ہمیں سچے لوگ اچھے نہیں لگتے / کے بی فراق
ہمیں سچے لوگ اچھے نہیں لگتے
ہم ایک ایسے کردار کے متمنی ہیں
جو ایک دوسرے میں خود کو تلاشنے لگتے ہیں
اور اس تلاش کے عمل میں
دھیان میں صرف وہی کچھ اچھا لگتا ہے
جو اِن دنوں زندگی کی معمول میں، معمول بنا ہوا ہے
اور اس میں معمول دیکھنا، کیا گُنی آدمی ہے
اس میں گُن ہی گُن ہیں
اور ساتھ کھڑا کوئی کہہ جاتا ہے
اس میں گڑز بہت ہیں
کیا خوبی کا مالک ہے
ہر ایک کے ساتھ ایڈجسٹ کرتا ہے
اُسے دیکھنا
کل مالک کے ساتھ تھا
اور آپشن کے طور پر حمل کو بھی ایڈجسٹ کیا
یار! انھوں نے تو بھوتانی کے ساتھ بھی چلنے میں عار محسوس نہیں کی
ابھی ابھی تو بلیدی کے ساتھ بھی سانٹھ گانٹھ کرکے خوش ہے
مولانا نے کیا گناہ کیا، یہ بھی تو اپنا بندہ ہے
جس طرح بندگی کرنے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں
اور اس کی بندگی ہم کیوں نہ کریں
اس بیچ، ماہ رنگ، سمی اور صبیحہ کی جے جے کار میں آگے دِکھتے ہیں
اور مقام و شناخت میں غلطاں رہتے ہیں
تریشنکو آج ہوتا تو مارے لجا کے منہ چھپائے پھرتا کہ
یہ تو مجھ سے بھی دو دو ہاتھ آگے نکل گئے
اور میں نے تو محض ایک شناخت سے محرومی کے سبب
اور ایک چہرہ اوڑھ لیا
یہاں تو لائن لگ گئی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا
کیا راجا کیا پرجا، بس گُن گان کیے جا رہے ہیں۔
کیونکہ یہ زمانہ ہی مابعد کا زمانہ ہے
اور نیو لبرل نیو کانز کے ہاں جنگیں جنگیں نہیں اور نہ ہی انسانی المیہ اور ہلاکتیں ہیں
یہ کیول پروجیکٹ ہیں اور ان کے اوپر تعمیر کا عمل جاری رکھنا ہے بس،
چونکہ یہ مابعد سچائی کا عہد ہے
اور اس عہد میں سب کچھ التواء میں چلا گیا
کیا سچ
کیا جہد
کیا انصاف
کیا قربانی
کیا شہادت
کیا لاپتا افراد کا غم اور لاپتا ہونا
کیا وفاداری
اور کیا آزادی
کیونکہ آزادی کے اعتبار بھی محض اپنی زبان میں لکھنے سے باور کرایا گیا بقولِ شخصے
لیکن اپنی زبان میں جتنی چاہے بوٹ پالشیہ بنے رہیں
اس میں آپ کو اپنی زبان کی رعایت حاصل ہے
اور اس رعایت کے پیچھے زبان کا استحصال کریں یا قوم کو التواء میں رکھیں
اس لیے رائے جب بدیسی زبان میں استعمار سے آنکھیں ملاتی ہیں
اور دکھ جھیلتی ہیں
تو اس مابعد سچائی کے عہد میں
وہ لوگ جانے کیسے گنجائش نکال پاتے ہیں
اور پھر مابعد جہد کے اس گھمبیرتا میں
بینیفیشری بنتے ہیں
اور ثوابِ دارین حاصل کرتے ہیں




