نظم
نظم / میں کہاں ڈھونڈوں تجھے اے دہریے / حنا عنبرین

میں کہاں ڈھونڈوں تجھے اے دہریے
میں کہاں ڈھونڈوں تجھے اے دَہریے
تیرے پنّوں میں کہاں میری جگہ
میں ہوں مٹی ، آسماں تیری نگہ
تو ہے مٹتی سلطنت کا کیقباد
کھا گیا تجھ کو ترا اپنا تضاد
مجھ کو تیرے غم نے دیوانہ کیا
تجھ کو تیرے کفر نے تنہا کیا
کھیل ہے تیرا دلوں کو توڑنا
خار تو تجھ کو مرے ہونے سے ہے
ریشہ ریشہ جوڑ کر بنتا ہے تارِ عنکبوت
کب سے جاری ہے محبت میں اذیت کا عمل
کم پڑی، جتنی تھی میری روشنی
تو اندھیرا ہے ترے حدّ نظر کوئ نہیں
جڑ نہیں پاتے کبھی خشک اور تر
ایک ہو سکتے نہیں ہیں بحر و بر
پانیوں پر آگ کا کیا زور ہے
تیرا رستہ اور ۔ میرا اور ہے !




