
لفظوں کی ہر اک جادو نگری، تصویر بنا نہیں پاتی ہے 
ہمیں جو بھولنا چاہو تو بھول ہی جانا
ہمیں بھلانے کا کچھ اہتمام کر لینا





Source link

Author

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments

Related Articles

Back to top button
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x