جنوبی ایشیا کا بدلتا منظرنامہ/ ٹی ایم اعوان

ٹی ایم اعوان
پاکستان اور بنگلہ دیش نے حال ہی میں سفارتی اور سرکاری پاسپورٹس کے حاملین کے لیے ویزا فری انٹری اور داخلی سلامتی و پولیس ٹریننگ میں تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیشرفت خطے میں بدلتے ہوئے توازن کی علامت ہے، جس میں بھارت کے روایتی غلبے کو نئے چیلنجز درپیش ہیں، کیونکہ چین جنوبی ایشیا میں اقتصادی اور اسٹریٹیجک شراکت داری کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ مسلسل بڑھا رہا ہے۔گزشتہ برسوں میں سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور مالدیپ کی حکومتوں نے اپنی خارجہ پالیسیوں میں چین کو فوقیت دینا شروع کر رکھی ہے۔ چین نے بھی بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے تحت ان ممالک میں بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، اور شاہراہوں جیسے میگا انفراسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے، جس سے انہیں بھارتی امداد کے متبادل ذرائع میسر آئے ہیں۔سری لنکا میں 2022 کے معاشی بحران کے بعد ستمبر 2024 میں انورا کمار دیسانائیکے صدر منتخب ہوئے۔ اگرچہ انہوں نے دسمبر 2024 میں بھارت کا دورہ کیا، تاہم جنوری 2025 میں ان کا دورہ بیجنگ واضح اشارہ تھا کہ وہ بھارت کے روایتی اثر سے ہٹ کر توازن کی پالیسی اپنانا چاہتے ہیں۔ چین کے زیر انتظام ہمبنٹوٹا بندرگاہ اب بیجنگ کو بھارتی سمندری گزرگاہوں تک مضبوط رسائی دے رہی ہے۔بنگلہ دیش کی جولائی 2024 کی انقلابی تبدیلی کے بعد، عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے واضح طور پر چین سے قریبی تعلقات کی پالیسی اختیار کی۔ مارچ 2025 میں ان کے دورہ چین کے دوران مونگلا بندرگاہ کی توسیع سمیت کئی معاہدے طے پائے۔ محمد یونس کی "سب سے تعلقات” پر مبنی پالیسی بھارت کو اس لیے کھٹک رہی ہے کہ وہ خطے میں چین کے بڑھتے اثر سے خائف ہے اور اسی تناظر میں بنگلہ دیش کی حکومت کے لیے مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔نیپال میں جولائی 2024 میں کے پی شرما اولی دوبارہ وزیرِاعظم بنے، جنہیں چین نواز تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے دسمبر 2024 کے دورہ چین میں 10 میگا منصوبوں پر بات چیت ہوئی، جن میں ہوانگ گواں سے کٹھمنڈو تک ریلوے لائن اور زیرِ زمین سرنگی سڑک شامل ہیں۔ اگرچہ نیپال کی دو تہائی تجارت تاحال بھارت سے جڑی ہے، لیکن اولی حکومت اس انحصار کو چین کے ذریعے کم کرنا چاہتی ہے۔مالدیپ میں نومبر 2023 کے انتخابات کے بعد صدر محمد معیزو نے "انڈیا آٹ” نعرے کے تحت بھارت کی دفاعی موجودگی ختم کرنے کی مہم شروع کی۔ ان کے جنوری 2024 کے دورہ چین میں دونوں ممالک نے تعلقات کو "جامع تزویراتی شراکت داری” کا درجہ دیا۔ چین نے یہاں تقریبا 37 ارب ڈالر کے منصوبے شروع کیے ہیں، جب کہ مالدیپ کے کل قرض کا بیس فیصد چینی بینکوں سے لیا گیا ہے۔ بھارت اب بھی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن حقائق بتاتے ہیں کہ مستقبل میں مالدیپ کا جھکا چین کی جانب ہوگا۔بھوٹان میں بھی خارجہ پالیسی کے تناظر میں محتاط لیکن واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ 2023 میں چین کے ساتھ سرحدی مذاکرات میں پیشرفت ہوئی، اور مارچ 2024 میں بھوٹانی وزیر خارجہ نے بیجنگ کا دورہ کیا۔ یہ پہلی بار تھا کہ بھوٹان نے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات پر غور کا اشارہ دیا۔ یہ بھارت کے لیے تشویش ناک امر ہے کیونکہ بھوٹان کی سرحد "چکنز نیک” جیسے حساس بھارتی علاقے سے متصل ہے۔ چین بھوٹان کو BRI میں شامل کرنے کے لیے کوشاں ہے، اور اگرچہ بھوٹان نے کسی بلاک میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا، لیکن اس کی غیرجانب دار حکمتِ عملی نئی دہلی کے لیے ایک خاموش پیغام ہے۔ان تمام تبدیلیوں نے بھارت کے جنوبی ایشیا میں روایتی غلبے کو کمزور کیا ہے۔ چین کی سرمایہ کاری اور BRI کے منصوبے پڑوسی ممالک کو دہلی کے بجائے بیجنگ کے قریب لا رہے ہیں، اور بھارت کو خطرہ ہے کہ چین کی بحری رسائی اس کے روایتی روٹس پر حاوی ہو جائے گی۔ دوسری جانب پاکستان، اس نئی صف بندی کو ممکنہ مواقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔یہ تمام اشارے ظاہر کرتے ہیں کہ 2025 تک جنوبی ایشیا کا سیاسی توازن بنیادی طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ بھارت کی قدیم اجارہ داری کمزور پڑ چکی ہے، اور چین ایک مرکزی قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ رہی سہی کسر حالیہ پاک-بھارت کشیدگی میں انڈیا کی سبکی نے پوری کر دی ہے۔اب خطے کی نئی قیادتیں اپنی اقتصادی ترقی کے لیے بیجنگ پر انحصار کر رہی ہیں، اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ بدلتے جیو اسٹریٹیجک توازن کو بہتر طور پر سمجھے اور اپنی خارجہ پالیسی کو اس کے مطابق ہم آہنگ کرے۔!!



