افسانہ

شورش /عامر انور

  • آسمان سے کچھ ایسا منظر نظر آ رہا تھا جس میں بادلوں میں برف کے سفید گولے کی مانند چار یا پانچ وجود نیچے زمین پر نگاہ کیے ہوئے ہیں ۔ ان کے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہیں جو بڑھتی عمر کے لوگ سہارے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور زمین پر کروڑوں ، اربوں لوگوں میں سے ان کی نظر صرف اس ٹکڑے پر ہے جہاں چند کروڑ افراد بستے ہیں۔

بستیاں تعمیر ہو رہی ہیں۔ لوگوں کے تن آسائشوں کی زینت اوڑھے خوش رنگ معلوم ہو رہے ہیں ۔ انسان پلک جھپکتے سلیمان کے دربار کے جن کی طرح طلب کردہ وجود کو سیکنڈوں میں حاضر کر دیتے ہیں۔ ہزاروں میل کا سفر اب منٹوں اور سیکنڈوں میں ممکن ہو چکا۔۔۔

چند کروڑ افراد کی بستی کے ارد گرد کی بستیوں میں بھی اگر چہ افلاس نظر آ آرہا ہے لیکن اس بستی جس پر آسمان پر برف کے گولے کی مانند نظر آنے والے چار یا پانچ وجود خاص نظر رکھے ہوئے ہیں اس کی حالت زار جنگ زدہ علاقے کا نقشہ پیش کر رہی ہے ۔

اسی زمین پر ایک شدید بوڑھا لاٹھی پر اپنی جھکی کمر کا بوجھ ڈالے سر جھکائے ہزاروں کے ہجوم سے خطاب کر رہا ہے۔ وہ جتنا لاغر ہے اس کی آواز کا ردھم اور گونج اتنی ہی توانا ہے۔ اس کے منہ سے الفاظ انگارے کی طرح لال نکل رہے ہیں۔ وہ انگارے سر جھکائے لوگوں کے کانوں میں انڈیلے جا رہے ہیں ۔

عجیب منظر ہے۔ بستی میں ہزاروں میں ایک فرد ایسا ہے جو ہر تخلیقی جوہر کو بھسم کر رہا ہے۔ وہ بولتا ہے تو اس کے منہ سے آگ نکلتی ہے۔ اس کا جسم بھی بھر پور جوان اور طاقت لیے ہوئے ہے۔
آرٹسٹ کینوس پر رنگوں سے تاریخ لکھ رہا ہے۔ برش کے اسٹروک سے سجے کینوس میں آگ دکھائی دے رہی ہے جس کے شعلے بستی کو خاکستر کرنے کو ہیں ۔ لوگ مجمع بنائے آگ کے چاروں طرف سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ آگ سے دور ہوتے جائیں گے لیکن آگ کے آگے بڑھنے اور ان کے پیچھے ہٹنے میں جو فرق ہے وہ انہیں جلانے کے لیے کافی ہے۔

ہزاروں میں ایک ہی فرد ہے جو منہ سے آگ اگل رہا ہے۔ ہجوم کے پاس آگ کا تریاق ہے۔ لیکن وہ منہ بند کیے بیٹھے ہیں ۔ لفظ بند ہیں۔ خاک ہو گیا سب۔۔۔۔ ہزاروں بھی اور وہ ایک فرد بھی ۔

خوش رنگ نظر آنے والی بستیوں میں بھی ہزاروں میں ایک فرد ہے جو منہ سے آگ اگل رہا ہے۔ ہزاروں پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے بڑھ رہے ہیں۔ مصنف قلم کی سیاہی سے پانی لکھ رہا ہے اور مصنف کی سیاہی سے لکھا پانی آگ کو کھا جاتا ہے۔ فرد شکست خوردہ ہے اور ہزاروں فاتح عالم۔۔۔۔ بستی کے سب رنگ خوشنما نظر آ رہے ہیں۔

اربوں افراد کی دنیا میں چند کروڑ کی بستی جس کے اوپر چار یا پانچ افراد آسمان پر برف کے گولے کی مانند نظر آ رہے ہیں۔ بستی جنگ زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اوپر سے نظر آ رہا ہے کہ ہر طرف ہزاروں میں ایک فرد منہ سے آگ اگل رہا ہے۔ اور باقی مجمع آگ سے پرے خود کو دھکیل رہا ہے۔ لیکن شعلوں کے لپکنے اور ہجوم کے پیچھے ہٹنے کا فرق انہیں جلانے کے لیے کافی ہے۔
بستی کے آرٹسٹ کینوس پر منظر پینٹ کر رہے ہیں۔ مصنف قلم کی سیاہی سے ” پانی ” لکھ رہا ہے ۔ یہاں ہجوم پیچھے ہٹتے ہوئے ان چار یا پانچ افراد کو دیکھ رہے ہیں جو بادلوں کے بیچ برف کے گولوں کی مانند نظر آتے ہیں ۔ ان کی لاٹھیاں بھی صاف نظر آ رہی ہیں جو بوڑھے لوگ سہارے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔۔۔۔۔

آسمان سے بادل برس گئے ۔ کینوس کے رنگ اور صفحے کی سیاہی پانی میں دھل گئی۔ لیکن شعلے بدستور بے قابو ہیں۔ آگ پر بارش بے اثر ثابت ہوئی ۔

آخری جلنے والا سسکتے ہوئے سوچ رہا ہے کہ کاش سلیمان کا جن اسے سیکنڈوں میں یہاں سے ہزاروں میل دور خوش رنگ بستیوں میں لے جائے۔۔۔۔ اس نے حسرت سے آسمان کی جانب دیکھا جہاں اسے چار یا پانچ برف کے گولوں کی مانند نظر آنے والے بوڑھے افراد جن کے ہاتھوں میں سہارے کے لیے لاٹھیاں تھیں نظر آ رہے ہیں۔۔۔۔
اس کی آنکھ بند ہوتے ہی مطلع صاف ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاں گولے کی مانند اب کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔۔

Author

Related Articles

Back to top button