نظم

اب کے برس مجھے بیٹا نہ کیجو_!! / احمد نعیم

اب کے برس مجھے بیٹا نہ کیجو_!!

 

 میری کہانی میں اک لڑکی ہے

کسی کی بیٹی کسی کی دختر

کسی کی بیوی ہے

یہ

میرے گھر میں رکھی عجیبT. v ہے

مری کہانی کے

ہر موڑ پر روتی

سوال کرتی ہے-!

خدا کی قدرت

عجیب خدا کی کھیتی ہے

تمام دنیا تو روز

زور زور ہنستی ہے

غیب ہستی ہے

ہنستی نہیں ہے روتی ہے

کیشف پانیوں میں چلتی ہوئی

یہ کشتی ہے

میرے خدا__!

ترے خانہ خرابوں کی زمانے بھر میں

عجیب

یہ مٹر گشتی ہے

الہی رحم

 ماں کی ممتا

مدام روتی ہیں

یہ معصوم کلیاں روتی ہیں

کہ شیام چی آئی

سبھی نے دیکھی ہے

مگر یہ کیا

کہ ترے تیرہ شب

بسرے میں

حیات و موت

کے درمیاں

زندگی سسکتی ہے

ہمارے دور میں

ہر روز

ہر لمحہ

جدید دُور کی

حوا کی یہ دوشیزہ

گھنے تبسموں

سے دور

نا

یہ خواب دیکھتی ہے

نا رنگ بھرتی ہے

زہے نصیب کہ یہ

لاڈ کی ماری

کبھی نا ہنستی ہے

نا گنگناتی ہے

ترے خانہ خرابوں کی

زمانے بھر میں

خلق تیری اتنی سستی ہے

میرے خوابوں کی معصوم کلیاں مدام روتی ہیں

باولی

نوخیز

بچاری

روتی ہیں

Author

  • توحید زیب

    روحِ عصر کا شاعر ، جدید نظم نگار ، نظم و غزل میں بے ساختگی کے لیے مشہور

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button