کالم

کتھارسس / راحت فاطمہ ظفر

کتھارسس  یونانی زبان کا لفظ ہے۔ اس لفظ کو سب سے پہلے ارسطو نے اپنی کتاب The Poetics میں استعمال کیا۔ کتھارسس کے لغوی معانی کا دائرہ کار محدود ہے، جب کہ اصطلاحی معانی و مفہوم بہت وسیع ہیں۔

انسانی جذبات کی وہ انتہائی صورت جب وہ اپنی شدت کے آخری مقام پر پہنچ جائیں تو وہ خطرناک شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ ایسے جذبات جو معاشرے کے رد عمل کے خوف سے یا کسی انہونی کے ڈر سے دبا لئے جاتے ہیں، وہ ایسے لاوے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس کو اگر بہہ نکلنے کا راستہ نہ ملے تو انسانی جسم میں ناسور بن جاتے ہیں۔ اور اگر عرصہ دراز تک رکے ہوئے جذبات کو اظہار کا راستہ یا طریقہ نہ ملے تو وہ کوئی ایسا راستہ اختیار کر لیتے ہیں جو اکثر تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔

ان جذبات میں غالب اور شدت سے پلنے والا جذبہ یا احساس خوف کا ہے:
ناکامی کا خوف
بدنامی کا خوف
کسی کو کھو دینے کا خوف
خود کو درست ثابت نہ کر سکنے کا خوف
کسی کے دل سے اترنے کا خوف
کوئی برائی یا خامی ظاہر ہونے کا خوف
مالی نقصان کا خوف
اور
"لوگ کیا کہیں گے” جیسے خوف

ان سب کی ابتدا اپنے جذبات کو دبا کر غم اور پریشانی کو چھپانے سے ہوتی ہے۔ اور اس کی انتہا خود کشی جیسے حرام فعل پر ہوتی ہے۔ خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جذبات کی گھٹن انسان کو موت کے دہانے پر لے جاتی ہے۔

کتھارسس ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے انسانی جذبات کا اظہار بہترین طریقے سے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ تکلیف دہ احساسات و جذبات سے ہونے والے نقصان کے اظہار کا موقع دیا جائے۔

اس کی مثال یوں ہے کہ ایک شخص عرصہ دراز تک کسی پریشانی یا خوف میں مبتلا رہا، لیکن اس پریشانی کا ذکر کسی سے نہ کر سکا، اور تمام پریشان کن جذبات اور احساسات کے بوجھ تلے دب کر ذہنی بے سکونی کا شکار ہوگیا۔ وہ ذہنی بے سکونی ڈپریشن کا باعث بنی۔ لیکن وہ پھر بھی اپنی پریشانی کو چھپاتا رہا۔

مسلسل بے سکونی اور بے چینی کی کیفیت کے باعث جسم میں ہارمونز کی ایسی خرابیاں پیدا ہوئیں جن کے نتیجے میں مایوسی کا دماغ پر غلبہ ہوگیا۔ اور مایوسی انسان کا شکار کرتی ہے۔ مایوسی کا آخری درجہ یہ ہے کہ وہ دماغ میں یہ بات بٹھا دیتی ہے کہ زندگی کا خاتمہ ہی اصل حل ہے مسائل کا۔ اور انسان خود کشی کا ارتکاب کر لیتا ہے۔

کتھارسس کے بے شمار طریقے ہیں۔ ہر مذہب میں اس کے مختلف طریقہ کار رائج ہیں۔ ہماری قرآنی تعلیمات بتاتی ہیں کہ اللہ کا ذکر دلوں کے سکون کا باعث ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ اللہ کے ذکر کے علاوہ سکون کہیں بھی میسر نہیں۔

