غزل
غزل /ہمیں محبت کے آئینے میں رکھا گیا تو/منیر انور

غزل
منیر انور
کسی کی آنکھیں کسی کے رخسار جل اٹھیں گے
اب اس کہانی کے سارے کردار جل اٹھیں گے
اگر اندھیروں سے جنگ ٹھہری تو دیکھ لینا
بجھے ہوئے لوگ مرحلہ وار جل اٹھیں گے
وہ لفظ جو ہم جلا رہے ہیں، انہی کی لو سے
اندھیر نگری کے اندھے معیار جل اٹھیں گے
خدا کے بندو! یقین رکھو کہ تم اٹھے تو
یہ خانقاہیں، یہ سارے دربار جل اٹھیں گے
سنو تذبذب کی کیفیت سے نکل کے دیکھو
یہ بیڑیاں ٹوٹ جائیں گی، دار جل اٹھیں گے
ہم اپنے حصے کے رہن رکھوا کے سارے جگنو
یہ سوچتے ہیں ہمارے کہسار جل اٹھیں گے
تم اپنے بجھتے چراغ دیکھو، ہماری چھوڑو
ہمیں پتا ہے کہ ہم پھر اک بار جل اٹھیں گے
ہمیں محبت کے آئینے میں رکھا گیا تو
تمام صحرا، سبھی چمن زار جل اٹھیں گے





بہت شکریہ 💐