غزہ میں پانچ اسرائیلی فوجی ہلاک، جنگ بندی کی کوششیں جاری/ اردو ورثہ

اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی کے لیے قطر میں بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے بعد شمالی غزہ میں لڑائی کے دوران پانچ اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق تازہ ترین ہلاکتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب 22 ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کی میزبانی کرکے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق شمالی غزہ میں لڑائی میں دو فوجی ہلاک ہوئے جبکہ اسی واقعے میں تین دیگر ہلاک اور دو شدید زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جایا گیا ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ ہلاکتیں گذشتہ ہفتے دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ہوئی ہیں جو بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہو گئے۔ جاری مذاکرات کے باوجود جھڑپیں اور اسرائیل کے فضائی حملے جاری ہیں جس سے امن کی کوششوں مزید مشکل ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی رات واشنگٹن میں نتن یاہو سے ملاقات کی، جس میں سیزفائر اور قیدیوں کی رہائی کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔
امریکہ نے 60 روزہ سیز فائر کی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت حماس اسرائیلی حراست میں قید فلسطینی قیدیوں کے بدلے 10 زندہ قیدی اور متعدد لاشیں واپس کرے گی۔
ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اس ہفتے دوحہ مذاکرات میں شرکت کریں گے تاکہ معاہدے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
’وہ سیزفائر چاہتے ہیں‘
وائٹ ہاؤس میں عشائیہ کے موقعے پر ٹرمپ نے امید کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ملنا چاہتے ہیں اور وہ یہ سیز فائر چاہتے ہیں۔‘
دریں اثنا نتن یاہو نے غزہ پر سکیورٹی کنٹرول پر قائم رہتے ہوئے ایک مکمل فلسطینی ریاست کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسے مکمل ریاست نہیں سمجھا جاتا تو ’ہمیں اس کی پروا نہیں‘ ہے۔
برکس: برازیلی صدر کی غزہ میں ’نسل کشی‘ کے خاتمے کے لیے عالمی اقدامات کی اپیل pic.twitter.com/EtOgKmXaiM
— Independent Urdu (@indyurdu) July 6, 2025
غزہ میں اموات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وزارت صحت نے پیر کو مزید 12 فلسطینیوں کی موت کی اطلاع دی، جن میں سے چھ اموات بے گھر شہریو ں کو پناہ دینے والے کلینک میں ہوئیں۔
صحت کے حکام کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 57،523 فلسطینی جان سے گئے۔
49 قیدیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے وہ اب بھی غزہ میں ہیں، جن میں سے 27 کی اسرائیلی افواج کے ہاتھوں ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، امیدیں اب امریکہ کی ثالثی میں سفارت کاری سے وابستہ ہیں۔
ٹرمپ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ’اولین ترجیح‘ جنگ کا خاتمہ اور قیدیوں کی واپسی کو یقینی بنانا ہے۔ لیکن دونوں طرف سے کوئی پیش رفت غیر یقینی ہے۔




