اُردو ادباُردو شاعرینظم
بے سبب لمحوں کی نظم /سیف علی
ہم سفر میں رہے اور لوٹے تو قبروں سے
نام و نشاں مٹ گئے
ہم نے خانہ بدوشی میں گھر کے سبھی
راستے بھولنے کی جسارت تو کی
پھر بھی ناکامیوں سے الجھتے ہوئے
مات کھا ہی گئے
کس قدر کرب ہے
در کھلا ہے مگر ۔۔۔۔۔۔
گھر تو ہے ہی نہیں
ہم مقفل حویلی میں جلتے ہوئے
وہ دیے ہیں جنہیں
آندھیاں بھی بجھانے سے قاصر رہیں
تب ہمارے یقیں اور پختہ ہوئے
ہم کسی کھیل کے چھوٹے کردار ہیں
جن کے ہونے نہ ہونے سے کیا فرق ہے




