
امیر علی کی بیوی کا انتقال ہو گیا ، بالکل اچانک ۔۔شہر بھر میں موزی بخار نے کئی گھروں سے میتں اٹھائیں ان میں سے ایک گھر امیر علی کا بھی تھاموت نے رخسانہ بیگم کو جب لے جانے کا بہانہ بنایا تو یہ بھی نہ دیکھا اس کے بیٹوں کا کیا ہو گا امیر علی کی طرف دیکھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔امیر علی جب بیوی کو بچانے کی کوششوں میں لگا ہوا تھا وہ نہیں جانتا تھا اس کی محنت اس کی دعائیں رائیگاں ہو جائیں گی اور جب رخسانہ کے چہرے کو نرس سفید چادر سے ڈھک رہی تھی تواسے لگا اس کی پوری کائنات پر کسی نے گہرا پردہ ڈال دیا ہو بس اب اس کے لئے سب ختم ہو گیا۔ اسے یقین آگیا کہ اگر اس پوری دنیا میں کوئی بے حس ہے تو بس یہ موت ہے جو کسی کے جذبے کسی کی چاہت کو نہیں دیکھتی ۔۔
امیر علی کی اپنی عمر بھی کیا تھی بس پینتا لیس سال بھلا یہ بھی کوئی عمرہے ایسا عذاب سہنے کی ا سے خود پہ ترس آرہا تھا ۔۔ رخسانہ کا آخری دیدار کرتے ہوئے اس کے ساتھ گزارے بیس سال بیس لمحوں میں اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم گئے وہ اس سے پانچ چھ برس چھوٹی تھی ۔۔ کتنا خوبصورت وقت گزر ا،کتنی حسین عورت تھی اب منوں مٹی کے نیچے جا سوئے گی ۔۔۔ امیر علی کو اس وقت اپنے غم سے زیادہ حسین عورت کی جوان مرگی رلا گئی ۔۔
بچے بہت چھوٹے نہ تھے کہ سنبھل نہ پاتے ،سنبھل گئے اسے بھی لگا جیسے وہ بھی رفتہ رفتہ سنبھل رہا ہے۔ بیوی کی موت کہنی کی چوٹ جیسی ہے لگے تو جان کھینچ لیتی ہے مگر یہ ازّیت بہت دیر تک نہیں رہتی ، سنبھالا مل جاتا ہے لیکن امیر علی کے لئے کہنی کی چوٹ روگ بن گئی ۔۔
چالیسواں ہوا تو سب دوست احباب اور رشتے داروں نے گھر میں عورت نہ رہنے پر اندیشہ ظاہر کیا کہ اب گھر ،گھر نہیں رہے گا گھر تو بناتی ہی عورت ہے جس گھر میں عورت نہ ہو اس گھر کے تالے زنگ آلود ہو جاتے ہیں ، پہرے خاموش ہو جاتے ہیں، بچے من مانی کرنے لگتے ہیں امیر علی سر جھکائے ساری حکائیتیں سن رہا تھا اسے یقین تھا اب کوئی دوست ،عزیز، رشتے دار یہ ضرور کہے گا ۔۔
”امیر علی ہے تو مشکل مگر تمہیں یہ کڑوی گولی نگلنی ہو گی ۔۔ اپنے لئے نہ سہی بچوں کے لئے ،گھر کے لئے ،ہم جانتے ہیں رخسانہ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا مگر اسے مجبوری سمجھواور شادی کر لو ۔“ ا ور وہ روائتی پس و پیش کے بعد اِس عظیم پیشکش کو بصد انکسار قبول کر لے گا ۔ ظاہر ہے ”نظامِ زندگی“ بھی تو چلانا ہے ، ابھی پچھلی شب بستر پہ لیٹے لیٹے اس نے کس شدت سے رخسانہ کی کمی کو محسوس کیا تھا ۔ امیر علی نے آہ بھر ی۔ کیسے جھٹ پٹ مر گئی بے چاری ۔ اس نے دکھ سے سوچا اس کی آنکھوں میں نمی آگئی وہ مسلسل خود ترسی کے مرض میں مبتلا ہوئے جا رہا تھا۔۔ جانے اور کتنی زندگی ہے ،
