منتخب کالم

  چھٹیوں کا سال/ زیبا شہزاد



میری شدید خواہش ہے میرے بچے پڑھ لکھ کر سرکاری سکول میں بھرتی ہوجائیں اور عمر بھر عیش کی زندگی گذاریں۔ یہاں پڑھانے کی فکر ہے نا خراب رزلٹ آنے پر حکام بالا کو جواب دہی کی۔ جو بھی سرکاری سکول میں استاد لگ گیا اس کے وارے نیارے ہوگئے۔ جتنی موجیں اس ادارے میں ہیں شائد ہی کہیں اور ہوں۔ سکول کھلیں یا بند رہیں بھاری بھرکم تنخواہ ہر ماہ آپ کے اکاونٹ میں آجاتی ہے۔ باہر کے ملکوں میں ہوتی ہوگی سکولوں میں پڑھائی یہاں زیادہ تر چھٹیاں ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں سکولوں میں چھٹیوں کا معیار کافی اچھا ہے۔ سال کے بیشتر مہینے چھٹیاں ہوتی ہیں بیچ بیچ میں کبھی کبھی پڑھائی بھی ہو جاتی ہے۔ چھٹیاں کر کر کے جب اساتذہ اُکتا جاتے ہیں تو ان کی طبیعت کو ہشاش بشاش کرنے کے لئے مزید چھٹیاں دے دی جاتی ہیں تاکہ طلبا پر اساتذہ کی غنودگی کا اثر نہ پڑے۔ اقبال کے شاہین بڑے نازک مزاج ہیں ان سے گرمی برداشت ہوتی ہے نا سردی۔ اس لئے دونوں موسموں میں تعلیمی ادارے بند رکھنا پڑتے ہیں۔ تعلیمی سال شروع ہوتے ہی گرمی آجاتی ہے اور گرمیوں کی چھٹیاں گرمی کے ساتھ ہی شروع ہوتی ہیں اور قریباً تب تک رہتی ہیں جب تک گرمی رہے۔ اگر کچھ نجی ادارے سرکاری چھٹیاں ختم ہونے سے پہلے سکول کھولنے کی غلطی کر لیں تو اسے سرکار کے خلاف بغاوت سمجھا جاتا ہے اور باغیوں سے نمٹنا سرکار خوب جانتی ہے۔ ایسے چھٹی دشمن عناصر کے سکول سیل کر کے ان باغیوں کو عبرت ناک سزا دی جاتی ہے۔ آپ خود سوچئے جس سکول کے اساتذہ خود قانون کا احترام نہیں کر سکتے وہ طلبا کو کیا سکھائیں گے۔ چھٹیوں کے بعد پڑھائی ٹریک پہ آنے ہی لگتی ہے تو نومبر میں سموگ آن دھمکتی ہے۔ اب اس کم بخت سموگ سے کون نپٹے۔ سموگ کی وجہ سے تمام کاروبار زندگی تو چلتا رہتا ہے لیکن پڑھائی کا پہیہ جام ہو جاتا ہے۔ سموگ سے اگر کوئی متاثر ہوسکتا ہے تو وہ شائد طلبا ہی ہیں، لہٰذا طلبا کو سموگ سے بچانے کا واحد حل سکولوں میں چھٹیاں ہی سمجھ آتا ہے جو طلبا کی صحت کے مفاد میں دے دی جاتی ہیں۔ دسمبر میں سردیوں کی چھٹیاں ہوجاتی ہیں اور جنوری میں مزید سردیوں کی چھٹیاں، جن دنوں سرکار چھٹیاں نہیں دیتی ان دنوں طلبا اور اساتذہ کسی نہ کسی وجہ سے خود چھٹیاں کر لیتے ہیں۔ 

پہلے سرکار پکڑ پکڑ کر بچوں کو سکول میں داخل کرنے پر زور دیتی تھی اور اب سکول نہ آنے پر۔ سکولوں میں بار بار چھٹیاں دینے کی وجہ شائد یہ ہو کہ ہمارے ہونہار طلبا زیادہ پڑھ لکھ گئے تو دنیا کو پیچھے چھوڑ جائیں گے اور اگر انھوں نے ایسا کردیا تو ہمارے معماران وطن کو نظر لگ سکتی ہے۔ اسی لئے سکولوں میں زیادہ چھٹیاں دے کر طلبا میں پڑھائی کے رحجان کو کم کرنے کی کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔ سال کے بیشتر مہینے چھٹیاں ہونے کے باوجود نظام تعلیم ایسا شاندار ہے کہ رزلٹ دیکھ کر حاسدوں کے کلیجے منہ کو آنے لگتے ہیں۔ طلبا کی اکثرہت نوے فیصد نمبر کیسے حاصل کر لیتی ہے اس کی سمجھ بنگالی بابا کو بھی نہیں آرہی۔ اساتذہ کا بس چلے تو سب طلبا کو سو فیصد نمبروں سے پاس کردیں لیکن اس میں ایک رکاوٹ یہ ہے پھر پہلی اور دوسری پوزیشن کا فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا، تاہم جو طلبا پوزیشن حاصل نہیں کر پاتے، زیادہ نمبر حاصل کرنے کی وجہ سے وہ بھی بلا کے ذہین مانے جاتے ہیں۔ ہم جیسے تینتیس نمبر لے کر اترانے والے آج کے طلبا سے منہ چھپاتے پھرتے ہیں کہ ہمارے زمانے کے ٹاپر بھی اتنے نمبر نہیں لے پاتے تھے جتنے آجکل کے پاس ہونے والے۔ سوچیں اگر سکولوں میں چھٹیاں دے کر نتیجہ اتنا شاندار آتا ہے تو اگر سکول زیادہ دیر کھلے رہیں تو پھر ہمارے طلبا دنیا کا نقشہ ہی بدل دیں۔ 





Source link

Author

Related Articles

Back to top button