انٹرویو

مشہور ادیب اور شاعر سلمان باسط سے گفتگو /انٹرویوور: عطرت بتول

تعارف

سلمان باسط اردو کے منفرد شاعر، نثر نگار، خاکہ نویس اور مترجم ہیں جنہوں نے اپنے بھرپور تخلیقی سفر سے اردو ادب میں نمایاں شناخت قائم کی۔ ان کی نثر برجستگی، شگفتگی اور دل آویزی کے باعث قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے، جب کہ شاعری میں انسانی جذبوں اور تجربات کی گہرائی جھلکتی ہے۔ خاکی خاکے اور ناسٹیلجیا جیسی کتب نے انہیں ادبی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی دلائی، جہاں انہوں نے شخصیات اور زندگی کے لمحوں کو نہایت باریک بینی اور فنی شعور کے ساتھ قلم بند کیا۔ مترجم کی حیثیت سے بھی وہ اردو اور انگریزی ادب کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی تنوع اور ہمہ جہتی انہیں عصرِ حاضر کے ان ادیبوں میں شامل کرتی ہے جو اپنے اسلوب اور تخلیقات کے ذریعے دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔

اردو ادب کی نثر اور شاعری دونوں میں اپنی الگ پہچان بنانے والی شخصیت، جن کی تحریریں نہ صرف فکری گہرائی لیے ہوتی ہیں بلکہ دل پر اثر بھی چھوڑتی ہیں۔ یہ وہ لکھاری ہیں جن کی نثر میں فکری پختگی اور اندازِ بیان میں سادگی ہے، اور شاعری میں جذبات کی روانی اور الفاظ کی تازگی نمایاں نظر آتی ہے۔

ادب کی دنیا میں ان کا سفر صرف تخلیق تک محدود نہیں بلکہ مطالعہ، مشاہدہ اور جذبے سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے اشعار میں دل کی زبان بولتی ہے، اور نثر میں ذہن کی وسعت جھلکتی ہے۔

ہم آج ان سے چند سوالات کریں گے کہ وہ خود اپنے فن کے بارے میں کیا محسوس کرتے ہیں، آمد اور آورد کی کشمکش میں کیا فرق دیکھتے ہیں، اور ان کے نزدیک تخلیق کی اصل روح کیا ہے۔آئیے، ان کے تخلیقی سفر کی ایک جھلک ان کے اپنے الفاظ میں پڑھتے ہیں

 

آپ نے اردو ادب کی دونوں اصناف نثر اور شاعری میں بہترین کام کیا کون سی صنف میں تخلیق کرنا آپ کا زیادہ پسندیدہ ہے؟

آپ کی خوش گمانی کا شکریہ۔ مجھے ادب کی دونوں اصناف دل سے محبوب ہیں۔ میرے لیے تخصیص کرنا مشکل ہے کہ مجھے کیا زیادہ پسند ہے۔ یہ ضرور ہے کہ میری نثر کو نسبتا” زیادہ پذیرائی ملی۔ بالخصوص ہم عصر ادیبوں کے شخصی خاکوں پر مبنی کتاب “خاکی خاکے” کو بہت سراہا گیا اور میری پہچان ایک خاکہ نگار کی ہو گئی۔ پھر میری آپ بیتی” ناسٹیلجیا” میں اللہ نے بہت برکت رکھ دی۔ اس کے تین ایڈیشن آ چکے ہیں۔ انڈیا سے بھی شائع ہو چکی ہے لیکن اس کی پذیرائی کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔

شاعری میں آمد کے بغیر صرف آورد سے بہتر شعر کہا جا سکتا ہے ؟

صاف اور واضح جواب یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ آمد تحریک کا نام ہے۔ آپ کسی خارجی یا اندرونی کیفیت یا کسی واقعے کے زیرِ اثر اپنے اندر شاعری کی تحریک پاتے ہیں اور شعر یا نظم کہنے پہ خود کو مائل دیکھتے ہیں۔ پھر آپ اس کیفیت میں آ جاتے ہیں کہ شعر یا نظم تخلیق کیے بغیر آپ اس کرب سے چھٹکارہ حاصل نہیں کر سکتے۔ بسا اوقات کوئی خیال، یا کبھی کبھی ایک مکمل مصرع ڈھل کر سامنے آ جاتا ہے لیکن اسے ایک مکمل شعر یا نظم کی شکل دینے، اس کی نوک پلک درست کرنے کے لیے شعوری اہتمام کرنا پڑتا ہے۔ اس شعوری اہتمام کو آورد نہیں کہا جا سکتا۔

