
تباہی تو کافی عرصے سے چل رہی تھی۔ اتنے عرصے میں صرف چند لمحات سکون کے رفح میں نصیب ہوئے تھے۔ یہاں پر خوشی صرف عروسی لباس پہننے والے دو جوڑوں کی نہیں تھی بلکہ خوشیوں کے یہ لمحات گزارنے والے کئی لوگ تھے — اپنے ہی وطن سے دھتکارے ہوئے، اپنے ہی وطن سے راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور، اپنے ہی لوگوں کی کٹی پھٹی لاشیں اٹھائے رفح پہنچے، سکون کی آس میں بھٹکتے ہوئے۔
رفح میں جمعہ کی ایک روشن اور خوشیوں سے لبریز صبح کی کرن اپنے ساتھ خوشیوں کا پیغام لے کر آئی تھی۔ ایسے مواقع پر مختلف انواع و اقسام کے پکوان تیار کیے جاتے ہیں، مگر یہ شادی اس طرح کی شاہ خرچی سے خالی تھی۔ شادی میں شریک لوگوں نے اپنے روایتی رقص پیش کیے۔ لوگ بہت خوش نظر آ رہے تھے۔ عروسی لباس زیب تن کیے ہوئے دلہا دلہن بھی بہت خوش نظر آ رہے تھے۔
عبداللہ ابو نحل اور مریم دیب کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ دونوں تو اس لمحے کے انتظار میں تھے کہ جب وہ شرعی طور پر ایک دوسرے کے ہم سفر قرار دیے جائیں۔ نکاح پڑھا دیا گیا۔ پورا ماحول خوشی سے جگمگا اٹھا۔ سب اس بات سے بے خبر تھے کہ کچھ ہی وقت بعد ایک اندوہناک حادثہ اپنے ساتھ بہار کا یہ موسم اڑا لے جائے گا اور خزاں کی تیز ہواؤں کا سایہ چھوڑ جائے گا۔
اسی رات، جب وہ سب اپنی جانوں کو اللہ کے سپرد کیے سو رہے تھے، اچانک ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی۔ لوگ اپنے خیموں سے نکل کر بھاگے، اور پھر دھماکوں پر دھماکے۔۔۔ ہر طرف دکھ اور وحشت کی لہر دوڑ رہی تھی۔
خدا نے اب تک اس جوڑے کو سلامت رکھا تھا، لیکن مریم اور عبداللہ پر کٹھن مرحلہ تب ظاہر ہوا جب یہ خبر ملی کہ ان کے خاندان کے چھ افراد شہید ہو چکے ہیں، اور تین افراد موت اور زندگی کی جنگ میں سسک رہے ہیں۔ ان دونوں کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔ خوف و ہراس کا منظر ایسا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔
اسی طرح ہر روز ہزاروں لوگ اپنے آخری ٹھکانے کی طرف کوچ کر جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شہادت کی آرزو لیے پیدا ہوتے ہیں، اور اپنے دین اور اپنے نظریے کی خاطر اپنی جانیں لٹا دیتے ہیں۔ اور ایسے مجاہدوں کے لیے ہماری سوچ کمرے کے کونے سے شروع ہو کر دروازے کی چوکھٹ پر ختم ہو جاتی ہے۔




