تبصرہ کتب

دنیا کی پہلی کتاب /  میاں محمد محسن

دنیا کی پہلی کتاب
The Saviour of Humanity

پروفیسر سلمان رفیق ،وہ پہلے انگریز شاعر ہیں جنہوں نے حبِ رسول صلعم میں ڈوب کر ایک ایسا شاہکار تخلیق کیا ہے جسے ہم بلاشبہ لاثانی کہہ سکتے ہیں۔
آپ ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جنہیں سیرت نبوی پر قلم ازمائی کی سعادت نصیب ہوئی۔ انہوں نے سیرت نبوی لکھنے کے لئے جس زبان کا انتخاب کیا وہ انگریزی ہے۔
عالمی سطح پر سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں سے انگریزی سر فہرست ہے۔سیرت نبوی کو موثر اور باوثوق طریقے سے لوگوں تک پہنچانے کے لئے انگریزی زبان کا انتخاب کیا گیا ۔جو کہ بہت درست اور موزوں فیصلہ ثابت ہوا۔ اس کے ساتھ ہی پروفیسر سلمان رفیق صاحب کی دور اندیش اور زمانہ شناس نگاہ نے جانچ لیا کہ نثر کی بجائے شاعری کے میدان میں اپنی قلمی مہارت دکھائی جائے۔
نثر اور شاعری کی اپنی اپنی انفرادیت ہے لیکن شاعری میں موجود ردھم ،الفاظ کا چناو اور الہامی کیفیت کی موجودگی اسے نثر سے زیادہ پر تاثیر بنا دیتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پروفیسر سلمان رفیق کی اس کاوش کو عالمی سطح پر خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔
انگریزی شاعری میں سیرتِ نبوی پر قلم أزمائی نے دنیا کو باور کروادیا کہ خلوص نیت سے کیا گیا کام ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
اس کتاب کو مصنف نے اپنی ذاتی کوششوں سے تمام اخراجات بخوشی برداشت کر کے نہایت خوش اسلوبی سے مکمل کر کے چھپوایا اور دوسرے ممالک میں بھی بھجوایا۔
آپ کی اس تصنیف نے بہت کم عرصہ میں تمام ممالک میں شہرت کی بلندیوں تک کا سفر طے کر لیا۔
امریکن ایمبیسی اسلام آباد نے اپنے سرکاری رسالہ "خبرو نظر” میں پروفیسر سلمان رفیق کی فنی اور ادبی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوے ان پر ایک کالم لکھا ہے جس کا عنوان ہے۔۔۔۔۔۔
Important Pakistani Author
پاکستان کا سب سے اہم لکھاری
The Saviour of Humanity
یہ صرف ایک کتاب ہی نہیں ۔۔روحانی تجربہ بھی ہے ۔جو محبت و عقیدت کے جذبے سے بھر پور ہے ۔
آپ کی اس کتاب کی تقاریبِ رونمائی و پذیرائی
18 جون 2025ء کو مشہور ادارے مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان کے مایہ ناز کالم نگار اور تجزیہ نگار جناب مجیب الرحمٰن شامی تھے۔ صدرات کے فرائض چیرمین مولانا ظفر علی خان فاؤنڈیشن جناب خالد محمود نے سر انجام دیے۔ ان دونوں صاحبان اور دیگر معزز مقررین خواتین و حضرات نے مصنف کی اس ادبی اور بین الاقوامی کوشش کو بہت سراہا۔ پروفیسر سلمان رفیق نے اپنی اس تصنیف سے اپنا کلام خوبصورت آواز میں پیش کیا جس نے سما باندھ دیا۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پروفیسر سلمان رفیق کی اس محبت بھری کاوش کو قبول فرماے اور مزید ایسی شاہکار تخلیقات کے لئے ذہنی استعداد کو نکھار بخشے۔ آمین

Author

Related Articles

Back to top button