جنگل کی ڈاک / تبصرہ : سیدہ عطرت بتول نقوی

ادیبوں اور شاعروں کو جنگل مسحور کر دیتا ہے جنگل پر بہت کہانیاں لکھی گئی ہیں اشعار کہے گئے ہیں نہ جانے جنگل کا کیا فسوں ہے کہ خلیل جبران نے بھی کہا تھا کہ :
،، اگر زندگی کے شب وروز میرے ہاتھوں میں دے دئیے جائیں تو میں انہیں جنگل میں بکھیر دوں گا -،،
اور یہ مصرع تو زبان زد عام ہے
قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو
اور ہمارے پیارے بچوں کوجنگل میں رہنے والے پرندوں اور جانوروں کی کہانیوں سے دلچسپی ہوتی ہے اسی لیے شمیم عارف صاحبہ نے بچوں کے لیے لکھی اپنی نئی کتاب ،، جنگلی ڈاک ،، میں جنگل میں رہنے والے جانوروں اور خوبصورت پرندوں کی زندگیوں کو موضوع بناتے ہوے دلچسپ کہانیاں لکھی ہیں چونکہ کبوتر کا کردار ہمیشہ پیغام رسانی سے منسوب ہے تو اس حوالے سے کتاب کا نام بھی چنا ہے کہانیوں کی اچھی بات یہ ہے کہ اس میں اخلاقی سبق غیر محسوس طریقے سے ہے یعنی اس سے کہانیوں کی دلچسپی متاثر نہیں ہوتی اور بچے سبق بھی حاصل کر لیتے ہیں مثلا گلہری کا یہ احساس محرومی کہ وہ پرندوں کی طرح اڑ نہیں سکتی اس نے کیسے اپنے اس احساس پر قابو پایا اور اپنا شوق پورا کیا اور پھر مور کو کیسے احساس ہوا کہ مل جل کر رہنا ہی بہتر ہوتا ہے اس طرح مختلف پرندوں اور جانوروں پر لکھی کہانیوں کے ذریعے شمیم صاحبہ نے بچوں کو اخلاقی اصولوں سے روشناس کروایا ہے لیکن کہانیوں کو بور نہیں ہونے دیا سائبریا کے برفانی علاقوں میں رہنے والے پرندے اور جانور ، ہاتھی اور زیبرا ، لومڑی یہ سب بچوں کے باعث دلچسپی ہیں شمیم عارف صاحبہ نے بچوں کی نفسیات کے مطابق کہانیاں لکھی ہیں اور ان کی خوبصورتی یہ بھی ہے کہ بے جا طوالت سے گریز کیا گیا ہے اور کہانیوں کی مناسبت سے اشعار اور اقوال بھی شامل کیے گئے ہیں امید ہے یہ کتاب بہت پذیرائی حاصل کرے گی
شمیم صاحبہ اس سے پہلے بچوں کے لیے ،، ننھا سلطان ،، لکھ چکی ہیں ، اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
ان کے لیے دعائیں اور نیک خواہشات۔