آپ کی خودنوشت "ناسٹیلجیا” نے قارئین میں خاصی مقبولیت حاصل کی۔ آپ کے خیال میں ایک مؤثر خودنوشت لکھنے کے لیے سب سے ضروری عنصر کیا ہوتا ہے؟

اللہ کا خاص کرم ہے کہ اس نے میرے لکھے میں تاثیر رکھ دی۔ میں نے تو اپنے اسلوب میں اپنی زندگی کی سادہ سی کہانی اپنے احباب کو سنانا شروع کی تھی۔ قارئین کی پذیرائی ملتی چلی گئی اور میں ان کی محبتوں کی برکھا میں بھیگتا رہا۔ میرے خیال میں آپ بیتی کے لیے محض ایک عنصر نہیں، کئی عناصر ضروری ہوتے ہیں۔ پہلے تو یہ طے کرنا ضروری ہے کہ آپ نے اپنی آپ بیتی میں کیا لکھنا ہے اور کیا نہیں لکھنا۔ یہ آپ کا ذاتی فیصلہ ہے کہ آپ قارئین کو کیا بتانا چاہتے ہیں لیکن جو بتایا جائے اس میں جھوٹ کی آمیزش نہ ہو۔ اسلوب کی حد تک فکشن کا عنصر ٹھیک ہے لیکن اپنی ذات کی پارسائی کے تآثر کو قائم رکھنے کے لیے حقائق کو مسخ نہ کیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ کی یادداشت کا توانا ہونا بہت ضروری ہے۔ الحمدللہ کہ میری یادداشت بہت اچھی ہے۔ میں نے جب آپ بیتی لکھنا شروع کی تو ایک یاد کا سرا لاتعداد یادوں کے سرے تھماتا چلا جاتا تھا اور کونوں کھدروں سے چھوٹی چھوٹی متفرق یادیں میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے مجبور کرتی تھیں کہ انہیں بھی لکھا جائے۔ تیسری بات یہ ہے کہ لکھتے ہوئے جن لوگوں کا ذکر آئے ان میں سے کسی کی تحقیر یا رذلیل کا سامان نہ ہو۔ اس مقام سے اس احتیاط سے گزریں کہ حقائق بھی تبدیل نہ ہوں اور آپ کسی کی رسوائی باعث بھی نہ بنیں۔ سچ، توازن، وضع داری اور عام فہم زبان۔ میرے نزدیک آپ بیتی کے لیے یہ عناصر بہت ضروری ہیں۔

آپ کا ادبی پس منظر گہرا اور خاندانی ہے۔ کیا بچپن سے ہی ادب کی طرف میلان تھا، یا یہ شوق وقت کے ساتھ پروان چڑھا؟

آپ کے سوال میں ہی یہ بیان کر دیا گیا ہے کہ ہمارے خاندان کا پس منظر علمی و ادبی تھا۔ میرے دادا محترم غلام حیدر مرحوم اردو اور فارسی کے صاحبِ دیوان شاعر تھے اور تصوف کی دنیا کے راہی تھے۔ ان کے بھائی میراں بخش منہاس پنجابی کے پہلے ناول نگار اور شاعر تھے۔ ان کا ناول “ جٹ دی کرتوت” پنجابی ادب کے معتبرترین حؤالوں میں سے ایک ہے۔ میرے بڑے بھائی جناب عثمان خاور بھی شاعر اور ادیب ہیں۔ ان کا سفرنامۂ ازبکستان “ہریالیوں کے دیس میں” کے نام سے 1996 میں شائع ہوا۔ ہمارے والد صاحب نے بچپن سے ہی ہم دونوں بھائیوں کی ذہنی نشوونما کے لیے گھر میں اخبارات اور جرائد لگوا رکھے تھے۔ یوں ابتدا سے ہی ادبِ عالیہ پڑھنے کو ملا اور ذہنی بالیدگی عطا ہوتی چلی گئی۔ اس مطالعے کی عادت نے پہلے سے باطن میں موجود تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشی۔ پھر مطالعے، موافق ادبی ماحول اور شوق۔ ان سب عوامل نے اپنا حصہ ڈالا۔

