داستان پاکستان دکھوں اور غموں سے آزادی تک کا سفر (قسط اول) / محمد اکرم چوہدری

زخم چاٹتی قوم
1971 کا سانحہ ایک خنجر تھا جو دل میں پیوست ہو گیا تھا۔گلیوں میں مایوسی چھائی ہوئی تھی۔ہر جگہ ایک ہی سوال گونجتا تھا:‘‘کیا ہم دوبارہ کھڑے ہو سکیں گے؟’’لیکن پاکستانی قوم کی ایک عادت ہے جب زمین پر گرتی ہے تو خون سے ہتھیار دھو کر دوبارہ اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو اور نئی شروعات
ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایک نعرہ دیا:‘‘ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے۔’’یہ نعرہ صرف سیاست نہیں، ایک عزم تھا۔بھٹو نے پاکستان کا ایٹمی پروگرام شروع کیا، سائنسی ادارے قائم کیے، اور دنیا کو باور کروایا کہ پاکستان اب کمزور نہیں۔
ضیاء الحق کا دور، جنگ اور جہاد
جنرل ضیاء الحق کے دور میں افغانستان پر سوویت یونین نے حملہ کیا۔پاکستان فرنٹ لائن ریاست بن گیا۔لاکھوں افغان مہاجر آئے، مجاہدین کی تربیت ہوئی، اور پاکستان کے خفیہ ادارے دنیا بھر میں شہرت پانے لگے۔مگر اس دور نے اسلحے، انتہاپسندی، اور ہیروئن کلچر کو بھی پاکستان میں جڑ پکڑنے کا موقع دیا۔
1980 کی دہائی ، کرکٹ اور فخر
اسی زمانے میں پاکستانی قوم نے ایک اور محاذ پر جیت حاصل کی ،وہ ہے کھیل ۔ہاکی، اسکواش، اور سب سے بڑھ کر کرکٹ میں پاکستان نے دنیا کو دکھایا کہ ہم صرف جنگ نہیں جیتتے، کھیل بھی جیت سکتے ہیں۔عالمی سطح پر عمران خان کا کرکٹ کا عروج، جہانگیر خان اور جان شیر خان کی اسکواش فتوحات، یہ سب قوم کے حوصلے بلند کرتے رہے۔
1990 کی دہائی ، پابندیاں اور عزم
90 کی دہائی میں ایٹمی پروگرام اپنی منزل کے قریب تھا۔دنیا دباؤ ڈال رہی تھی کہ پاکستان یہ پروگرام روک دے، ورنہ اقتصادی پابندیاں لگیں گی۔مگر مئی 1998 میں بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے، اور پاکستان کے لیے یہ فیصلہ لمحہ آگیا۔
28 مئی 1998 ، چاغی کا دن
چاغی کے پہاڑوں میں جب دھماکے ہوئے، تو زمین لرز اٹھی اور دنیا نے اعلان کیا:‘‘پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بن گیا۔’’قوم سڑکوں پر نکل آئی، اللہ اکبر کے نعرے لگے، بچے مٹھائیاں بانٹ رہے تھے۔یہ دن پاکستان کی تاریخ کا فخر تھا اس دن ہم نے دنیا کو بتا دیا کہ ہم زندہ قوم ہیں۔
1998 سے 2025: دہشت گردی، قربانی، اور نئے چیلنجز
28 مئی 1998 کے دھماکوں کے بعد قوم میں جوش تھا، لیکن اس جوش کے ساتھ ہی عالمی پابندیاں بھی لگ گئیں۔ڈالر کی قیمت بڑھ گئی، مہنگائی آسمان کو چھونے لگی، اور معیشت دباؤ میں آ گئی۔لیکن پاکستانیوں نے یہ سوچ کر سب کچھ برداشت کیا کہ یہ قربانی ہماری سلامتی کی ضمانت ہے۔
11 ستمبر 2001 ، نیا دور، نیا امتحان
امریکا پر نائن الیون حملے کے بعد دنیا بدل گئی۔پاکستان ایک بار پھر فرنٹ لائن اسٹیٹ بن گیا مگر اس بار دشمن کا چہرہ واضح نہیں تھا۔دہشت گردی، بم دھماکے، خودکش حملے، سکول، مسجد، بازار کوئی جگہ محفوظ نہ رہی۔ہر روز شہیدوں کے جنازے اٹھتے، اور ہر جنازے کے ساتھ ایک ماں کی زندگی اجڑ جاتی۔
سانحہ آرمی پبلک سکول ، ایک زخم ہمیشہ کے لیے
16 دسمبر 2014 کو پشاورمیں دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پر حملہ کیا132 معصوم بچے شہید ہوئے پاکستان رو پڑا، فوج کے سپاہی رو پڑے، ماں باپ کے دل پھٹ گئے۔یہ دن پاکستانی تاریخ کا سب سے اندوہناک لمحہ بن گیا۔
آپریشنز اور قربانیاں
پاک فوج نے ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشن شروع کیے پہاڑوں، صحراؤں، اور شہروں میں دہشت گردوں کے خلاف لڑائیاں ہوئیں۔ہزاروں فوجی شہید ہوئے، مگر پاکستان نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی۔یہ قربانی صرف فوج نے نہیں، بلکہ پوری قوم نے دی بازار بند کیے، کاروبار چھوڑے، مگر ملک کو بچایا۔
(جاری)