جتنی بھی ہے تنہا کیسے کٹے گی میں گھر دیکھوں یا دوکان دیکھوں جب سے رخسانہ مری ہے خدا گواہ ہے نہ کھانے کا ہوش رہا نہ کپڑوں کا نہ ہی گھر کی کسی اور شے کے ٹھکانے کا پتہ چل رہا تھا کوئی بیٹی ہوتی تو بات اور تھی مگر اب ۔۔۔۔ رخسانہ مجھے معاف کر دینا ہمارا گھر مکان بنتا جا رہا ہے بس ایک سرائے جیسا ، اگر سب مل کر مجھے شادی کے لئے مجبور کریں گے تو مجھے کرنی پڑے گی تیرے گھر کی ، تیرے بچّوں کی خاطر ۔ ۔۔۔۔۔ مگر یہ کیا۔۔۔ اس نے سننے کے لئے ساری توجہ بڑے بیٹے رضوان کی طرف کردی وہ مسلسل جرح کر رہا تھا ۔
”یہ کیسے ممکن ہے میں ابھی اِ س جھنجٹ میں نہیں پڑنا چاہتا ابھی میری ٰ عمر ہی کیا ہے ۔۔آپ لوگ ابو کی شادی کیوں نہیںکر ادیتے ۔ ۔“ وہ ناگواری سے بولے جا رہا تھا ۔۔اس نے پہلے تو غور سے بات کی نوعیت کو سمجھا پھر خود کو ٹٹولا اسے رضوان کی بات میں کافی وزن نظر آیا واقعی ابھی رضوان کی عمر ہی کیا تھی صرف انیس سال ۔۔ امیر علی نے رضوان کی بات کو آگے بڑھانے کی خاطر کچھ کہنے کے لئے گلا صاف کیا مگر اس کے کہنے سے پہلے ہی خاندان کی ایک بزرگ عورت بول پڑی ۔۔ ”پاگل ہو گئے ہو کیا باپ کی شادی کراﺅ گے ؟ سوتیلی ماں لاﺅ گے ؟ ایک بات بتا ئے دیتے ہیں تمہیں ،سیانے کہتے ہیں ماں سوتیلی ہو تو باپ آپ ہی سوتیلا ہو جاتا ہے تو اپنے چھوٹے بھائیوں کو سوتیلے پن کی آگ میں جلانا چاہتا ہے کیا ؟“
امیر علی پریشان ہو گیا سب کے چہروں کو خالی خالی نظروں سے دیکھنے لگا وہی بوڑھی عورت پھر بولی ۔”امیر علی تیری کیا صلح ہے اپنے بچوّں کو سوتیلی ماں کے قہر میں رکھنا چاہتا ہے یا رضوان کو منائے گا ۔؟“
امیر علی کے بولنے سے پیشتر ہی اس کی بڑی چچی نے کتھا کھائے دانتوں کے بیچ سپاری رکھ کر بھنچے بھنچے منہ سے کہا ۔۔۔ ”لو بھلا امیر علی کو کیا اعتراض ہو گا ، پکا پکایا ملے گا، کپڑا دھلا ہوا،طریقہ سلیقہ آجائے گا پھر سے گھر میں ۔۔۔ اور ہاں بہو آجائے گی تو سکون سے باہر نوکری کر سکے گا ورنہ تو سارا دھیان
اِدھر بچوں میں لگا رہتا ہو گا بے چارے کا ۔۔“ پھر لمبا سانس کھینچ کے دکھی لہجے میں بولیں ”رخسانہ کی بے وقت موت نے کیسے ادھ موّا کر دیا ہے غریب کو ۔۔ “
امیرعلی نے سب کی باتیں سنیں اسے اپنی سوچ پر خود سے ہی شرم آنے لگی اس نے سر جھکا کر سب کی باتوں پر سر تسلیم خم کر لیا ۔ طے پایا رضوان کا بیاہ اگلے اتوارسادگی کے ساتھ کر دیا جائے گا لڑکی چچی نے پہلے ہی نظر میں رکھی ہوئی تھی ا ن کے شوہر کی بھتیجی کامنی ۔۔ سب لوگ فیصلہ سنا کے چلتے بنے اور وہ رخسانہ کی قبر پہ آبیٹھا ،اس سے معافی مانگنے کہ وہ گمراہ ہو گیا تھا دل کی باتوں اور جسم کی تھکان نے اس پہ جادو کر دیا تھاورنہ وہ رخسانہ کے سوا کسی اور کے بارے میں کہاں سوچنے والا تھا شکر ہوا بر وقت فیصلہ ہو گیا۔