ترجمہ نگاری کے تجربے نے آپ کے ذاتی اسلوبِ تحریر پر کیا اثر ڈالا؟ اور ترجمے میں سب سے بڑا چیلنج کیا ہوتا ہے؟

میرے نزدیک ترجمہ بھی ایک تخلیقی عمل ہے۔ میں اسے ٹرانسلیشن نہیں ٹرانس کری ایشن سمجھتا ہوں۔ مترجم کے لیے دونوں زبانوں کا نہ فقط علم کافی ہے اور نہ عبور۔ اگر وہ ان خوبیوں کے ساتھ خود تخلیق کار نہیں تو اسے ترجمے کی طرف آنا ہی نہیں چاہیے۔ لفظ پہ لفظ رکھنے کا نام ترجمہ نہیں۔ ترجمہ بنیادی تخلیق کی روح کو دوسری زبان کے مزاج کے مطابق، موزوں ترین الفاظ کے انتخاب کے ساتھ ڈھالنے کا نام ہے۔ یوں ترجمہ مترجم کے اسلوب پر اثر نہیں ڈالتا بلکہ اس کا اسلوب ترجمے کو منفرد بناتا اور اسے ترفع بخشتا ہے۔

"خاکی خاکے” کے خاکوں میں مزاح اور مشاہدہ دونوں نمایاں ہیں۔ آپ کے نزدیک طنز و مزاح ادب میں کس حد تک سنجیدہ کردار ادا کرتا ہے؟

“خاکی خاکے” معاصر ادیبوں کے شخصی خاکوں پر مبنی کتاب تھی جو 1999 میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد بھی خاکے لکھ رہا ہوں اور ان شاءاللہ دوسری کتاب جلد شائع ہوگی۔ ہر خاکہ نگار کا اپنا اسلوب اور پیرایۂ اظہار ہوتا ہے۔ خاکے میں میرا ٹول tool مزاح ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ خاکہ مخکوک کی شخصیت کا مجموعی نقشہ ہوتا ہے۔ چونکہ میں کسی شخص کو فرشتہ بنا کر پیش کرنے کا قائل نہیں ہوں چنانچہ خاکے میں شخصیت کے میں محاسن اور عیوب دونوں شامل کرتا ہوں۔ یہ اہتمام ضرور کرتا ہوں کہ جس کا خاکہ لکھا جا رہا ہے خاکہ مکمل ہونے پر قاری کے ذہن پر کوئی منفی تآثر پڑنے کی بجائے شخصیت کی محبوبیت برقرار رہے۔ اس کے لیے مزاح کا تڑکا بہت کارآمد ہوتا ہے۔ یوں مخکوک بھی بدمزہ نہیں ہوتا اور قاری بھی دلچسپی سے پڑھ لیتا ہے۔
میرے نزدیک طنز اور مزاح دونوں ہی سنجیدہ اصناف ہیں۔ طنز کا نشتر چلے تو بھی کڑواہٹ کو مٹھاس کی پڑیا میں لپیٹ کر پیش کرنا چاہیے اور مزاح میں مبتذل ہوئے بغیر شائستگی اور تہذیب سے قاری کے دل میں گدگدی کرنی چاہیے۔ مزاح بڑی تیز ڈھلوان ہے۔ اکثر لوگ دوسروں کو ہنسانے کے شوق میں یا تو ابتذال کا شکار ہو جاتے ہیں یا تصنع کی طرف لُڑھک جاتے ہیں۔ اپنی معاشرتی اخلاقیات کے دائرے میں رہتے ہوئے مزاح تخلیق کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔

اردو ادب اور انگریزی ادب، دونوں سے آپ کی وابستگی ہے۔ آپ کس ادب کو زیادہ قریب محسوس کرتے ہیں — اور کیوں؟

