اُردو ادباُردو شاعرینظم
کس کو معلوم ہے / سیف علی
کس کو معلوم ہے
زندگی درد ہے
جس کو سہتے ہوئے کتنے لوگوں کے سینوں میں دل پھٹ گئے
خواب گاہوں کی وحشت سے نکلے ہوئے
بھیڑیوں کی قسم
بخت جنگل میں ناچا ہوا مور ہے
جس کو دیکھا نہیں
ہم مزاروں کی چوکھٹ پہ بیٹھے ہوئے ایسے مفلوج ہیں
جن کے کشکول میں مکڑیاں سو گئیں
اور دامن دعاؤں سے خالی رہا
ہم نے سب کچھ سہا اور بولے نہیں
شب کے پچھلے پہر خواب دیکھے مگر
ان میں مارے گئے
ہم کہ یوسف نہیں
ہم تو مزدور ہیں
کارخانوں کے ہیبت زدہ شور میں اپنے نگران سے
گالیاں سن کے بھی مسکراتے رہیں
آدھی چھٹی پہ ہم
اپنے محبوب کے گیت گاتے رہیں
حرف کی ڈاریوں کو اڑاتے رہیں
ہم نے کالے لباسوں کو پہنا مگر دل میں ہنستے رہے
اپنی تقدیر پر
ہم محبت کی دنیا کے ابلیس ہیں
ہم کسی کے لگائے ہوئے روگ ہیں
جن کے بارے کبھی تم نے سوچا نہیں
ہم وہی لوگ ہیں