کامنی بمشکل سترہ سال کی تھی ۔ تیکھے نقوش، سانولا رنگ مگر جلد ایسی ملائم کہ پانی کا قطرہ بھی پھسل پھسل جائے گالوں کے اندر ان گنت چراغ روشن رہتے آنکھوں میں شرم وحیا سرمے کی طرح پہرے دیتی اور بدن میں ایسی سختی کہ جو اگر بھولے سے امیر علی کی نظر اس پہ جا پڑتی تو اسے جھرجھری سی آجاتی ۔۔کامنی کے آتے ہی گھر کا نقشہ بدل گیا تھا جیسا کہ چچی نے کہا تھا اسے دھلا
دھلایا ملتا گھر کی ہر شے قرینے سے رہتی دستر خوان بن مانگے سج جاتا وہ سوچتا شائد اس کی بیٹی بھی ایسی ہنر منداور سلیقہ شعار نہ ہوتی ۔وہ دیکھتا کامنی صبح ہوتے ہی سب کو ناشتہ بنا کے دیتی اسے اور رضوان کو دکان جانا ہوتا تھاچھوٹے دونوں ابھی سکول کالج میں تھے سب کو بھیج کے گھر کے کاموں میں لگ جاتی پھر دوپہر کا کھانا، بے چاری کتنا تھک جاتی ہو گی ا سے ہمیشہ کامنی کا احساس رہتا وہ سوچتا اتنی کم عمری میں اگر اس کی سگی بیٹی پر اتنی ذمہ داریاں پڑ جاتیں تو کیا وہ اس کا ساتھ نہ دیتا جانے کیوں وہ غیر شعوری طور پر کامنی اور اپنی اس بیٹی میں مقابلہ کرتا رہتا جو تھی ہی نہیں شائد اِس لئے کہ بیٹی کی محرومی کامنی نے آکے بہت خوبصورتی سے ختم کر دی تھی ۔۔وہ کو شش کرتا گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں کامنی کا ہاتھ بٹا دے اس دن بھی دوکان سے آکے موٹر سائیکل صحن میں کھڑی کرتے کرتے ا س نے سوکھے کپڑے تار پہ لہراتے دیکھے تواس سے رہا نہ گیایہ کپڑے اس نے پچھلے کل دھوئے تھے لیکن ا سے ا تارنے کا وقت ہی نہ مل سکا امیر علی کو کامنی کی مصروفیت کا خیال تھااِسی لئے اس نے کپڑے ا تارنے شروع کر دیے یہ کام ا س کے لئے کون سا نیا تھا جب سے رخسانہ دنیا سے رخصت ہوئی تھی وہ سب ہی کام خود اپنے ہاتھوں سے کر رہا تھا سوکھے کپڑے تار سے ا تارنے کیا معنی رکھتے تھے ا سے تو اکثر کپڑے دھونے بھی پڑتے رہے ہیں ہاں البتہ جنتّی رخسانہ کی زندگی میں کبھی ا س نے کسی کام کو چھو کے نہ دیکھا تھا ۔۔۔۔۔ اچانک کپڑے کھینچتے کھینچتے ا س کے ہاتھ اپنی جگہ جم گئے
آج تک اس نے صرف پیینٹ اور شرٹ ہی کو تار پہ لہراتے دیکھا تھا پہلی بارایسا ہوا کہ ۔۔۔ مردانہ کپڑوں کے درمیان زنانہ خوشبو میں بسے کامنی کے کپڑے بھی سوکھ رہے تھے وہ سونگھنا نہیں چاہتا تھا ، ہاتھ بھی نہیں لگانا چاہتا تھا مگر ۔۔۔ امیر علی کا چہرہ سرخ ہو گیا ماتھے پر پسینے کے قطرے چمکنے لگے، لگا ہاتھ نے بے ساختہ ہی انگاروں کو چھو لیا ۔۔ امیر علی نے محسوس کیا کپڑوں کی گٹھری بناتے وقت ا س کے بازﺅں میں وہ طاقت نہیں رہی تھی جس کا ا سے ہمیشہ گمان رہتا تھا ۔۔
