گلگت بلتستان میں گلیشیئر پھٹنے سے متعدد دیہات زیر آب، 50 سے زائد افراد ریسکیو/ اردو ورثہ

گلگت بلتستان کے علاقے غذر میں گلیشیئر پھٹنے سے متعدد دیہات زیر آب آ گئے جبکہ حکام نے 50 سے زائد افراد کو ریسکیو کر لیا۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے جمعے کو ایک بیان میں بتایا کہ غذر گوپس کے علاقے میں تلی داس کے مقام پر ایک گلیشیئر پھٹ گیا، جس سے ’دریا کا بہاؤ رک گیا اور پانی ایک جھیل کی صورت اختیار کر گیا۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ترجمان نے مزید بتایا کہ گلیشیئر پھٹنے سے پھنسے 50 سے زائد افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے اور مزید امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے اعداد و شمار کے مطابق 26 جون سے اب تک ملک بھر میں مون سون بارشوں اور سیلاب سے جڑے واقعات میں اموات کی تعداد 771 ہو گئی ہے، جن میں 194 بچے اور 116 خواتین شامل ہیں جبکہ لگ بھگ 1 ہزار افراد زخمی بھی ہوئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 4 ہزار 708 گھروں کو نقصان پہنچا جبکہ متاثرہ علاقوں میں 5 ہزار 416 جانور بھی مر چکے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں وسیع مون سون بارشوں اور گلگت بلتستان میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے واقعات سے پانی کے بڑے اخراج کے باعث پاکستان کے بڑے آبی ذخائر اب اپنی مکمل گنجائش تک بھر گئے ہیں۔
دریائے ستلج کے کنارے آبادیوں کو انخلا کی ہدایت
دوسری جانب پاکستان میں بہنے والے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور جمعے کو حکام نے پنجاب میں دریائے ستلج کے کنارے آبادیوں کو انخلا کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
این ڈی ایم اے نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ ’این ڈی ایم اے نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کو دریائے ستلج کے کنارے سے آبادیوں کے انحلا کی ہدایت کر دی اور تمام متعلقہ اداروں اور ایمرجنسی سروسز کو الرٹ کر دیا گیا۔‘
این ڈی ایم اے کی طرف سے جاری الرٹ میں کہا گیا کہ دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس میں 23 اگست کو مزید شدت آ سکتی ہے۔
گذشتہ روز فلڈ فارکاسٹ ڈویژن کنٹرول روم نے بتایا تھا کہ پڑوسی ملک انڈیا نے بغیر اطلاع دیے دریائے ستلج میں 70 ہزار کیوسک پانی چھوڑ دیا ہے، جس سے سیلابی صورت حال کا خدشہ ہے۔
سندھ میں مزید بارشوں اور اربن فلڈنگ کی واننگ
صوبائی دارالحکومت کراچی سمیت صوبے بھر میں گذشتہ تین روز سے جاری شدید بارشوں کے بعد این ڈی ایم اے نے مزید بارشوں اور سیلابی صورت حال کی وارننگ جاری کردی۔
این ڈی ایم اے کے اعلامیے کے مطابق سندھ کے مختلف اضلاع میں جمعے کو شدید بارش کا امکان ہے۔
اعلامیے کے مطابق کراچی، ٹھٹھہ، سجاول، بدین، تھرپارکر، حیدرآباد، نوابشاہ، دادو، خیرپور، سکھر، گھوٹکی، لاڑکانہ، شکارپور، جیکب آباد اور کشمور متاثر ہو سکتے ہیں۔
این ڈی ایم اے کے مطابق ’بارشوں کا یہ نیا سسٹم دو سے تین دن تک جاری رہنے کا امکان ہے اور شدید موسم سندھ کے مختلف حصوں میں اچانک سیلاب کا باعث بن سکتا ہے۔
خصوصاً ’کراچی، حیدرآباد اور دیگر ساحلی علاقوں، خاص طور پر نشیبی اور ناقص نکاسی والے مقامات پر شہری سیلاب کا خطرہ ہو سکتا ہے۔‘



