منتخب کالم

حقیقت کی جانچ: محمد عثمان قاضی دانشور یا ریاست مخالف سرگرمیوں کا آلہ؟/ محمد اکرم چوہدری



سوشل میڈیا آج ایک ایسا آئینہ پیش کر رہا ہے جس میں حقیقت اور فریب کے بیچ کی لکیر دھندلی ہے۔ محمد عثمان قاضی کا نام کچھ لوگوں کے لیے دانشور یا مظلوم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، لیکن حقائق ایک خوفناک حقیقت بیان کرتے ہیں: ایک نوجوان، جسے ریاست نے پروان چڑھایا، سکالرشپ دی، سرکاری عہدہ دیا، آج ریاست کے خلاف اور دہشت گرد نیٹ ورک کے لیے کام کرتا رہا
محمد عثمان قاضی نے اپنی پوری تعلیمی زندگی ریاستی وسائل پر گزاری،سکالرشپ، اعلیٰ تعلیم، سرکاری عہدہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہوئے۔ اس کے باوجود اس نے ان وسائل کو ریاست کے خلاف استعمال کیا یہ نہ صرف اخلاقی بلکہ قانونی طور پر بھی غداری ہے۔BUITEMS یونیورسٹی جو علم اور تحقیق کا مقام ہے، محمد عثمان قاضی کے ہاتھوں انتہاپسندی کے لیے استعمال ہوئی۔ کلاس روم، جو علم کے لیے ہونا چاہیے تھا، نوجوان ذہنوں میں دہشت گرد نظریات کے بیج بونے کا ذریعہ بن گیا۔تصور کریں وہ طالب علم جو صبح امید کے ساتھ یونیورسٹی آتا ہے، شام کو ایسے نظریات کے زیر اثر گھر واپس جاتا ہے جو اسے ریاست مخالف سرگرمیوں کی ترغیب دیتا ہے
محمد عثمان قاضی صرف نظریاتی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر بھی دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ رہا،9 نومبر 2024، کوئٹہ ریلوے اسٹیشن خودکش حملہ میں 32 عام شہری اور 22 سیکیورٹی اہلکار شہید، 55 زخمی ہوئے۔14 اگست 2024 کو کوئٹہ حملے کی منصوبہ بندی میں دہشت گرد شیر دل (بہاؤالدین مری) کو پناہ دینا اور  اسے فورسز کی کارروائیوں سے بچانا شامل ہے  یہ واضح کرتا ہے کہ اس کا کردار محض علمی یا نظریاتی نہیں، بلکہ دہشت گرد نیٹ ورک کے فعال ہینڈلر کے طور پر تھا۔
سوشل میڈیا پر اسے ‘‘عوام کی فکری آواز’’ کے طور پر پیش کرنا بیانیہ جنگ کا حصہ ہے، جس میں دہشت گردی کو نظریاتی جدوجہد کا نام دیا جا رہا ہے۔یہ بیانیہ نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہے اور عوامی شعور کو مفلوج کرتا ہے۔ ہر صحافی یا اثرورسوخ رکھنے والے فرد کو یہ سوچنا چاہیے کہ ان کی تحریر یا رائے ایک ایسے نیٹ ورک کو تقویت دے سکتی ہے جس نے بے شمار جانیں لی ہیں۔
محمد عثمان قاضی نے ریاست کے وسائل سے فائدہ اٹھا کر انہیں نقصان پہنچایا۔ یہ صرف جرم نہیں، بلکہ ایک صریح غداری ہے۔ ریاستی سکالرشپ، علمی شناخت اور سرکاری منصب ذاتی ترقی کے لیے نہیں، بلکہ ملک اور قوم کی تعمیر کے لیے دئیے گئے ہیں۔
نوجوانو! آپ وہ روشنی ہیں جو تاریکی کو چیر سکتی ہے، آپ وہ کل ہیں جو آج کے فیصلوں سے رقم ہوتا ہے علم کو تعمیر کے لیے استعمال کریں، نفرت کے بیج بونے کے لیے نہیں۔ہر سوچ اور ہر قدم ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔سوشل میڈیا اور بیانیہ جنگ میں محتاط رہیں؛ ہر کلک اور ہر رائے آپ کے مستقبل پر اثر ڈالتی ہے۔
دانشور وہ نہیں جو کتابیں پڑھتا ہے، بلکہ وہ ہے جو علم اور منصب کو عوام کی بھلائی، امن، اور ترقی کے لیے استعمال کرتا ہے۔انتہاپسندی اور غلط بیانیہ کبھی دانشورانہ نہیں ہو سکتا۔ آپ کے دل میں شعور، دماغ میں انصاف اور قدموں میں راستبازی ہو تو کوئی دھوکہ آپ کو گمراہ نہیں کر سکتا۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button