کامنی اس وقت روٹیاں سینک رہی تھی چولہے کی گرمی اور آگ کی تپش نے ا س کی جلد کے سارے دےے روشن کررکھے تھے ۔ ا س کی سیاہ کاجل سے بھری آنکھوں میں سرخ آگ کا عکس دھڑک رہا تھا ۔۔ اچانک امیر علی کو کپڑوں کا گٹھڑ لاتا دیکھا تو گڑ بڑا گئی توئے پہ روٹی ا تارے بغیر ہی لپکی وہ جانتی تھی اس نے سوکھنے کو کون کون سے بچھو تار پہ ڈال رکھے تھے تب ہی تو شرم سے اور بھی سرخ ہو گئی ۔۔ ” ہائے اللہ ابو آپ نے کیوں ا تارے کپڑے میں خود ا تار لیتی فارغ ہو کے ۔۔“ وہ نیچی نظر کےے کےے بولی ۔
”میں بھی فارغ ہی تھا ۔۔ “ امیر علی نے نرمی سے انجان بن کے جواب دیا۔۔ کامنی نے شکر گزاری سے گٹھری ا س کے ہاتھ سے لی اور ایک طرف رکھ کے دھیمے سے انداز میں بولی ۔ ”ابو آپ ہاتھ دھو لیں میں کھانا لگاتی ہوں ۔ـٗٗ
”بچے کہاں ہیں ۔۔؟“ امیر علی نے باورچی خانے کی ٹونٹی سے ہاتھ دھوتے دھوتے پوچھا ۔۔ ّّ
فیضی اور ارسلان ہوم ورک کر رہے ہیں اور”یہ“کہہ رہے تھے ابھی بھوک نہیں ۔“
”خیر تو ہے بھوک کیوں نہیں۔۔ “؟امیر علی نے ہاتھ دھو کے ہوا میں ہاتھ جھٹک کے پانی کے چھینٹے ا ڑاتے ا ڑاتے پریشانی سے پوچھا ۔۔ کامنی پھر شرما گئی اور جب وہ شرماتی امیر علی دل ا چھل کے حلق میں آجاتا اور نظر جھک جاتی ۔۔ خدا گواہ تھا امیر علی کے دل میں کامنی کو دیکھ کے کبھی برا خیال نہ آیا تھا مگر عورت کو ا س نے قریب سے دیکھ رکھا تھا وہ نسوانی اداﺅں سے واقف تھا بدن کے کیف
سے واقف تھا وہ جانتا تھا نئی بیاہتا کے شرمانے کے راز کیا ہیں ا س کی بوجھل پلکیں کیا چھپانا چاہتی ہیں اور بے وجہ مسکراتے ہونٹ
کیا بتانا چاہتے ہیں ۔۔
’ ’دہی بھلے اور سموسے لے آئے تھے یہ ۔۔ ہم سب نے مل کے ابھی کچھ دیر پہلے ہی کھائے ہیں ۔۔۔ “
امیر علی حیران رہ گیا رضوان اور دہی بھلے ،سموسے دو مختلف سی باتیں لگ رہی تھیں کا منی امیر علی حیرت تک پہنچ گئی کھانے کی ٹرے ا س کے سامنے رکھتے رکھتے بولی ۔۔” میرا جی چاہ رہا تھا ابو ۔اس لئے لائے تھے ۔۔“مگر امیر علی ا س کی سن کہاں رہا تھا وہ تو جھکی ہوئی کامنی کی بھول بھلیوں میں گم تھا شائد کامنی کو احسا س ہو گیا وہ دوپٹہ ٹھیک کرتی وہاں سے ہٹ گئی مگر منظر پھر بھی ٹہر گیا ۔۔
دن گزر رہے تھے وہ دیکھ رہا تھا کامنی کی دونوں دیوروں سے محبت بھی گہری ہوتی جارہی تھی رضوان کے دل پر تو وہ یوں قابض ہوئی جیسے کسی کنواری پہ آسیب وہ جہاں جاتی رضوان کی نگاہ ا س کے تعقب میں رہتی کامنی کو خوب اندازہ تھا اِسی لئے پلٹ پلٹ کے مسکراتی رہتی بن بات کبھی آنکھوں سے تو کبھی ہونٹوں سے۔۔ دیکھا جائے تو اِس سے اچھی کیا بات ہو سکتی تھی کہ ا س نے ساری ذمہ داریاں آہستہ آہستہ اپنے نازک کا ندھوں پہ ڈال لی تھیں ۔۔
