غزل
غزل /ترے ہونے سے بکھرتا ہے اجالا مرے دوست/عرفان صادق

غزل
عرفان صادق
تو اندھیروں میں ہے سورج کا حوالہ مرے دوست
ترے ہونے سے بکھرتا ہے اجالا مرے دوست
میں تو جو بات کروں تجھ پہ ٹھر جاتی ہے
تو نے کیسے مجھے سوچوں سے نکالا مرے دوست
اک غلط فہمی سے ریزوں میں بکھر جائے گی
ہم تو سنتے تھے محبت ہے ہمالہ مرے دوست
اب بھی سوچوں میں دہکتی ہے ترے جسم کی آگ
اب بھی اتا ہے تخیل میں اچھالا مرے دوست
جس گھڑی مجھ کو بلاتے ہیں ترے نام سے لوگ
اس گھڑی ہوتا ہوں میں دیکھنے والا مرے دوست
اب تو اک عمر سے میں خود میں چھپا بیٹھا ہوں
ورنہ ہوتے تھے کبھی میرا حوالہ مرے دوست
چنتا پڑتے ہیں ہمیں دھوپ کے کانٹے دن بھر
پھر کہیں منہ میں اترتا ہے نوالہ مرے دوست
اتنا اچھا نہیں عرفان یوں گم صم رہنا
بند کمرے میں تو لگ جاتا ہے جالا مرے دوست




