نظم

ہمارے جھنڈے کا رنگ سبز ہے /نجمہ منصور

نظم /بنیان مرصوص

نجمہ منصور

ایک سپاہی جب اپنی مٹی کی محبت میں
سرحد پر سینہ تان کر کھڑا ہوتا ہے، تو وقت تھم جاتا ہے —
نہ وہ وقت کو گنتا ہے، نہ زندگی کو۔
وہ ایک علامت بن جاتا ہے —
وفا ، دعا اور قربانی کی

میں نے دیکھا ہے —
ماں دھرتی کی محبت جب ان سپوتوں کی آنکھوں میں اُترتی ہیں
تو بارود کی بارش میں بنیان مرصوص بن جاتی ہے۔
اورمیں نے یہ بھی سنا ہے —
کہ جب ماؤں کے ہاتھ دعاؤں کے لیے اٹھتے ہیں
تو کہیں نہ کہیں،
ایک چٹان اپنا سینہ تان لیتی ہے۔

ہمارے جھنڈے کا رنگ سبز ہے،
یہ اس درخت کی مانند ہے
جو خزاں میں بھی چھاؤں بانٹتا ہے —
جو ہر زخم پر
مرہم رکھ دیتا ہے
کہ درد دھوپ بن کر نہ چمکے۔
سنو!
ہم سپاہی نہیں —
ہم دیواریں نہیں —
ہم وہ شعور ہیں
جو نیند کے دریچوں میں بھی جاگتا ہے
سرحد صرف ایک لکیر نہیں،
یہ وہ دعا ہے
جو دھرتی ماں کے ماتھے پر
ایک ہلال کی صورت چمکتی ہے
اور جب دشمن کی آنکھ
اس پر ٹھہرتی ہے،
تو وہ آنکھ خود بخود اندھی ہو جاتی ہے۔

ہم جنگ نہیں چاہتے،
لیکن اگر امن کی راہ
خون مانگے،
تو ہم اپنے لہو کو خاموشی سے
ایک چراغ کی صورت جلاتے ہیں —
بغیر کسی ڈر کے، بغیر کسی اعلان کے ۔

یاد رکھو:
ہم ہی وہ "بنیانِ مرصوص” ہیں
جو صرف دیوار یا پتھر نہیں
بلکہ ایک نظریہ ہے —
وہ نظریہ جو ایک فرد کو قوم
اور قوم کو چٹان بناتا ہے !!

تعارف ۔۔

نجمہ منصور

نجمہ منصور ۹نومبر ۱۹۶۶ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئیں۔ ۱۹۸۰ء میں میٹرک گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول سرگودھا سے کیا اور ایم۔اے تاریخ اور ایم۔اے ایجوکیشن کی ڈگری بھی حاصل کی۔
نجمہ منصور بنیادی طور پر نثری نظم کی شاعرہ ہیں شاعری کا آغاز کالج دور سے ہوا۔ پہلی کتاب 1990 میں شائع ہوئی مگر ان کا علمی و ادبی سفر صرف شاعری تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ ایک بہترین ریسرچ اسکالر کے طور پر بھی اپنی ایک الگ پہچان رکھتی ہیں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہی ہیں ان کی ایک کتاب ،، اگر نظموں کے پر ہوتے ،، کا ترجمہ انگریزی زبان میں بھی ہو چکا ہے۔ ان کی تقریباً دو درجن کے لگ بھگ کتابیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں ۔۔۔

Author

Related Articles

Back to top button