لیکن انسانی ذہن کے مختلف مدارج ہیں۔ پیدائش سے موت تک انسانی ذہن خیالات کی مختلف منازل طے کرتا ہے۔ جس ذہن نے شعور کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی محسوس کیا ہو کہ اس کے ارد گرد مذہب و شریعت اور قرآنی تعلیمات پر عمل کرنا زیادہ ضروری نہیں سمجھا جاتا، اس ذہن کا شعور اپنی تکلیف اور اذیت کے دور میں اپنا سکون تلاوت قرآن میں حاصل نہیں کر سکتا۔

اس سطح پر پہنچنے کے لیے اس ذہن کو عام اور معمولی راستوں پر چلنا پڑے گا۔ اور جب ان راستوں کی حقیقت اس پر آشکار ہو جائے گی تو وہ قرآن کی طرف مائل ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ اداس موسیقی پسند کرتے ہیں۔ دکھی گانے سننا، دکھی شاعری پڑھنا، اداسی کو ہر وقت محسوس کرنا، اور آہیں بھرنا، یہ سب وہ عام اور معمولی طریقے ہیں جن کے ذریعے لوگ اپنا کتھارسس کرتے ہیں۔

کچھ لوگ لڑ جھگڑ کر اپنا کتھارسس کرتے ہیں۔ اگر آپ کا دوست، بہن یا بھائی معمولی سی بات پر افسردہ ہو جاتا ہے اور رونا شروع کر دیتا ہے، تو اس کا مذاق مت اڑائیں۔ یہ اس کا طریقہ کتھارسس ہے کہ وہ اپنے اندر کی گھٹن کا اظہار اس طریقے سے کرتا ہے۔ اس کو کرنے دیں۔ ہو سکے تو اس سے ہمدردی کریں اور پیار اور نرمی کے الفاظ استعمال کریں تاکہ وہ اپنی اندر کی جذباتی گھٹن سے نجات حاصل کر سکے۔

والدین اکثر اپنے بچوں کی جذباتی کیفیات سے لاعلم ہوتے ہیں۔ بچوں کے زیادہ سونے پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان کے موسیقی کو پسند کرنے پر اعتراض کرتے ہیں۔ شاعری سننے اور لکھنے پر اعتراض کرتے ہیں۔ یہ اعتراضات ان میں جذبات کے دباؤ کا باعث بنتے ہیں۔

اگر آپ نے بچپن سے بچے کو نماز اور تلاوت قرآن کا پابند نہیں بنایا تو اب فوری طور پر اس بچے سے یہ امید کیوں کہ وہ میوزک چھوڑ کر قرآن کی تلاوت سنے۔ اسے وقت دیں۔ اس کے کتھارسس کو مت روکیں۔

کیوں کہ جب کوئی چیز عرصہ دراز تک ڈھانپ کر رکھی جاتی ہے تو وہ اپنی کیمیائی توڑ پھوڑ کا شکار ہو کر زہر میں بدل جاتی ہے۔ پھر اس کا ضائع کر دینا مجبوری بن جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح چھپے ہوئے جذبات، ڈری سہمی سوچ، زہر بن جاتی ہے۔ اس زہر کو ختم کرنے کا راستہ ڈھونڈیں نہ کہ اسے چھپا کر کسی کی موت کا ذریعہ بنا دیں۔

نفسیات بتاتی ہے کہ اگر ذہنی سکون موسیقی سے وابستہ ہے تو یہ زیادہ عرصہ نہیں چلے گا۔ موسیقی کے بعد اگلا مرحلہ خاموشی کا آتا ہے۔ اور خاموشی میں ہی انسان اپنی ذات کے متعلق سوچتا ہے۔ اور اللہ کی طرف راغب ہوتا ہے۔

ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان تمام مراحل سے گزرنے والے انسان کو اکیلا نہ چھوڑا جائے۔ اسے نصیحتیں نہ کی جائیں۔ صرف اس کو سنیں۔ اور اسے ذہنی کتھارسس کرنے دیں۔

آپ کا ساتھ اور مدد بگڑی ہوئی جذباتی کیفیت کو خود کشی کی سوچ تک پہنچنے سے روک سکتا ہے۔

Author

Related Articles

Back to top button