بلاگ

ہیرے چوری ہو گئے ! / ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

شام ڈھل رہی تھی ، ننھی ماہم سو رہی تھی ، کمرے میں اندھیرا پھیل رہا تھا اور ہم گم سم ، سر تھامے ایک کرسی پہ بیٹھے تھے ۔

سمجھ سے باہر تھا کہ یہ سب کیسے ہوا ؟ کیوں ہوا ؟
پاس ہی سوٹ کیس کھلا پڑا تھا ، میز پہ پڑے دو ٹکٹس نظر آ رہے تھے۔ ہمیں صبح تیزگام پہ حیدرآباد روانہ ہونا رھا جہاں صاحب سول ایوی ایشین ٹریننگ انسٹیوٹ میں ائیر ٹریفک کنٹرولر کورس کر رہے تھے اور ہم نشتر ہسپتال ملتان سے چھٹی لے کر کچھ ہفتوں کے لیے ان کے پاس جا رہے تھے ۔

کاش یہ سب نہ ہوا ہوتا ۔ ہم کس قدر خوش تھے ، وہ وارڈ میں سب کو ہنس ہنس کر بتانا کہ صبح روانگی ہے ، تب ہی شاید کسی کی نظر لگ گئی ۔

پھر واپسی میں بینک جا کر سارا مال ومتاع نکلوانا، کئی مہینوں کی بچت کے بعد بیس ہزار جمع ہوئے تھے کہ تنخواہ ہی ساڑھے چھ ہزار تھی ۔ بیس ہزار میں سے سات ہزار جیولر کو دے کر حساب بے باق کیا کہ کانوں کے ٹاپس بنوائے تھے اور بقیہ تیرہ ہزار زاد راہ تھا ، وہاں شاپنگ کرنے کے منصوبے … سب مٹی ہوئے ..

آنکھوں میں بار بار آنسو آتے جنہیں ہم پی لیتے .. آخر کس کو سنائیں اپنی بے وقوفی کی داستان کہ ڈاکٹر طاہرہ لٹ گئیں .. ملتان پردیس جیسا ہی تو تھا ۔

یک دم خیال آیا .. ایک ہستی ایسی ہے جو ہمیں ڈانٹے گی نہ کوسے گی بلکہ آنسو پونچھے گی ، تسلی دے گی اور ہاتھ پکڑ کر پھر سے کھڑا کرنے کی کوشش کرے گی ..

باجی .. باجی .. باجی .. کہاں ہیں آپ ؟

باجی سے بات کرنی ہے ، طے ہو گیا ..لیکن پی سی او جانا پڑے گا .. لینڈ لائن لگوائی نہیں تھی اور موبائل فون .. ؟ دور دور تک نام و نشان نہیں تھا ۔

پنڈی فون کیا .. باجی کی آواز سنتے ہی دل بھر آیا .. باجی .. چوری ہو گیا ، سب کچھ چوری ہو گیا ..
وہ ہک دک رہ گئیں ..
کیسے ؟
کیا کچھ ؟
کون لے گیا ؟
انگوٹھیاں تھیں کافی ..
کون کون سی ؟
ایک شادی پہ قمر نے دی تھی ، ایک فرزانہ نے .. ایک ہیرے کی منہ دکھائی والی .. ہم نے یاد کرتے ہوئے کہا ..
وہ جو تم نے خود خریدی تھی ، سونے کی انگوٹھی بیچ کے .. باجی نے تصیح کی ..
جی .. وہی ..
اچھا اور کیا تھا ..
ٹاپس تھے .. سہیلی فرحت نے شادی پہ دیے تھے .. ایک سورج مکھی جیسے تھے وہ تو آج ہی جیولر سے لیے تھے .. ایک دو اور بھی تھے ..
اور ؟
وہ .. وہ چین اور لاکٹ .. شادی کاتحفہ انکل نے دیا تھا ..
اور ..
اور وہ ہیرے کا سیٹ .. ہماری آواز بھرا گئی ..
وہ .. وہ جو تم نے چوڑیاں بیچ کر کیا تھا .. باجی کی افسردہ سی آواز آئی ..
اوہ .. بڑا نقصان ہو گیا ..
جی .. ہم نے ہلکی آواز میں اسکی بھری ..
سنو میری بہن .. غم نہ کرو .. اللہ نے تمہاری زندگی محفوظ رکھی … تم ٹھیک ، تمہاری بچی ٹھیک .. باقی سب آنا جانا.. دل سے نہیں لگانا کسی بھی بات کو .. بس سمجھو ، ان چیزوں کا اور تمہارا ساتھ یہی تک تھا .. اور دیکھنا .. اللہ تمہیں اور دے گا ..
باجی .. ساتھ میں تیرہ ہزار روپے بھی تھے .. ہم نے بھرائی آواز میں کہا ..
کیا کروں ؟
کیا کر سکتے ہیں .. چوری ہو گئی .. چور سے آدھے گھنٹے کی ملاقات ہے .. ایک عام سی عورت .. نام معلوم نہ پتا .. اور میں جانتی ہوں تم نے شکل بھی غور سے نہیں دیکھی ہوگی ۔ سو کیا بتائیں کہ ایک عورت تھی … سب کچھ لے گئی ..
ان دنوں سی سی ٹی وی کیمرے تو تھے نہیں کہ کچھ clueانہی سے ملتا ..
اور سنو .. یاد ہے امی کا زیور بھی چوری ہوا تھا .. کبھی دیکھا امی کو ذکر کرتے ہوئے .. ہمیشہ کہتی ہیں .. ہو گیا نقصان ، اب کیا اسے جی کا روگ بنا لیں ..
باجی کی بات سن کر ہمیں امی کا طرزعمل یاد آگیا ۔ ہماری ماں بڑے سے بڑا نقصان بہت آرام سے جھیل لیتیں تھیں ۔
بس ٹھیک ہے .. ہم بھی ایسا ہی کریں گے .. بے شک یاد آئے گا ہیرے کا سیٹ کہ ابھی جی بھر کے پہنا کہاں تھا ..لیکن پرواہ نہیں .. جیب نے اجازت دی تو پھر کبھی خرید لیں گے ..

کچھ آنسو آنکھوں سے نکلے اور بس ..
ہمارے غمزدہ دل پہ باجی نے تسلی کا پھاہا رکھ دیاتھا ..
لیجیے جناب ، ہم سب بھول بھال گئے صبح حیدرآباد روانہ ہو گئے اور وہاں خوب مزے کیے .. ہنستے مسکراتے .. گھومتے پھرتے ..کسی کو شک نہیں ہونے دیا کہ کتنے بڑے نقصان کا بوجھ پلو میں بندھا ہے ۔
بہت برسوں کے بعد ہم نے ایک ایسی دوست کو یہ قصہ سنایا جن کے صاحب بھی ہمارے صاحب کے ساتھ کورس کر رہے تھے ۔ فوجی لوگ پڑھنے چلے جاتے اور بیگمات ہر دن کو عید کی طرح مناتیں ۔
قصہ سن کر ہماری دوست نے انگلیاں دانتوں تلے داب لیں .. کمال ہے ، اتنا بڑا نقصان اور سطح آب پرسکون ..

ہم نے ہنس کر کہا .. یہ باجی کا کمال تھا .. انہوں نے مثال ہی ایسی دی تھی …
یہ قصہ ان لوگوں کے لیے لکھاگیا ہے جو مالی نقصان کو سر پہ سوار کر لیتے ہیں ۔
اور ہاں یہ پہلی چوری تھی ، آخری نہیں … اگلی کا قصہ اگلی بار !

Author

Related Articles

Back to top button