یوں تو ادب جغرافیائی و لسانی حد بندیوں سے بالا ہے لیکن میری جڑت ان دونوں زبانوں میں تخلیق کیے جانے والے ادب سے ہے۔ میری سکولنگ جس ماحول میں ہوئی اس نے میرے باطن میں کہیں انگریزی ادب سے محبت کا چراغ روشن کر دیا۔ سکول سے کالج میں آیا تو سمرسٹ مائم، ہیمنگوے، ڈی ایچ لارنس، کیتھرین مینزفیلڈ، او ہنری اور ڈیوڈ ڈیشز جیسے شارٹ سٹوری رائٹرز نے انگریزی ادب سے میری وابستگی گہری کر دی۔ میں نے بہت پہلے طے کر لیا تھا کہ میں انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کروں گا۔ پھر ایک وقت آیا جب میں نے برِ صغیر کے بہترین ادارے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا۔ پھر عمر بھر ملک اور بیرونِ ملک انگریزی ادب پڑھایا لیکن اردو ادب سے محبت کبھی کم نہ ہوئی۔ مجھے جلد احساس ہوگیا کہ کم از کم پاکستان میں اپنی بات قاری تک پہنچانے کے لیے مجھے اردو کو ہی ذریعۂ اظہار بنانا پڑے گا۔ اب یوں ہے کہ زیادہ تر اردو میں ہی لکھتا ہوں اور اس زبان سے محبت بھی ہے۔ اس کے باوجود فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ان دونوں میں سے کس زبان میں تخلیق کردہ ادب دامنِ دل زیادہ کھینچتا ہے۔

آپ کی شاعری میں خیال، سادگی اور تہذیب جھلکتی ہے۔ ایک اچھی غزل یا نظم کے لیے آپ کن عناصر کو لازم سمجھتے ہیں؟

میں اچھے اور سچے شعر کی پہچان کے لیے احسان دانش مرحوم کی رائے کا ہم نوا ہوں کہ دل سے نکلے اور دل میں اتر جائے۔ میں شاعری میں قاری کو چونکا دینے کے لیے کسی بھی کرتب کے حق میں نہیں ہوں۔ آپ کے جو تجربات ہیں اور جن موضوعات کی طرف آپ کا دل کھنچتا ہے انہی کو نظم کرنا زیادہ بہتر ہے۔ بہرحال اچھی شاعری تخلیق کرنے کے لیے اساتذہ اور جدید اہم شعرا کے کلام کا مطالعہ، اپنی ذات کاادراک، حسنِ فطرت کا مشاہدہ، تھوڑی سی آوارہ گردی اور اپنی اقدار کا پاس ہونا ضروری ہے۔

شاعری ہو یا نثر، آپ اپنے تخلیقی عمل کی شروعات کہاں سے کرتے ہیں؟ کوئی خاص ماحول، وقت یا کیفیت؟

تخلیق اپنے وقت کا تعین خود کرتی ہے۔ تخلیق اپنے لیے کون سا لمحہ چنتی ہے، اس کا انحصار اسی پر ہے۔ بس طبع جب بھی موزوں ہو جائے۔ باطنی کیفیات غالب آ جائیں۔ بظاہر کوئی معلوم وجہ نہیں ہوتی۔ کبھی کوئی عمیق مشاہدہ، کسی خیال کی ڈور کا کوئی سرا، گئے دنوں کی بالکنی سے جھانکتی کوئی یاد، مہربان موسم کا کوئی پل یا کسی اعلیٰ تخلیق کا مطالعہ تحریک کا باعث بن جاتا ہے۔ آپ کو شاید عجیب لگے لیکن میرے ساتھ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ میری کچھ نظمیں خواب میں ہوئیں۔ میں نے نیند سے بیدار ہو کر انہیں فقط لکھ کر محفوظ کر لیا۔ ویسے عموما” مجھ پر تخلیقی عمل زیادہ یورش اس وقت کرتا ہے جب میں سونے کے لیے بیڈ پر لیٹتا ہوں اور کمرے کی ساری روشنیاں گُل ہو چکی ہوتی ہیں۔

آج کا نوجوان قاری ادب سے کس حد تک جڑا ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا نے اردو ادب کو فائدہ دیا ہے یا نقصان؟

