منتخب کالم

میں نے پاکستان بنتے دیکھا/ میاں حبیب


ایم اسلم مرزا 
14 اگست 1947ء وہ دن تھا جس کی رات شب قدر تھی۔ جمعرات کا دن تھا۔ دل و دماغ میں چند یادداشتیں اور نہ مٹنے والے دلخراش واقعات ریکارڈ ہو چکے ہیں۔ ’جسٹر‘ کے مقام پر راوی دریا پْل کے پار مشرق کی جانب ڈیرہ ’بابا نانک‘ نامی گائوں ہے۔ اب تو بہت بڑا قصبہ ہو گا۔ ہمارے خاندان کا مسکن وہ گائوں ہوا کرتا تھا اور راوی پْل کے مغرب کی طرف ’علی آباد‘ بہت بڑا گائوں ہے۔ خاندان کے کچھ لوگ وہاں بھی رہتے تھے۔14 اگست سے قبل ان علاقوں میں پْرجوش جلسے جلوس بھی ہوا کرتے تھے۔ بچپن ہونے کے باعث سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ پْرجوش نعرے لگا کرتے تھے کہ لے کر رہیں گے پاکستان، بلوے اور جھگڑے بھی ہوا کرتے تھے لیکن ان کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر پایہ ٔتکمیل کو پہنچتے ہوئے نظر آئی۔ کمیشن بیٹھ رہے تھے، لیڈروں کے پیغامات موصول ہو رہے تھے۔ آخر رات 12 بجے ریڈیو پر اعلان ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو علیحدہ قطعہ زمین عطا کر دیا ہے جس کا نام ’پاکستان‘ ہے۔ جس کی بنیاد کلمۂ حق لا الا پر رکھی گئی ہے۔ یہاں ہر قانون اللہ کے احکام کے مطابق ہوں گے۔ اسلام ہو گا انصاف ہو گا پاکستان کا قیام ایک احسانِ عظیم ہے۔ دعائوں اور سجدوں کے ساتھ اللہ کا شکر بجا لائے۔ پاکستان کے سفر کیلئے خون کے دریا عبور کیے۔ قربانی کے بعد ہی منزل تک پہنچے تھے۔





Source link

Author

Related Articles

Back to top button