پاکستان ایسے ہی نہیں بن گیا/ قیوم نظامی

( مہوش بٹ عابد اکرام اللہ بٹ)
یہ کہانی میری نانی اماں محمودہ بیگم (مرحوم) کی ہے جو انھوں نے ہمیں بتائی۔ قیام پاکستان کے وقت وہ محض سات سال کی تھیں۔ والد وفات پاچکے تھے اور اْن سے بڑی ایک بہن اور اْن سے چھوٹا ایک بھائی تھا پاکستان کی طرف سفر کرنے والوں میں اْن کی والدہ، بہن بھائی اور اْن کے نانا اْن کے ساتھ تھے۔ وہ بتاتی ہیں کہ وہ انڈیا کی ریاست امرتسر کے ضلع گورداسپور میں رہتے تھے جب پاکستان کے قیام کا اعلان ہوا تو وہ اپنے مال، مویشی زمینیں جائیدادیں سب چھوڑ کر پاکستان کے شہر نارووال کی طرف عازم سفر ہوئے۔ اْن کے پاس ضرورت کی چیزوں کے علاوہ کچھ سونے ، جواہرات کا ٹرنک تھا جو وہ پاکستان میں دوبارہ زندگی کے آغاز کے لیے لے جارہے تھے۔ اْن کے ہمسائے رام لال نے انھیں اطلاع دی کے سکھ بلوائی ہر مسلمان کو شناخت کر کے قتل کر رہے ہیں۔ اْن کی والدہ نے رام لال سے اپنے گھر پناہ دینے کی درخواست کی۔ ہندو ہمسائے نے اْنھیں اپنے جانوروں کے چارہ رکھنے والے کمرے میں پناہ دے دی وہ تین دِن اور تین راتیں اْسی اندھیری کوٹری میں بند رہے۔
آیت کریمہ کا ورد کرتے یہ راتیں اْنھوں نے نہایت خوف سے گزاریں تیسری رات رام لال نے پاکستان جاتے ایک قافلے کے ساتھ اْنھیں سوار کروا دیا۔ راستے میں جب پاکستان کی سرحد قریب آئی تو اْن کی والدہ رونے لگیں ، وہ بتاتی ہیں اْنھوں نے اپنے بہن بھائی اور اپنے نانا کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ ماں ہم سب زندہ سلامت ہیں تمھیں اس چیز کی خوشی نہیں ہے؟ تم کیوں روتی ہو؟ ماں کے جواب نے اْنھیں ششدر کردیا کیونکہ والدہ نے بتایا کہ جو سونے سے بھرا ٹرنک تھا وہ تو رام لال نے ہی غائب کردیا اور اب ہم بے سروسامانی کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے بھرو سے نوزائیدہ مملکت میں داخل ہو رہے ہیں۔ بیوہ ماں نے اپنے بوڑھے والد اور تین کم سن بچوں کے ساتھ نہایت مشکل حالات میں زندگی کا آغاز کیا۔ قیام پاکستان کے وقت کئی سینکڑوں مسلم گھرانے اپنے گھر بار زمین جائیداد ہندوستان میں ہی چھوڑ کر ایک مسلم ملک کا حصہ بننے کے لیے چلے آئے آج کی نئی نسل گھر سے بے گھر ہونے کے دکھ سے آشنا ہی نہیں ہیں اْن کی لازوال قربانیاں یاد رکھنی چاہیے اور ہر فرد کو پاکستان کی ترقی کے لیے شب و روز ایک کر دینا چاہیے۔