وہ گرمیوں کے دن تھے اور حبس بھری راتیں اور اگر یہ دن گرمیوں کے نہ بھی ہوتے تب بھی امیر علی کے سب دن گرم اور تمام راتیں حبس زدہ ہو چکی تھیں۔۔۔ بات صرف اتنی تھی کہ وہ شریف انسان تھا کچھ لوگ کہتے ہیں شریف وہ ہوتا ہے جسے موقع نہیں ملتا اور کچھ شریف ایسے بھی ہوتے ہیں جو میسر نہ آسکنے والی چیز کو مقدر کے سپرد کر دیتے ہیں گویا جِسے چھونا ممکن نہ لگے وہ ا ن کے حساب سے خدا ہی ہوتا ہے ۔۔ امیر علی کی معاشرے میں جس قدر عزت تھی ا س کی
اولاد جیسے اپنے باپ کی شرافت کی قسمیں کھاتی تھی جس طرح رضوان ا س کے خاموش مشورے سے خوش تھا ۔۔ سب کچھ مل کر ا س سے ا س کی طاقت چھین چکے تھے دل کی ساری آرزوئیں ا س کے لئے خدا بن چکی تھیں ۔۔۔ حبس بھرے ماحول ، سوچوں کی یلغار اور خود سے گھبرا کے امیر علی نے چھت پہ جائے پناہ ڈھونڈنی چاہی ا س کی عمر تو ایسی نہ تھی مگر ا س کے تشخص نے ا سے وقت سے پہلے بوڑھا اور کمزور کر دیا تھا اب اس کے گھرمیں بہو آچکی تھی بہت جلد
اسے دادا بھی بن جانا تھا۔ ایک ایک سیڑھی اس کے لئے بلند چوٹی کی چڑھائی جیسی مشکل ہو رہی تھی اور کیوں نہ ہوتی ا س کے اندر کاجوان امیر علی اپنی بیوی کے مرتے ہی خود کو ختم جو کر چکا تھا رفتہ رفتہ اسے سمجھ آنے لگا تھا ،سّتی کی رسم ختم ہو جانے کے باوجود ابھی باقی ہے مرد اور عورت کی تشخیص کے بغیر۔۔ بس اب اس کو ادا کرنے کا طریقہ بدل گیا ہے ۔۔
آخری سیڑھی پر پیر رکھتے ہوئے کامنی کی مدھر آواز نے ا س کا راستہ روک لیا اس نے سرگوشی میں کہا مگر سناٹے میں آواز کا سفر آسان ہو جاتا ہے کامنی کی آواز بھی امیر علی تک باآسانی پہنچ گئی ا س نے سنا وہ کہہ رہی تھی ۔”سنیے کیا ہم ابو کی شادی نہیں کر اسکتے ۔۔؟“
”کیا ۔۔؟“ رضوان کی کرنٹ لگی آواز امیر علی کے کانوں سے ٹکرائی ۔۔” پاگل ہو گئی ہو کیا ابو ہر گز نہیں مانیں گے ۔“
آپ کہہ کے تو دیکھیں ۔۔۔ مان جائیں گے ۔“ ا س نے اصرار کیا ّّ
” دیکھو اگر انہوں نے شادی کرنی ہوتی تو تب ہی کہہ دیتے جب سب مجھے مجبور کر رہے تھے لیکن وہ اپنے بچوں پہ سوتیلی ماں لانا ہی نہیں چاہتے ویسے بھی میں ان کو اچھی طرح جانتا ہوں وہ امی کے علاوہ کسی عورت کو بیوی کا درجہ دے ہی نہیں سکتے ۔۔ “
”آپ سمجھتے کیوں نہیں ۔۔“ وہ زچ ہو رہی تھی ۔۔”مرد کو ہمیشہ بیوی نہیں چاہئے ہوتی ۔۔ “
امیر علی کو یوں لگا جیسے کامنی نے اس کی چوری پکڑلی ہو اسے کوئی نہیں دیکھ رہا تھا مگر اس کے اندر کا شریف آدمی پسینے پسینے ہو گیا ۔۔ پھر چارپائی چر چرائی یقیناََ رضوان نے کروٹ لے کر اپنا رخ کامنی کی طرف کیا ہو گا ۔ امیر علی نے قدم پچھلی سیڑھی پہ دھرا سرگوشی ابھری۔۔” کتنا بور کرتی ہو تم ۔۔ دیکھو کتنی ٹھنڈی میٹھی رات ہے ، شکر ہے چاند بھی نہیں چمک رہا تاریکی ہی تاریکی ہے اِس پر تم ابو کی وکیل بنی بیٹھی ہو ۔۔ْ،،“
