اُردو ادباُردو شاعریغزل

غزل / قریب جاؤں گا جتنا بھی دور تر ہو گی / انعام کبیر

غزل

 

قریب جاؤں گا جتنا بھی دور تر ہو گی

یہ برف پوش پہاڑی نہ مجھ سے سر ہو گی

 

ندی میں پاؤں بھگو تو رہے ہو دھیان رہے 

یہ جتنی شانت ہے اتنی ہی پُرخطر ہو گی

 

اچانک آگ کی لپٹیں لپک پڑیں تو کھلا

وگرنہ دور سے لگتا تھا وہ بشر ہو گی

 

یہ چھاؤں اس کی یہ خوشبو یہ خوشۂ خوش رنگ

مجھے یقیں ہے وہ اگلے جنم شجر ہو گی

 

مسافرانِ جنوں ہیں خبر نہیں ہم کو

کہاں پہ نکلے گا دن، رات کس نگر ہو گی

 

کٹھن حیات بسر کر کے سوچتا ہوں کہ موت

ضرر رساں یونہی لگتی ہے بے ضرر ہو گی

 

دنوں کے شور سے نکلا ہوں لے کے درد کی ناؤ

جزیرۂ شبِ تیرہ پہ اب بسر ہو گی

 

نگہ جھکا کے گزرتا ہوں اس لیے بھی کبیر

نظر ملاؤں گا اس سے تو آنکھ تر ہو گی

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button