ادب نہ ہر کسی کی ترجیح ہے اور نہ سب کا مسئلہ ہے۔ یہ تو چند چنیدہ لوگوں کا عشق ہے۔ یہ ایسا سودا ہے جو ہر سر میں نہیں سما سکتا۔ ادب پڑھنے والے اور تخلیق کرنے والے تعداد میں ہمیشہ کم ہوتے ہیں اور ہونے بھی چاہئیں۔ آج کا نوجوان بھی ہر عہد کے نوجوان کی طرح ادب سے جڑا ہوا ہے لیکن وہی نوجوان جسے رنگوں، قوسِ قزح، ملہار گاتی بارش کی بوندوں، خزاں رسیدہ پتوں، کشیدہ قامت درختوں، کتاب کی خوشبو اور حسنِ فطرت سے محبت ہے۔ سوشل میڈیا نے ادب کو اتنا فائدہ ضرور دیا ہے کہ پہلے تخلیقات ادبی پرچوں میں چھپتی تھیں تو قاری تک پہنچتی تھیں اور یہ ایک طویل مرحلہ تھا۔ اب آپ فوری طور پر تخلیق فیس بک یا کسی بھی پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کرکے فورا” فیڈ بیک لے سکتے ہیں لیکن نقصان یہ ہے کہ وہ فیڈ بیک نوے فیصد خودفریبی ہے۔ واہ واہ اور بہت خوب جیسے الفاظ سے نوآموز لکھنے والا تو خوش ہو سکتا ہے لیکن برسوں کی ریاضت کے حامل شخص کو دراصل کسی سخن شناس کی رائے کا انتظار رہتا ہے۔ صائب تبریزی کا شعر ہے:
– صائب دو چیز می شکند قدرِ شعر را
– تحسینِ ناشناس و سکوتِ سخن شناس
یوں بھی سوشل میڈیا پر ادب بالخصوص شاعری کے نام پر اتنا ٹریش اپ لوڈ ہو رہا ہے کہ عام قاری کے لیے نان سینس لٹریچر اور ادبِ عالیہ میں فرق کرنا مشکل ہے۔

پاکستان میں مترجمین کو جو مقام ملنا چاہیے، کیا وہ دیا جا رہا ہے؟ ترجمہ نگاری کو ایک باقاعدہ فن کے طور پر اپنانے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟

ہمارے ہاں بدقسمتی سے ترجمے کو ابھی تک تخلیق سے کم تر درجہ دیا جاتا ہے۔ جانے لوگ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ترجمہ دراصل transcreation ہے۔ لفظ پہ لفظ رکھنے کا نام تو ترجمہ نہیں۔ ترجمہ دراصل ترجمانی ہے۔ کسی ایک زبان میں تحریر کردہ تخلیق کو کسی دوسری زبان میں اس طرح سمونا کہ اصل تخلیق کی روح دوسری زبان میں منتقل ہو جائے۔ ترجمہ نگاری ایک باقاعدہ فن ہے لیکن اس کے لیے ہماری ترجیحات کا تعین ہی نہیں کیا گیا۔ اسی وجہ سے ہمارے ہاں اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں عالمی سطح کا ادب تخلیق ہونے کے باوجود ان کے عالمی معیار کے تراجم نہیں ہوتے کیونکہ مالی وسائل مہیا نہیں کیے جاتے۔ سرکاری سرپرستی حاصل نہیں۔ تقریبا” دنیا بھر کے ممالک اپنی زبانوں کے ادب کا دنیا کی دوسری زبانوں میں ترجمہ کروانے کے لیے بڑی بڑی گرانٹس دیتی ہیں تاکہ ان کا ادب بین الاقوامی سطح پر پڑھا جائے۔ میں خود بحیثیت مترجم اس کا شاہد ہوں اور اس عمل سے گزرتا ہوں۔ کیا وجہ ہے کہ آج تک ہمارے کسی ادیب کو نوبل انعام نہیں ملا؟ ایک انتظار حسین صاحب کے بکر ایوارڈ کے علاوہ ہمارے دامن میں کچھ ہے ہی نہیں۔ جب تک سرکاری سرپرستی نہیں ہو گی۔ پاکستانی ادب کے بین الاقوامی معیار کے تراجم کروانے کے لیے ماہر مترجمین کی خدمات حاصل نہیں کی جائیں گی، ہمارا ادب ہماری جغرافیائی حدود کے اندر ہی سمٹا رہے گا۔

نوجوان ادیبوں، خاص طور پر انگریزی سے اردو ترجمہ کرنے والوں کو آپ کیا مشورہ دیں گے؟

