غزل
غزل / ذرا سنبھل کے اگر بانکپن زیادہ ہے / وسیم نادر
غزل
ذرا سنبھل کے اگر بانکپن زیادہ ہے
محبتوں میں ہوس کا چلن زیادہ ہے
کھلے پڑے ہیں مرے زخم کچھ خیال کرو
تمہارے پاس اگر پیرہن زیادہ ہے
خیالِ یار کوئی ذکر عہدِ ماضی کا
کہ اِس برس کی رُتوں میں گھٹن زیادہ ہے
اکیلے بیٹھ کے سننا محال ہے میرا
ندی کے شور میں اب کے سخن زیادہ ہے
محبتوں میں توازن بگڑتا رہتا ہے
کہیں پہ روح کہیں پر بدن زیادہ ہے
وہ پچھلے سال اِسی روز ہم سے بچھڑا تھا
سو آج دل میں ہمارے چبھن زیادہ ہے




