اُردو ادباُردو شاعرینظم

نظم / حواس کھو رہی ہو تم / حنا عنبرین

حواس کھو رہی ہو تم

 

ابھی ہوا نے اپنے بادبان پر 

تمہارا نام تک کہیں لکھا نہیں 

ابھی تو خوشہ چیں کی دسترس سے کتنے دور ہو

اگر تم عہد باختہ نہیں بھی ہو

 تو بت شکن ضرور ہو

 

ابھی یہ طے نہیں ہوا 

ہم اپنے بس میں کب تلک رہیں گے اور 

کَے دنوں تلک 

تو تم بھی اس قبیل کے قتیل ہو

کہاں تلک ادھیڑ بن میں منہمک رہو گے 

اور کب تلک 

 

 

شبیہہ تک نہیں ملی 

جھلک نے اپنے جال میں لپیٹ کر اُڑس لیا 

اداس رت نے کتنے یُگ چرا لیے 

رمق کہیں تھمے تو ہم کہیں اسے

ستارہ وار مت لپک پڑو ابھی 

رکو ابد کی شام تک 

 

تمہارا خواب آنکھ سے بڑا نہیں

بس اک قدم کے فاصلے پہ طور ہے

سواۓ یاد ہے ہی کیا فریفتہ کے ہاتھ میں

وہ گیت جو تمام کائنات سے کشید کرکے

ذرے ذرے میں پرو رہی ہو تم 

اکیلی  ہو رہی ہو تم !

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Back to top button