مترجم کا ذولسان ہونا اور دونوں زبانوں پر یکساں عبور ہونا ضروری ہے۔ پہلے خوب مطالعہ کیا جائے۔ ترجمے کی مبادیات کو سمجھا جائے۔ بھرپور مشق کی جائے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر زبان کا اپنا کلچر ہوتا ہے۔ انگریزی زبان کا اپنا کلر ہے اور اردو کا اپنا۔ دونوں کی الگ پہچان برقرار رکھنا ضروری ہے۔ یہ ضرور ہے کہ انگریزی کے جو الفاظ ٹیبوز کی حیثیت رکھتے ہیں انہیں قابلِ قبول لسانی جامہ پہنا دیا جائے تاکہ ہماری اخلاقی اقدار پامال نہ ہوں لیکن اس کے لیے مترجم کی فنی مہارت ضروری ہے۔

 آپ نے کئی ادیبوں، شخصیات اور واقعات پر خاکے لکھے۔ ان میں سے کون سا خاکہ لکھتے وقت آپ سب سے زیادہ جذباتی ہوئے؟
ویسے تو میں اسی شخصیت کا خاکہ لکھتا ہوں جس سے میری انسیت اور قربت ہو۔ یوں مجھے اب تقریبا” سبھی خاکے عزیز ہیں لیکن جب اپنے بڑے بھائی جناب عثمان خاور کا خاکہ “ بھائی جان” کے نام سے لکھا تو بچپن سے اب تک ان کی شفقت اور محبت کے ٹھنڈے میٹھے چشموں کے پانیوں میں بھیگتے ہوئے جذبات سے مغلوب ہوا۔ یہ خاکہ میری کتاب”خاکی خاکے” مطبوعہ 1999 میں شامل ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آپ کی خودنوشت یا خاکے آئندہ نسلوں کے لیے ادب کا ایک تاریخی حوالہ بن سکتے ہیں؟

لکھا اور چھپا ہوا حرف کبھی ضائع نہیں جاتا۔ وہ دستاویز کی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔ میں یہ تو دعویٰ نہیں کرتا کہ میری آپ بیتی، میرے لکھے گئے خاکے، شاعری یا دیگر اصناف میں میری تخلیقات آنے والی نسلوں کے لیے تاریخی حوالہ بن جائیں گی کیونکہ ایسا دعویٰ خود ستائی کا ضمن میں آتا ہے لیکن اپنے لکھے پر مجھے اتنا یقین ضرور ہے کہ میرا لکھا ان شاءاللہ مٹ نہیں سکے گا۔

.کسی ایسے ادیب یا شاعر کا نام بتائیں جس سے آپ نے سب سے زیادہ سیکھا ہو یا متاثر ہوئے ہوں — اور کیوں؟
کچھ مجلہ راوی کے بارے میں بتائیے ؟

کسی ایک ادیب کا نام لینا تو مشکل ہے۔ سیکھنا تو ایک مسلسل عمل ہے اور آپ زندگی کے مختلف مدارج میں مختلف لوگوں سے متآثر ہوتے رہتے ہیں۔ بہرحال اگر کسی ایک ادبی شخصیت کا نام لینا ضروری ہے تو اقبال سے میں ہمیشہ متآثر رہا اور عمر کے کسی بھی مرحلے پر اقبال کا طلسم کبھی کم نہ ہوا۔
راوی گورنمنٹ کالج لاہور کا ادبی مجلہ ہے۔ اس کے مدیران میں اساتذہ سے لے کر ہمارے اپنے عہد کی بہت سی نامور ادبی شخصیات کے نام شامل ہیں۔ اس پرچے میں شائع ہونا ہی بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مدیر ہونا تو یقینا” بہت بڑے اعزاز کی بات ہے۔ میری خوش بختی کہ میں سال 1981-82 میں “راوی” کا ایڈیٹر رہا اور میری ادارت میں راوی کے دو پر چے شائع ہوئے جن میں پندھرویں ہجری صدی نمبر بھی شامل تھا۔

آپ نے پنجابی شاعری میں صنف ،، ڈیوڑھی ،، متعارف کروائی کچھ اس کے بارے میں بتائیے؟

“ڈیوڑھی” پنجابی شاعری کی ایک نئی صنف ہے جس کی اختراع کا سہرا الحمدللہ میرے سر ہے۔ ڈیوڑھی کے دوسری لائن پہلی لائن کے تقریبا” نصف ہوتی ہے۔ دونوں لائنز معنی کے اعتبار سے ماہیے کے برعکس باہم مربوط ہوتی ہیں اور دونوں لائنز ہم قافیہ بھی ہوتی ہیں۔ ایک ڈیوڑھی مثال کے طور پر ملاحظہ کر لیجیے۔
دھمی والے بانگ دے نال ای مائی ٹُر گیالام
دھری پے گئی شام

