منتخب کالم

میاں محمد ابراہیم طاہر / جمیل اطÛ�ر قاضی


 قیام پاکستان کے وقت میری عمر تقریباً دس سال تھی میں کپور تھلہ کے جلو خانہ سکول میں پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔ میرا چھوٹا بھائی محمد اسماعیل اور ایک ماموں زاد کزن بھی میرے ہم جماعت تھے ہم نے آٹھ دس لڑکوں پر مشتمل ایک ’’بچہ مسلم لیگ‘‘ بنا رکھی تھی میں اس گروپ کا سر پنچ تھا ہم نے محلے کے ایک مسلمان درزی کی مدد سے پاکستان کا جھنڈا بنوا لیا سکول سے چھٹی کے بعد سب لڑکے اکٹھے ہو کر پاکستان کے حق میں جلوس نکالتے
 ’’لے کے رہیں گے پاکستان‘‘ اور بن کے رہے گا پاکستان‘‘ 
کے نعرے لگاتے ہمارے گروپ نے پاکستان کے پرچم کی ہمرنگ قمیضیں اور سفید نکریں بھی سلوائی تھیں۔ ہمارا گروپ اپنے اس ’’پاکستانی لباس‘‘ کی وجہ سے پورے سکول میں نمایاں اور منفرد تھا۔ ہمارا ریاضی کا ایک ہندو ٹیچر کرتم چند تو باقاعدہ ہمیں ’’جناح کے بچونگڑے اور پاکستان کے شتونگڑے‘‘ کے القابات سے نوازتا رہتا۔
 آزادی سے ایک سال پہلے مجھے اپنے سکول کے ایک مسلمان استاد کی زبانی معلوم ہوا کہ بابا جناح (ان دنوں قائد اعظم کو زیادہ تر مسلمان بابا جناح کے نام سے یاد کیا کرتے تھے) جالندھر تشریف لا رہے ہیں گھر آکر میں نے اپنے والد صاحب سے ضد کرنا شروع کر دی کہ میں بابا جناح کو دیکھنے کے لیے جالندھر جانا چاہتا ہوں۔
 والدہ مرحومہ نے میرے شوق جناح کے دیدار کو دیکھ کر والد محترم کو آمادہ کر لیا کہ وہ مجھے بابا جناح کی ایک جھلک دکھانے کیلئے جالندھر لے جائیں۔ حضرت قائد اعظم کی جالندھر آمد سے ایک روز پہلے والد صاحب اور میں جالندھر پہنچ گئے۔
…………………… (جاری)





Source link

Author

Related Articles

Back to top button