کیونکہ مجھ سے ان کی تنہائی دیکھی نہیں جاتی ۔۔ وہ اتنے اکیلے اور ۔۔۔ “ کامنی بات کرتے کرتے خاموش ہو گئی شائد رضوان نے اس کے نرم ہونٹوں پہ انگلی رکھ دی ہو گی یا پھر ۔۔۔۔ سوچ کے ہی امیر علی کے کان سلگ ا ٹھے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو گئی ۔۔
” یہ ہمارے پیار کا وقت ہے اِ س میں ،میں کسی کا ذکر برداشت نہیں کر سکتا ، ابو کا بھی نہیں ۔۔ “
امیر علی کے جسم میں لرزہ سا آگیا ۔
”آہستہ بولیں رضوان اگر ابو اوپر آگئے ۔۔ اور ا نہوں نے سن لیا تو ۔۔ ؟“
”کل سے ا ن کے کمرے میں تالا لگا کے آیا کروں گا میں، تا کہ تمھارا یہ دھڑکا بھی ختم ہو جائے کہ وہ اوپر آسکتے ہیں ۔۔“
امیر علی کا ہاتھ بے ساختہ سینے پہ پڑا ۔۔ درد کی شدید لہر ا س کے سینے سے نکلی اور پورے جسم میں پھیل گئی ا س کا پیر لڑکھڑایا اور وہ گرتا چلا گیا ۔۔
ہوش آیا تو سب ا س پہ جھکے ہوئے تھے ۔۔ کامنی بہت پریشان تھی امیر علی کی نظر چاروں طرف گھومی وہ سمجھ گیا کہ وہ ہسپتال میں ہے کامنی کا چہرہ آنسوﺅں سے تر تھا امیر علی کو ہوش میں آتا دیکھا تو بے تابی سے ا س پہ جھکی ۔۔” ہائے اللہ ابو آپ ٹھیک ہیں ناں ۔۔؟“ وہ رودی ۔” شکر ہے آپ کو ہوش آگیا اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو ہائے اللہ ۔۔ “ ا س نے دونوں ہاتھوں سے اپنے گال پیٹے ۔
”ڈاکڑکہہ رہا تھا آپ کا جلدی ہوش میں آنا بہت ضروری ہے ، چوٹوں کی توخیر ہے ٹھیک ہو جائیں گی ۔ مگر۔ “ امیر علی نے کامنی کی بات سے توجہ ہٹا نی چاہی ایک لمحے میں ا سے سب کچھ یاد آگیا محض اپنی توجہ بانٹنے کے لئے ا س نے اپنے جسم کو حرکت دی اس نے محسوس کیا کہ ا س کا پورا جسم درد سے چور پھوڑا بنا ہوا ہے ۔ ا س نے اپنا بائیاں ہاتھ ا ٹھانا چاہا مگر کامنی نے جلدی سے امیر علی کے ہا تھ پہ ہاتھ رکھ دیا ۔۔
”نہیں ابو ہاتھ نہ ہلائیے گا کہنی کا جوڑ ہل گیا ہے بہت گہری چوٹ لگی ہے ڈاکڑ کہہ رہا تھا احتیاط بہت ضروری ہے اگر احتیاط نہیں کی ۔۔ تو کہنی کا جوڑ ٹھیک نہیں ہو گا کیوں رضوان ؟۔۔
جانے رضوان نے کیا جواب دیا امیر علی نے آنکھیں بند کر لیں یہ تو وہ جان گیا تھا کہنی کی چوٹ بہت ظالم ہوتی ہے اچانک لگے تو لگتا ہے جیسے جان ہی نکل گئی ہو مگر سنبھالا مل جاتا ہے لیکن نہیں، سنبھالا اتنا آسان کہاں تھا ا س نے سنا کامنی نے بھر پور معصومیت سے نمک پاشی کی ۔
۔”رضوان اگر ابو کی چوٹ ٹھیک نہ ہوئی تو ا ن کی زندگی ا ن پر کتنی بوجھ بن جائے گی ۔۔؟“
امیر علی کی آنکھوں میں اپاہجی کا ممکنہ دکھ آنسو بن کے چمکنے لگا اس نے جسم کو ڈھیلا چھوڑدیا جیسے جو ہونا ہے ہو جائے ۔۔کیوں کہ کہنی کی چوٹ روگ تو بن سکتی ہے جا نہیں سکتی ۔۔
دلشاد نسیم ۔۔




