سرگوشیِ ازل / ثمرین خان
سرگوشیِ ازل
ہیں ہم وہ بے صدا، بے رنگ حرفِ اولیں۔۔
جو عکس کے سناٹے میں
اپنے بدن کی اوڑھنی اوڑھے
سمے کی ناو میں بیٹھے ہوئے
احساس کے
انجانے ، ان دیکھے جزیروں پر اترنے کی بڑی ضد میں
کہانی کے
اس اک لمحہ کو چھونے کے تمنائی
جو کاتب نے ازل کے نیند ہی کی روشنائی میں رقم کی تھی
تھکے ماندھے بدن صدیوں کے آخر، جب محبت کے مدھر جھرنوں،حسیں سی آبشاروں پر وضو کرتے ہیں۔۔۔
۔۔تو تقدیر کی روشن جبیں پر
آیتِ خاموش کوئی
دھیرے دھیرے سے اترتی ہے۔۔۔
وہ آیت جو پڑھی جا سکتی ہے بس اک خموشی میں !
وہ آیت جو فقط اک لمس کی خاموش ساعت میں پڑھی جاسکتی ہے۔۔۔۔
۔۔۔یا پھر
پلک کی ایک لرزش میں
جو دل کی دھڑکنوں سے پہلے ہی دل تک اترتی ہے !
وہ ہم ہیں جس نے پتھر کی خموشی میں
کسی خاکی بدن کو
نور بنتے خود سے دیکھا ہے
ہمیں نے نیند کی بیلوں پہ
وصلِ یار کے سندر کبوتر کے اترنے کی صدا کو بھی سنا
جو ہجر کی چوٹی سے
رنگ و نور کی وادی تلک اپنی اڑائیں خوب بھر آئے
ہمیں دیکھو
کہ ہم وہ سائے ہیں جو روشنی سے تو نہیں ۔۔۔لیکن خموشی سے ہی بنتے ہیں۔۔۔
کنارِ وقت پر بیٹھا ہر اک لمحہ
ہمیں دیکھے تو بس وہ چونک جاتا ہے
کہ جیسے کاتبِ تقدیر کے سندر قلم سے
اک پھسلتی سی کسی بے نام تحریروں میں سے اک ہم
ہمیں وہ سانسیں ہیں
جو لفظ بننے سے بہت پہلے
کسی اک اور عالم میں
دعا پیکر کی صورت بن گئی تھیں۔۔۔
ہاں
ہمیں ہیں وہ دعائیں ۔۔۔۔جو ہر اک مذہب کی خاموشی میں ہوتی ہیں قبول آخر
ہمیں ہیں وہ ازل کے سائے میں
جو خواب ابد کے پالتے ہیں
اور
جب جب اس خلا کی سیڑھیاں نیچے اترتی ہیں
تو ہر ذرّہ فضاؤں کا
ہمارا نام دھیمے سے بلاتا ہے
کہ
ہم تخلیق کی پہلی صدا کا استعارہ ہیں !
محبت کااشارہ ہیں !!




