سہیل وڑائچ کی ملاقات / حامد ولید

سنیئر اور معروف صحافی سہیل وڑائچ غالباًسوشل میڈیا انفلوئنسروں سے ملاقاتیں کرتے کرتے خود بھی سوشل میڈیا کے انفلوئنس میں بہہ گئے ہیں۔ ـفیلڈ مارشل سے ملاقات کے عنوان سے لکھے گئے مضمون پر پہلے تو ان کی واہ واہ ہوئی اور بعد میں آہ آہ کی نوبت آ گئی۔لوگ انگشت بدنداں ہیں ، ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ یہ کیا ہوا، کیوں ہوا ، کیسے ہوا؟
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی نواز اینکر پرسنز نے سہیل وڑائچ کے اس انٹرویو کو خوب استعمال کیا ،ایسا تاثر دیا جیسے اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو دوبارہ سے مقام دلبری پر فائز کردیا ہے اور معاملہ صرف معافی تک کا رہ گیا ہے ۔ ان کی باتوں سے ایسا لگا جیسے عمران خان بھی معافی مانگنے کے لئے تلے بیٹھے ہیں اور بس اس ایک کالم کا ہی انتظار تھا۔ پروگرام پر پروگرام ہو رہے تھے ،محمود خان اچکزئی کی بطور اپوزیشن لیڈر تعیناتی سونے پر سہاگہ ثابت ہوئی ۔یوں لگا جیسے پو، بارہ ہو گئے، اب اچکزئی صاحب عمران خان کو جیل سے نکلوا کر دوبارہ سے مسند اقتدار پر لا بٹھائیں گے ۔ ایسی ایسی درفنطنیاں چھوڑی گئیں کہ الامان و الحفیظ!
چارو ناچار ڈی جی آئی ایس پی آر کو بولنا پڑا، اس کے بعد منظر یکسر بدل گیا۔کچھ ایسا ہی کام سینیٹر افنان اللہ نے ایک اینکرپرسن سے کیا۔ اس اینکر نے سیاستدانوں پر برسنا شروع کیا اور ترقیاتی فنڈز کے غلط استعمال کی آڑ میں فیصل واوڈا کو ساتھ ملا کر فوج کی حمائت کا ڈونگرہ برسایا تو سنیٹر افنان اللہ نے کہا کہ حکومت ہر سال کئی ارب روپیہ میڈیا کو دیتی ہے جس سے اینکر پرسنوں کی بھاری تنخواہیںدی جاتی ہیں ، کیوں نہ اس خطیر رقم کو اضلاع کی طرف موڑ دیا جائے تاکہ عوام کا بھلا ہو۔اس پر مذکورہ اینکر جذباتی ہو گئے فریقین کے جذبات اس طرح بھڑکے کہ بریک لینا پڑ گئی۔
دوسری جانب محمد مالک رانا ثناء اللہ کو ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے کہ محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرکے عمران خان نے گویا حکومت کو شہ مات دے دی ہے اور اپنے لئے مذاکرات کا دروازکھول لیا ہے جبکہ رانا ثناء اللہ انہیں بتا رہے تھے کہ ایک ایسی پارٹی جس کی اسمبلی میں اکثریت ہو ، اسے اپنے اندر سے ایک بھی شخص ایسا نہیں ملا جو اپوزیشن لیڈر بنایا جا سکے ، یہ طریقہ ہی غلط ہے اس لئے اس کے نتائج بھی غلط ہی آئیں گے اور محمود خان اچکزئی کو بھی عمران خان اپنی مرضی تھوپ کر زیرو کردیں گے تو جنا ب سہیل وڑائچ کے ایک کالم سے اتنا کچھ نکل کر سامنے آگیا اور یوں لگا کہ پاکستان کا سیاسی منظرنامہ قطعی طور پر تبدیل ہوگیا ہے یا ہونے جا رہا ہے مگر پھر ڈی جی آئی ایس پی آر کی ایک میڈیا ٹاک نے سب کچھ جھاگ کی طرح بٹھادیا۔اس سب سے ثابت ہوا کہ معاشرے میں ایک بار کسی فتنے کا آغاز ہو جائے تو اس پر قابو پانے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں کیونکہ برائی کو یک دم ختم نہیں کیا جا سکتا ، زیادہ سے زیادہ دبایا جا سکتا ہے مگر دبانے میں بھی ایک عرصہ لگ جاتا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کو بار بار جو بریک لگتی ہے اس میں پہلی مرتبہ اس گاڑی کے انجن کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی ہے ۔ لوگ بھٹو کو چھوڑ کر عمران کے پیچھے چلے تھے ، اب عمران کو چھوڑ کر بلاول کے پیچھے نہیں چلنا چاہتے کیونکہ وہ آصف زرداری سے محبت کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔چنانچہ عمران خان کی موج لگی ہوئی ہے ۔ حالانکہ اڈیالہ جیل اور زمان پارک کے گھر میں فرق ہی کتنا ہے ،زمان پارک میں کون سا عمران خان باہر آکر پنڈال میں بیٹھا کرتے تھے،وہاںپر ہی تو ظلے شاہ بیچارہ عمران خان، عمران خان کا نعرہ لگاتے لگاتے زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھا تھا۔ اڈیالہ جیل کے باہر تو چڑیا بھی پر نہیں مارتی ۔ایک سہیل وڑائچ نے جرائت رندانہ دکھائی لیکن انہیں بھی لینے کے دینے پڑ گئے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی میڈیا ٹاک اور وضاحت کئی ایک دانشوروںکے لئے خطرے کی گھنٹی ہے ، خبردار، ہوشیار!
٭٭٭٭٭




