منتخب کالم

ایوان زیرین میں قانون سازی آئندہ اجلاس کیلئے ملتوی/ عتر ت جعفری



قومی اسمبلی کے اجلاس میں گزشتہ روز قانون سازی کا کام نہیں ہو سکا، اپوزیشن کی ہنگامہ آ رائی جاری رہی، واک آؤٹ بھی کیا گیا تاہم اپوزیشن کے ارکان اس وقت واپس آ گئے جب ان کے توجہ دلاؤ نوٹس کو ایوان میں زیر بحث آنا تھا، اس موقع پر توجہ دلاؤ نوٹس کے محرک حمید حسین اور ملک محمد عامر ڈوگر ایوان کے اندر آئے اور اپنے توجہ دلاؤ نوٹس کے اوپر بات بھی کی اور سوالات بھی کیے،قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے پر قانون سازی کے متعدد نکات موجود تھے جن میں آسان کاروبار بل 4 202، سول سرونٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل اور نیشنل سکول آف پبلک پالیسی آرڈیننس میں ترمیم کے بلز کی منظوری شامل تھی تا ہم جب کہ قانون سازی کا عمل شروع ہوا تو پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوید قمر کھڑے ہوئے اور بلز کے حوالے سے مشاورت نہ ہونے کا نقطہ اٹھایا، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہرکیانی نے کہا کہ آسان کاروبار بل کے حوالے سے کمیٹی کے اجلاس میں مشاورت ہو چکی ہے تاہم اگر قانون سازی کو ملتوی کر دیا جائے تو انہیں اعتراض نہیں ہو گا جس پر ڈپٹی سپیکر نے قانون سازی سے متعلق تمام نکات کو آئندہ کسی اجلاس کے لیے ملتوی کر دیا۔ اجلاس میں باقی تمام ایجنڈا کے امور پر کارروائی کو مکمل کیا گیا۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف ان دنوں اپنے ایک ٹویٹ اور متعدد دوسرے امور کی وجہ سے توجہ کا مرکز ہیں۔ خواجہ محمد آصف اجلاس میں آئے اور مختلف ارکان کے ساتھ ہاتھ ملاتے رہے اور کچھ دیر اپنی نشست پر بیٹھے رہے اور بعد ازاں ایوان سے چلے گئے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نصف کارروائی کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی نے کی جس کے بعد ڈپٹی سپیکر نے اجلاس کی صدارت کی۔ اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے ایوان میں شور شرابا رہا تاہم حکومتی بنچز کی جانب سے کوئی رد عمل نہیں دیا گیا  ، شور شرابہ کے دوران ایک بار سپیکر قومی اسمبلی نے اپوزیشن کو کچھ وقت کے لیے احتجاج نہ کرنے کے لیے کہا، اپوزیشن ارکان نے ایوان سے باہر بھی احتجاج کیا۔
پارلیمانی ڈائری





Source link

Author

Related Articles

Back to top button