آپ نے بہت سے ممالک کے سفر کیے سفر نامے لکھے کس ملک کی ادبی اور ثقافتی سر گرمیوں سے متاثر ہوے ؟

اللہ نے مجھے دنیا کے کئی ممالک کی سیاحت کے مواقع عطا کیے۔ ان میں شمالی امریکہ، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر علاقوں کے چند ممالک شامل ہیں۔ میں جہاں بھی گیا کوشش رہی کہ وہاں کے ثقافتی، سیاسی، تاریخی اور ادبی حوالوں سے آشنا ہو سکوں۔ انگریزی ادب کا طالبِ علم ہونے کے ناتے مجھے تو شیکسپئر، ورڈزورتھ، کیٹس، ملٹن، شیلی، ہارڈی اور برونٹے سسٹرز کی سرزمین برطانیہ نے زیادہ متآثر کیا۔

آپ کے خیال میں اردو ادب کا مستقبل کیسا ہے کیا نوجوان نسل اس ورثے کو سنبھالنے کے لیے تیار ہے ؟

ادب کا مستقبل تب تک روشن ہے جب تک کسی ملک کے نوجوانوں کو حرف سے محبت ہے۔ اردو ادب کا مستقبل بہت تابناک ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت موجودہ عہد میں کی جانے والی غیرمعمولی شاعری ہے۔ ہمارے نوجوان ایسی شاندار غزل اور نظم کہہ رہے ہیں کہ یہ یقین مزید پختہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ نسل یقینا” اردو ادب کا پرچم بلند رکھے گی۔

بطور استاد آپ نوجوانوں سے کیا توقعات رکھتے ہیں؟

میری خواہش ہے کہ ہمارا نوجوان طالبِ علم اپنے مستقبل کے بارے میں واضح ہو۔ وہ حادثاتی طور پر کسی شعبے کی تعلیم کے حصول کی طرف نہ آئے۔ مذکورہ شعبے کی تعلیم حاصل کرنے سے پہلے وہ اپنے پیشے کا تعین کرے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تعلیم کو صرف ڈگری کے حصول کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ علم اپنے اندر اتارے۔ اس کی حصولِ علم کی خواہش کناروں سے باہر بھی چھلکے لیکن علم نہ محض ذاتی اغراض کا ذریعہ بنائے اور نہ دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے ایسا کرے۔ اپنے خالق کو یادرکھے اور ذہن میں رکھے کہ ہر وہ علم باطل ہے جو اسے اس کے اللہ سے دور کر دے۔

کچھ اپنے بچوں کے بارے میں بتائیے کیا وہ لکھنے سے دلچسپی رکھتے ہیں؟

اتفاق ہے کہ میرے چاروں بچوں میں سے کوئی بھی نہیں لکھتا۔ وہ سب اپنے اپنے پیشوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن اچھا ادب پڑھتے ضرور ہیں۔

پاکستانی معاشرے سے کوئی گلہ

مجھے کوئی گلہ نہیں کیونکہ معاشرہ ہم سب افراد نے مل کر بنایا ہے۔ ہم جو بیج اپنے ماحول میں پھینکیں گے کل وہی فصل کاٹیں گے۔ گلہ ہمیں اپنے آپ سے ہونا چاہیے۔ اپنا گریبان خود پکڑنا چاہیے کہ ہم نے معاشرے کی تطہیر میں کیا کردار ادا کیا ہے۔ اگر ہر شخص اپنا محاسبہ خود کرے تو معاشرہ کہکشاں میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

عطرت بتول نقوی ایڈیٹر اردو ورثہ 

Author

0 0 votes
Article Rating
2 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
DuaAzeemi
DuaAzeemi
6 months ago

سوال۔ہیرے تو جواب لعل موتی
ایسے لگا جیسے ایک ادبیگفتگو کے چراغ کی روشنی سے خیال منور ہوا

بنت قمر مفتی
بنت قمر مفتی
5 months ago

ماشا بہت خوشی ہوئی سلمان باسط صاحب کے بارے میں جان کر۔
بہت خوب صورت بات کی سلمان صاحب نے کہ ہر انسان اگر اپنا محاسبہ خود کرے اخلاص کے ساتھ توہمارا،معاشرہ کہکشاں بن سکتا ہے

Related Articles

Back to top button